حدیث نمبر: 2133
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ - وَهُوَ الَّذِي قَالَ : " فِي بَيْتِهِ " فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے تنہا نماز ادا کرنے پر ، بیس سے زیادہ درجہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پچیس درجہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ سب درجات اس کی نماز کی مانند ہوں گے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ان میں سے ہر ایک اس کے اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی مانند ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے ہی یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کے اپنے گھر میں “ انہوں نے یہ الفاظ معجم کبیر میں نقل کیے ہیں ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے ہی یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کے اپنے گھر میں “ انہوں نے یہ الفاظ معجم کبیر میں نقل کیے ہیں ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2134
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى الْوَاحِدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جس میں پچیس درجہ کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2135
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ - أَوْ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ - خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جماعت کے ساتھ نماز کو تنہا نماز ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آدمی کے اکیلے نماز ادا کرنے پر پچیس گنا فضیلت حاصل ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2136
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ ، وَمَا بَيْنَ الْفَذِّ وَالْجَمَاعَةِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالی اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو صفیں ملاتے ہیں ، اور تنہا اور جماعت کے ساتھ ( نماز ادا کرنے ) کے درمیان پچیس درجہ کا فرق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2137
وَعَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ صَلَاتَهُ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے اکیلے نماز ادا کرنے پر پچیس درجہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2138
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَلَاةُ الْجَمِيعِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ سَهْمًا ؛ أَيْ صَلَاتَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا آدمی کے اکیلے نماز ادا کرنے پر چوبیس درجہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی اس کی نماز پچیس گنا ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2139
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا آدمی کے اکیلے نماز ادا کرنے پر پیچیں درجہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن منصور ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن منصور ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2140
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَعْجَبُ مِنَ الصَّلَاةِ فِي الْجَمْعِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالی با جماعت نماز ادا کرنے پر خوش ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2141
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْجَبُ مِنَ الصَّلَاةِ فِي الْجَمِيعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالی با جماعت نماز پر خوش ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2142
وَعَنْ قَبَاثَ بْنِ أَشْيَمَ اللِّيثِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ صَلَاةِ أَرْبَعَةٍ تَتْرَى ، وَصَلَاةُ أَرْبَعَةٍ يَؤُمُّ أَحَدُهُمْ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ صَلَاةِ ثَمَانِيَةٍ تَتْرَى ، وَصَلَاةُ ثَمَانِيَةٍ يَؤُمُّ أَحَدُهُمْ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مِائَةٍ تَتْرَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قباث بن اشیم لیتی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دو آدمی یوں نماز ادا کریں کہ ان میں سے ایک دوسرے کی امامت کر رہا ہو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک چار افراد کے الگ ، الگ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور چار آدمیوں کا یوں نماز ادا کرنا کہ ان میں سے کوئی ایک امامت کر رہا ہو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آٹھ آدمیوں کے الگ الگ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور آٹھ آدمیوں کا یوں نماز ادا کرنا کہ ان میں سے کوئی ایک امامت کر رہا ہو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک سو افراد کے الگ الگ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2143
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولَانِ : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ خُطْبَتِهِ يَقُولُ : " إِنَّ مَنْ حَافَظَ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ الْمَكْتُوبَاتِ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ اللَّامِعِ ، وَحَشَرَهُ اللَّهُ فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ ، وَكَانَ لَهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ حَافِظٌ عَلَيْهِنَّ كَأَجْرِ أَلْفِ شَهِيدٍ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ فرماتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری خطبے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص یہ پانچ فرض نمازیں جماعت کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتا رہے گا وہ پل صراط پر سے پہلے گزرنے والے افراد میں شامل ہو گا ، جو بجلی کے چکنے کی طرح گزریں گے اور اللہ تعالیٰ اس کا حشر پیروی کرنے والوں کے پہلے گروہ میں کرے گا ، اور ان ( نمازوں ) کی حفاظت کرنے والے شخص کو دن اور رات میں ایک ہزار شہیدوں کی مانند اجر ملے گا جنہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا گیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے اس روایت کو عنعنہ کے طور پر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے اس روایت کو عنعنہ کے طور پر نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2144
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ رِجْلَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ کل وہ مسلمان ہونے کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو تو اسے پانچ نمازوں کو باقاعدگی سے ادا کرنا چاہیے جب ان کے لئے اذان دے دی جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں رجلہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو عبدالکریم کی کنیز ہے ، اس کے حوالے سے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے میں نے ان دونوں ( یعنی رجلہ اور اس کے مالک عبدالکریم ) کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں رجلہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو عبدالکریم کی کنیز ہے ، اس کے حوالے سے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے میں نے ان دونوں ( یعنی رجلہ اور اس کے مالک عبدالکریم ) کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔