حدیث نمبر: 2089
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَتَيْتَ الصَّلَاةَ فَأْتِهَا بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ فَصَلِّ مَا أَدْرَكْتَ وَاقْضِ مَا فَاتَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي السَّرِيِّ عَنْ سَعْدٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم نماز کی طرف آؤ تو وقار اور سکینت کے ساتھ اس کی طرف آؤ جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو جو گزر چکی ہوا سے قضاء کر لو ( یعنی بعد میں ادا کر لو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوسری کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو اس کا ( یعنی ابوسری ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ۔ )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوسری کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو اس کا ( یعنی ابوسری ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ۔ )
حدیث نمبر: 2090
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَأْتُوا وَعَلَيْكُمُ السَكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سُبِقْتُمْ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَلَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ حَمَّادٌ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم نماز کے لئے آؤ تو تم ایسی حالت میں آؤ کہ تم پر سکون ہو جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو جو پہلے گزر چکی ہو اسے بعد میں ادا کر لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں تاہم اس میں الفاظ ہیں حماد بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں تاہم اس میں الفاظ ہیں حماد بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2091
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ خَلْفَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " قَالُوا : أَسْرَعْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ، لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ مَا أَدْرَكَ، وَلْيَقْضِ مَا فَاتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ بِلَفْظِ : " وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا" . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے آپ نے اپنے پیچھے ( تیزی سے ) چل کر آنے کی آواز سنی جب آپ نے نماز مکمل کی تو دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نماز کی طرف جلدی آنا چاہ رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو تم میں سے کوئی شخص جتنی نماز اسے ملے وہ ادا کر لے اور جو پہلے گزر چکی ہو وہ بعد میں مکمل کر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور روایت کے یہ الفاظ متفق علیہ ہیں جو پہلے گزر چکی ہو اسے مکمل کر لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور روایت کے یہ الفاظ متفق علیہ ہیں جو پہلے گزر چکی ہو اسے مکمل کر لو “ ۔
حدیث نمبر: 2092
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَكَانَ يُقَارِبُ الْخُطَا فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ لِمَ أُقَارِبُ الْخُطَا ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي الصَّلَاةِ مَا دَامَ فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤ وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : " إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِتَكْثِيرِ خُطَايَ فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ " . ¤ وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ مَوْقُوفًا عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ہمارا نماز کا ارادہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے قدم اٹھا رہے تھے آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں چھوٹے قدم کیوں اٹھا رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک وہ نماز کی طلب میں ہوتا ہے “ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ان صحابی کے حوالے سے ایک اور روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : میں نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ نماز کی طلب میں میرے قدم زیادہ ہو جائیں “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبراس ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے مصنف نے اسے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبراس ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے مصنف نے اسے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2093
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ بِالزَّاوِيَةِ إِذْ سَمِعَ الْأَذَانَ ثُمَّ قَارَبَ فِي الْخُطَا حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشَى بِي هَذِهِ الْمِشْيَةَ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي يَا ثَابِتُ لِمَ مَشَيْتُ بِكَ هَذِهِ الْمِشْيَةَ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : " لِيَكْثُرَ عَدَدُ الْخُطَا فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَسْقَطَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَنَسٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ثابت بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ ” زاویہ “ میں چلتا ہوا جا رہا تھا انہوں نے اذان کی آواز سنی پھر چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چل پڑے یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا پھر انہوں نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طریقے سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے آپ نے دریافت کیا : اے انس ! کیا تم جانتے ہو ؟ میں اس طرح سے چل کے کیوں آیا ہوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تاکہ نماز کی طلب میں قدموں کی تعداد زیادہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اس میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا حالانکہ یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبر اس ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اس میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا حالانکہ یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبر اس ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2094
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ سَعَى إِلَى الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : أَوَلَيْسَ أَحَقُّ مَا سَعَيْتُمْ إِلَيْهِ الصَّلَاةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَسَلَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سلمہ بن کہیل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز کی طرف تیزی سے چلتے ہوئے جا رہے تھے ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : کیا نماز ایسی چیز نہیں ہے ، جس کی طرف سب سے زیادہ تیزی کرنی چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے سلمہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے سلمہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2095
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ طَيِّءٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ يُهَرْوِلُ فَقِيلَ لَهُ : أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ تَنْهَى عَنْهُ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ حَدَّ الصَّلَاةِ وَالتَّكْبِيرَةَ الْأُولَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ كَمَا تَرَاهُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ بَعْدُ بِأَبْوَابٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
طے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کی طرف جانے کے لئے نکلے ، تو تیز قدموں سے چلنے لگے ان سے کہا: گیا آپ ایسا کر رہے ہیں حالانکہ آپ خود اس سے منع کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ نماز کے آغاز اور تکبیر اولی میں پہنچ جاؤں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں ، نماز کی طرف چل کر جانے کے بارے میں احادیث کچھ ابواب کے بعد آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں ، نماز کی طرف چل کر جانے کے بارے میں احادیث کچھ ابواب کے بعد آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔