کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی مسجد میں داخل ہو اور جب مسجد سے باہر آئے تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 2096
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ : " اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ "وَإِذَا خَرَجَ قَالَ : " اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! تو میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “ ۔ ( اور جب آپ مسجد سے ) باہر تشریف لاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے ۔ ” اے اللہ ! میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2097
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَافْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ فَضْلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی تعلیم دی کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور یہ پڑھیں : ” اے اللہ ! تو ہمارے گناہوں کی مغفرت کر دے اور ہمارے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “ ۔ اور جب وہ مسجد سے باہر آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور یہ پڑھیں : اے اللہ ! تو ہمارے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سالم بن عبدالاعلیٰ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2097
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف