حدیث نمبر: 2121
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَإِنْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ صَلَّتْ عَلَيْهِ وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب بندہ نماز کے بعد جائے نماز پر بیٹھا ہوتا ہے ، تو فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں ، اور فرشتوں کی اس کے لئے دعائے رحمت یہ ہوتی ہے اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے اور اگر آدمی نماز کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوتا ہے ، تو فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ، اور ان کی اس شخص کے لئے دعا یہ ہوتی ہے : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس پر رحم فرما “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، تاہم وہ عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، تاہم وہ عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 2122
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ وَإِعْمَالُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ يَغْسِلُ الْخَطَايَا غَسْلًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَزَادَ الْبَزَّارُ فِي أَوَّلِهِ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا "، وَزَادَ فِي أَحَدِ طَرِيقَيْهِ رَجُلًا وَهُوَ أَبُو الْعَيَّاسِ غَيْرُ مُسَمًّى وَقَالَ : إِنَّهُ مَجْهُولٌ ، قُلْتُ : أَبُو الْعَيَّاسِ بِالْيَاءِ الْمُثَنَّاةِ آخِرَ الْحُرُوفِ وَالسِّينِ الْمُهْمَلَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدم اٹھا کر مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا گناہوں کو دھو دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ؟ “ اور انہوں نے اس کی دو اسناد میں ایک شخص کا ذکر اضافی کیا ہے ، اور وہ ابوالعباس ہے وہ فرماتے ہیں : یہ مجہول ہے میں یہ کہتا ہوں : یہ لفظ ابوالعیاس ہے ، جس میں ” ی “ ہے ، اور ” س “ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ؟ “ اور انہوں نے اس کی دو اسناد میں ایک شخص کا ذکر اضافی کیا ہے ، اور وہ ابوالعباس ہے وہ فرماتے ہیں : یہ مجہول ہے میں یہ کہتا ہوں : یہ لفظ ابوالعیاس ہے ، جس میں ” ی “ ہے ، اور ” س “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2123
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ كَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى كَشْحِهِ وَهُوَ فِي الرِّبَاطِ الْأَكْبَرِ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا شخص اس گھڑ سوار کی مانند ہے ، جس کا گھوڑا اس کو اپنی پشت پر سوار کر کے اللہ کی راہ میں دوڑتا ہے ، اور یہی بڑی پہرہ داری ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن سلیمان قرشی ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن سلیمان قرشی ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2124
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي الصَّلَاةِ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ" فَقُلْتُ لَهُ : مَا يُحْدِثُ ؟ قَالَ : كَذَا قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ : "يَفْسُو أَوْ يَضْرُطُ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ اخْتِلَافٌ . ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُغْرِبُ ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک وہ جائے نماز پر بیٹھا ہوا نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس پر رحم کر جب تک وہ بندہ وہاں سے اٹھ نہیں جاتا یا اسے حدث لاحق نہیں ہو جاتا “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : حدث لاحق ہونے سے مراد کیا ہے ، تو استاد نے جواب دیا : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ آواز کے بغیر یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2125
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِكَفَّارَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا ضَعِيفَانِ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں گناہوں کا کفارہ بننے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طبیعت پر ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ( تیاری یا پہرہ داری ) ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام بزار کے استاد خالد بن یوسف سمتی نے اپنے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام بزار کے استاد خالد بن یوسف سمتی نے اپنے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2126
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ كَفَّارَاتُ الذُّنُوبِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قدموں پر چل کر با جماعت نماز کی طرف جانا گناہوں کا کفارہ ہے سردی میں اچھی طرح وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ( بھی گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر ملیکی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر ملیکی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2127
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرُّؤْيَا بُشْرَى مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَهِيَ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَإِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ سَمُومِ جَهَنَّمَ، وَإِنَّ مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ، وَمَنْ عَقَبَ الصَّلَاةَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَرَضِيَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُغْرِبُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں ، اور یہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک ہیں ، اور تمہاری آگ جہنم کی تپش کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ، جو شخص مسجد میں آتا ہے ، اور نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک اسے حدث لاحق نہیں ہو جاتا اور جو شخص ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک اسے حدث لاحق نہیں ہوتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے ، اور وہ متروک ہے ابوحاتم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ہے ، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ۔ یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے ، اور وہ متروک ہے ابوحاتم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ہے ، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ۔ یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2128
وَعَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ بَنِيَ سَلَمَةَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَأَكَلَ، ثُمَّ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمُكَفِّرَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ فِيهِمْ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
بیعت کرنے والی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی ) خواتین میں سے ایک خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے ساتھ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے آپ کے اصحاب بھی تھے ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا آپ نے کھانا کھایا پھر ہم نے آپ کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا آپ نے وضو کیا پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں گناہوں کا کفارہ بننے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ ساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال میں ایک شخص ایسا بھی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال میں ایک شخص ایسا بھی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2129
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيُكَفِّرُ بِهِ الذُّنُوبَ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْكَرِيهَاتِ - الْمَكْرُوهَاتِ - وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَهُوَ الرِّبَاطُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَلَهُ رِوَايَةٌ بِنَحْوِ هَذَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ بَدَلَ : " فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " " فَتِلْكَ رِبَاطُ الْجَنَّةِ " وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ فِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَأَخْرَجَ لَهُ فِي صَحِيحِهِ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَإِسْنَادُ الثَّانِي فِيهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ الصَّبَّاغُ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ وَقَالَ الْبَزَّارُ : صَالِحُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ، اور اس کے ذریعے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، یہی رباط ( یعنی تیاری یا پہرہ داری ) ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے کے حوالے سے ایک اور روایت بھی منقول ہے ، جو اس کی مانند ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ ” یہی رباط ہے “ کی جگہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ جنت کا رباط ( یعنی تیاری ) ہے “ ۔ پہلی روایت کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، اور وہ جمہور کے نزدیک ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” التفات “ میں کیا ہے انہوں نے اپنی ” صحیح “ میں اس کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے دوسری روایت کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون صباغ ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان اور ابو أحمد بن عدی نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے امام بزار فرماتے ہیں : یہ صالح الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے کے حوالے سے ایک اور روایت بھی منقول ہے ، جو اس کی مانند ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ ” یہی رباط ہے “ کی جگہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ جنت کا رباط ( یعنی تیاری ) ہے “ ۔ پہلی روایت کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، اور وہ جمہور کے نزدیک ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” التفات “ میں کیا ہے انہوں نے اپنی ” صحیح “ میں اس کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے دوسری روایت کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون صباغ ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان اور ابو أحمد بن عدی نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے امام بزار فرماتے ہیں : یہ صالح الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 2130
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : طَعِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ الْعَبَّاسِ أَوْ فِي بَيْتِ حَمْزَةَ فَقَالَ : " لَيَتَخَوَّضَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ لَا يَكُنْ لَهُمْ حَظٌّ غَيْرُهُ ، وَكَفَّارَاتُ الْخَطَايَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں یا شاید سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں کھانا کھایا اور ارشاد فرمایا : ” میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اس چیز کے بارے میں غور و فکر کر رہے ہیں ( یعنی اس مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں ) جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر عطا کیا ہے ، اُن لوگوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے ، اور گناہوں کا کفارہ ( یہ کام ہیں : ) اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند صحیح ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 2131
وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَالَ : مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدْ تَرَدَّى فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ شَيْئًا فَعَلَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْنَا : بَلَى قَالَ : فَإِنَّهُمْ صَلَّوْا مَعَهُ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسُوا فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " مَا بَرِحْتُمْ بَعْدُ ؟ " قَالُوا : لَا قَالَ : " لَوْ رَأَيْتُمْ رَبَّكُمْ فَتَحَ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَأَرَى مَجْلِسَكُمْ مَلَائِكَتَهُ يُبَاهِي بِكُمْ وَأَنْتُمْ تَرْقُبُونَ الصَّلَاةَ " . ¤ قُلْتُ : لِمُعَاوِيَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِيمَنْ جَلَسَ يَذْكُرُ اللَّهَ وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرَوَاهُ أَيْضًا مِنْ رِوَايَةِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا وَأَبُو أُمَيَّةَ الثَّقَفِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوامیہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز کے وقت نکلے اور انہوں نے فرمایا : تم لوگ اپنی نماز کی جگہ پر رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں پھر وہ ہمارے پاس تشریف لائے جب انہوں نے عصر کی نماز ادا کر لی تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو اللہ کے رسول کے اصحاب نے کی تھی ہم نے عرض کی : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی ( یعنی ظہر کی ) نماز ادا کی پھر وہ حضرات بیٹھے رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا : کیا تم اس کے بعد اسی حالت میں ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش کہ تم اپنے پروردگار کو دیکھتے کہ اس نے آسمان سے دروازہ کھولا اور فرشتوں کو تمہارا بیٹھنا دکھایا اور تم پر فخر کا اظہار کیا جب کہ تم نماز کا انتظار کر رہے تھے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتا ہے ، اس میں نماز کا انتظار کرنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اسے ابوامیہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے اس کے چچا سے نقل کیا ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ابوامیہ ثقفی نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو بھی نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اسے ابوامیہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے اس کے چچا سے نقل کیا ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ابوامیہ ثقفی نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو بھی نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2132
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ يَبْلُغُ بِالْحَدِيثِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الطَّهَارَةِ أَحَادِيثُ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ تَدُلُّ عَلَى فَضِيلَةِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي التَّعْيِينِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے کوئی ایک شخص مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک نماز نے اسے روکا ہوا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے طہارت سے متعلق باب میں اچھی طرح وضو کرنے سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں جو نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ، اور تعیین سے متعلق باب میں کچھ احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے طہارت سے متعلق باب میں اچھی طرح وضو کرنے سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں جو نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ، اور تعیین سے متعلق باب میں کچھ احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔