کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین کا مساجد کی طرف جانے کے لئے یا کسی اور کام کے لئے نکلنا اور ان کا اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا اور ان کا مسجد میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2098
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ الْمَسَاجِدَ وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو مساجد میں جانے سے منع نہ کرو البتہ وہ خوش لگائے بغیر نکلیں گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2098
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2099
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد سے منع نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2099
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2100
عَنْ سَالِمٍ قَالَ : كَانَ عُمَرُ رَجُلًا غَيُورًا فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ تَبِعَتْهُ عَاتِكَةُ بِنْتُ زَيْدٍ فَكَانَ يَكْرَهُ خُرُوجَهَا وَيَكْرَهُ مَنْعَهَا ، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَمْنَعُوهُنَّ " . ¤ وَسَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے سالم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تیز مزاج کے آدمی تھے ایک مرتبہ وہ نماز کے لئے نکلے ، تو عاتکہ بنت زید ( جو ان کی اہلیہ تھیں ) وہ ان کے پیچھے آئیں سیدنا عمر اس خاتون کے نکلنے کو ناپسند کرتے تھے ، اور اسے منع کرنے کو بھی ناپسند کرتے تھے وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے : ” جب تمہاری خواتین نماز کے لئے جانے کے لئے تم سے اجازت مانگیں تو تم انہیں منع نہ کرو “ ۔ سالم نامی راوی نے سیدنا عمر بھی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل ، مسند العشرة المبشرين بالجنة مسند الخلفاء الراشدين ، اول مسند عمر بن الخطاب رضى الله عنه ، 282»
حدیث نمبر: 2101
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَجَائِزِ أَكُنَّ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالشَّوَابُّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : " كُنَّ يُصَلِّينَ خَلْفَ مَنَاكِبِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے بوڑھی عورتوں کے بارے میں دریافت گا گیا : کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز با جماعت میں شریک ہوتی تھیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور جوان عورتیں بھی شریک ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ ہمارے پیچھے ( کھڑی ہو کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوتی تھیں “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2102
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ : أَدْرَكْتُ الْقَوَاعِدَ وَهُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَرَائِضَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ام سلمہ بنت حکیم بیان کرتی ہیں : میں نے عمر رسیدہ خواتین کو پایا ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں فرض نماز میں شریک ہوا کرتی تھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2102
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2103
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَدَاةَ ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں صبح کی نماز میں شریک ہوتی تھیں ۔ اور پھر وہ چادروں میں منہ چھپا کر نکل جاتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن عمرو بن علقمہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2104
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ فِي جِنَازَةِ قَتِيلٍ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ " . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” خواتین کی جماعت ( یا اکٹھے ہونے ) میں بھلائی نہیں ہے البتہ مسجد میں ( ان کے باجماعت نماز ادا کرنے کا ) معاملہ مختلف ہے یا کسی مقتول کے جنازے میں ( ان کے اکھٹے ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” خواتین کی جماعت ( یا اکٹھے ہونے ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے البتہ با جماعت نماز والی مسجد کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 2105
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : "خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : " خَيْرُ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي قَعْرِ بُيُوتِهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” خواتین کی مساجد میں سب سے بہتر ، اُن کے گھر کا اندرونی حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : خواتین کی سب سے بہتر نماز وہ ہے ، جو گھر کے انتہائی اندورنی حصے میں ادا کی جائے “ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2106
وَعَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ - امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ - أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلَاتُكَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي " قَالَتْ : فَأَمَرَتْ فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى بَيْتٍ فِي بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اُم حمید رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ تم میری اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہو لیکن تمہارا اپنے گھر میں نماز ادا کرنا تمہارے لئے باہر والے کمرے میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے ، اور تمہارا باہر والے کمرے میں نماز ادا کرنا تمہارے لئے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور تمہارا صحن میں نماز ادا کرنا تمہارے اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور تمہارا اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنا میری مسجد میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : سیدہ ام حمید رضی اللہ عنہا نے حکم دیا ان کے لئے گھر کے انتہائی اندرونی اور تاریک ترین حصے میں نماز کے لئے جگہ مخصوص کی گئی وہ خاتون اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک اسی جگہ پر نماز ادا کرتی تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن سوید انصاری کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2107
وَعَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ يَمْنَعُنَا أَزْوَاجُنَا أَنْ نُصَلِّيَ مَعَكَ وَنُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاتُكُنَّ فِي بُيُوتِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي حُجُرِكُنَّ ، وَصَلَاتُكُنَّ فِي حُجُرِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي دَوْرِكُنَّ، وَصَلَاتُكُنَّ فِي دَوْرِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي الْجَمَاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حمید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے شوہر ہمیں آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں ، اور ہم خواتین آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خواتین کا اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا تمہارے بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور تمہارا بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنا تمہارے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور تمہارا صحن میں نماز ادا کرنا تمہارے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2108
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي حُجْرَتِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا فِي دَارِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي دَارِهَا خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهَا خَارِجُ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا زَيْدَ بْنَ الْمُهَاجِرِ فَإِنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ لَمْ يَذْكُرْ عَنْهُ رَاوِيًا غَيْرَ ابْنِهِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کا گھر کے اندورنی حصے میں نماز ادا کرنا اس کے بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور اس کا بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنا اس کے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور اس کا صحن میں نماز ادا کرنا اس کے گھر سے باہر نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف زید بن مہاجر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ ابن ابوحاتم نے اس کے حوالے سے روایت کرنے والے کسی بھی شخص کا ذکر نہیں کیا صرف اس کے بیٹے محمد بن زید کا ذکر کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين من اسمه مقدام من اسمه مسعدة حديث 9276»
حدیث نمبر: 2109
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي حُجْرَتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي دَارِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي دَارِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِيمَا سِوَاهَا ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عورت کا اپنے گھر کے اندرونی حصے میں نماز ادا کرنا اس کے بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، اور اس کا بیرونی کمرے میں نماز ادا کرنا اس کے صحن میں نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، اور اس کا صحن میں نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کہیں ، اور نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : جب عورت ( اپنے گھر سے باہر ) نکلتی ہے ، تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2109
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2110
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ : رَأَيْتُ النِّسَاءَ الْقَوَاعِدَ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بن ابوحثمہ اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے ان خواتین کو دیکھا ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مسجد میں نماز ادا کرتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2111
وَعَنْهَا قَالَتْ : رَأَيْتُ نِسَاءً مِنَ الْقَوَاعِدِ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَرَائِضَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
اس خاتون کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتی ہیں : میں نے ان خواتین کو دیکھا ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں فرض نمازیں ادا کی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2112
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ أَبِي حَكِيمٍ أَنَّهَا قَالَتْ : أَدْرَكْتُ الْقَوَاعِدَ وَهُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ام سلیم بنت ابوحکیم بیان کرتی ہیں : میں نے ان خواتین کا زمانہ پایا ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2113
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا صَلَّتِ امْرَأَةٌ فِي مَوْضِعٍ خَيْرٌ لَهَا مِنْ قَعْرِ بَيْتِهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ أَوْ مَسْجِدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا امْرَأَةً تَخْرُجُ فِي مَنْقَلَيْهَا، يَعْنِي : خُفَّيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عورت کسی بھی ایسی جگہ پر نماز ادا نہیں کرے گی جو اس کے لئے گھر کے انتہائی اندرونی حصے سے زیادہ بہتر ہو البتہ مسجد حرام یا مسجد نبوی کا معاملہ مختلف ہے البتہ اس عورت کا معاملہ مختلف ہے ، جو منتقل میں نکلتی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) یعنی موزے پہن کر نکلتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2114
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ يَحْلِفُ فَيَبْلُغُ فِي الْيَمِينِ : مَا مِنْ مُصَلًّى لِلْمَرْأَةِ خَيْرٌ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، إِلَّا امْرَأَةً قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْبُعُولَةِ وَهِيَ فِي مَنْقَلَيْهَا قُلْتُ : مَا مَنْقَلَيْهَا ؟ قَالَ : امْرَأَةٌ عَجُوزٌ قَدْ تَقَارَبَ خَطْوُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ .
محمد محی الدین
ان کے بارے میں یہ بات بھی منقول ہے : وہ حلف اٹھاتے تھے ، اور یمین کے طور پر اٹھاتے تھے کہ عورت کے لئے نماز ادا کرنے کی کوئی بھی جگہ اس کے گھر سے زیادہ بہتر نہیں ہے البتہ حج اور عمرے کا معاملہ مختلف ہے ، تاہم اس عورت کا معاملہ بھی مختلف ہے ، جو عمر رسیدگی کی وجہ سے مایوس ہو چکی ہو اور جو منقل میں چلے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اس کے منقل میں چلنے سے مراد کیا ہے ، استاد نے جواب دیا : ایسی بوڑھی عورت جو چھوٹے قدم اٹھاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2115
وَعَنْهُ قَالَ : مَا صَلَّتِ امْرَأَةٌ مِنْ صَلَاةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَشَدِّ مَكَانٍ فِي بَيْتِهَا ظُلْمَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : عورت جو بھی نماز ادا کرتی ہے ، اس میں اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر کے تاریک ترین حصے میں ادا کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2116
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ ، وَإِنَّهَا أَقْرَبُ مَا تَكُونُ إِلَى اللَّهِ وَهِيَ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عورت پردے کی چیز ہے ، جب وہ نکلتی ہے ، تو شیطان اس کی طرف جھانک کر دیکھتا ہے ، اور وہ اللہ تعالی کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے ، جب وہ اپنے گھر کے انتہائی اندرونی حصے میں ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2117
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَخْرُجُ فِي شُهْرَةٍ مِنَ الطِّيبِ فَيَنْظُرُ الرِّجَالُ إِلَيْهَا إِلَّا لَمْ تَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جب بھی کوئی عورت خوشبو لگا کر نکلتی ہے ، اور مرد اس کی طرف دیکھتے ہیں تو ایسی عورت مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی حالت میں رہتی ہے ، جب تک وہ اپنے گھر واپس نہیں آ جاتی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2118
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّمَا النِّسَاءُ عَوْرَةٌ وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا وَمَا بِهَا مِنْ بَأْسٍ، فَيَسْتَشْرِفُهَا الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ : إِنَّكِ لَا تَمُرِّينَ بِأَحَدٍ إِلَّا أَعْجَبْتِيِهِ، وَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَلْبَسُ ثِيَابَهَا فَيُقَالُ : أَيْنَ تُرِيدِينَ ؟ فَتَقُولُ : أَعُودُ مَرِيضًا أَوْ أَشْهَدُ جَنَازَةً أَوْ أُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ ، وَمَا عَبَدَتِ امْرَأَةٌ رَبَّهَا مِثْلَ أَنْ تَعْبُدَهُ فِي بَيْتِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : خواتین پردے کی چیز ہیں جب کوئی عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے ، جب کہ اسے کوئی حرج نہ ہو ، تو شیطان اس کی طرف جھانک کر دیکھتا ہے ، اور یہ کہتا ہے تم جس بھی شخص کے پاس سے گزرو گی تم اسے اچھی لگو گی ، اور جب کوئی عورت عمدہ لباس پہنتی ہے ، اور اس سے کہا: جاتا ہے تم کہاں جانا چاہتی ہو وہ کہتی ہے : میں بیمار کی عیادت کرنا چاہتی ہوں یا جنازے میں شریک ہونا چاہتی ہوں یا مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتی ہوں تو کوئی بھی عورت اپنے پروردگار کی عبادت اس کی مانند نہیں کرتی جس طرح کی عبادت وہ اپنے گھر میں کر سکتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2119
وَعَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ يُخْرِجُ النِّسَاءَ مِنَ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَقُولُ : اخْرُجْنَ إِلَى بُيُوتِكُنَّ خَيْرٌ لَكُنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن مسجد سے خواتین کو نکال رہے تھے ، اور یہ کہہ رہے تھے کہ تم نکل کر اپنے گھر چلی جاؤ یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2120
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُصَلُّونَ جَمِيعًا، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا كَانَ لَهَا خَلِيلٌ تَلْبَسُ الْقَالَبَيْنِ تَطُولُ بِهِمَا لِخَلِيلِهَا فَأَلْقَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَ فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ : أَخْرِجُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجَهُنَّ اللَّهُ . ¤ قُلْنَا لِأَبِي بَكْرٍ : مَا الْقَالَبَيْنِ ؟ قَالُوا : رَفِيضَتَيْنِ مِنْ خَشَبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین اکھٹے نماز ادا کیا کرتے تھے تو ایک عورت نے اونچی ایڑی والے جوتے بنوائے تاکہ اپنی ساتھی خاتون کے ساتھ کھڑی ہو کر اس سے زیادہ لمبی محسوس ہو ، تو اللہ تعالی نے ان عورتوں پر حیض مسلط کر دیا ۔ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان عورتوں کو نکال دو جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں نکال دیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابوبکر نامی راوی سے دریافت کیا : قالبین سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : لکڑی سے بنے ہوئے جوتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔