حدیث نمبر: 2070
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ - أَوْ كَاتِبُهُ - بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ " قَالَ : " وَالْقَاعِدُ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَبَعْضُهَا صَحِيحٌ ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص طہارت حاصل کرے ( یعنی وضو کرے ) پھر وہ مسجد میں آئے اور نماز کا دھیان رکھے تو اس کے دونوں کاتب ( یعنی فرشتے یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اس کے لئے ہر ایک قدم کے عوض میں دس نیکیاں نوٹ کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا شخص کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی مانند ہے ، اور اس کا شمار نمازیوں میں کیا جائے گا جب سے وہ اپنے گھر سے نکلا ہو اور اس وقت تک کیا جائے گا جب تک وہ واپس گھر نہیں چلا جاتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی بعض اسناد میں ابن لہیعہ نامی راوی ہے ، اور اس کی بعض اسناد ” صحیح “ ہیں امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ” صحیح “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی بعض اسناد میں ابن لہیعہ نامی راوی ہے ، اور اس کی بعض اسناد ” صحیح “ ہیں امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ” صحیح “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2071
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى غُدُوٍّ أَوْ رَوَاحٍ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا كَانَتْ خُطَاهُ خُطْوَةً كَفَّارَةً وَخُطْوَةً دَرَجَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ زَيْدٍ الْجَوْجَانِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی بندہ صبح یا شام کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسجد کی طرف جاتا ہے ، تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے وہ کفارہ بن جاتا ہے ، اور ایک قدم درجہ ( میں اضافہ کا باعث بنتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن زید جو جانی ہے ، جس کے حوالے سے محمد بن زیاد کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن زید جو جانی ہے ، جس کے حوالے سے محمد بن زیاد کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2072
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ فَخُطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً وَخُطْوَةٌ تُكْتُبُ لَهُ حَسَنَةً ذَاهِبًا وَرَاجِعًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ فِيهِمُ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص با جماعت نماز والی مسجد کی طرف چل کر جاتا ہے ، تو ایک قدم اس کے گناہ کو مٹا دیتا ہے ، اور ایک قدم اس کے لئے نیکی نوٹ کرواتا ہے جاتے ہوئے بھی اور واپس آتے ہوئے بھی ( ایسا ہوتا ہے ) “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام أحمد کے رجال میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام أحمد کے رجال میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حدیث نمبر: 2073
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَمْشِي إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يُصَلِّي فِيهِ صَلَاةً مَكْتُوبَةً إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةٌ ، وَتُمْحَى عَنْهُ بِالْأُخْرَى سَيِّئَةٌ وَيُرْفَعُ لَهُ بِالْأُخْرَى دَرَجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو بھی مسلمان وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر پیدل چل کر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر ( یعنی مسجد ) کی طرف جائے اور اس گھر میں فرض نماز ادا کرے تو اس شخص کے لئے ایک قدم کے عوض میں ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ، اور دوسرے قدم کے عوض میں اس کا گناہ ختم کر دیا جاتا ہے ، اور تیسرے قدم کے عوض میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2074
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضَوْءَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يَنْزِعُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ تَزَلْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً وَالْأُخْرَى تُثْبِتُ حَسَنَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کی طرف جائے اس کا مقصد صرف نماز کی ادائیگی ہو ، تو اس کا ہر بایاں قدم ایک گناہ مٹا دیتا ہے ، اور دوسرا قدم ایک نیکی کو ثابت کرتا ہے یہاں تک وہ شخص مسجد میں داخل ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2075
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلَى الْمَسْجِدِ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثِقَةٌ وَفِيهِ اخْتِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مساجد کی طرف صبح اور شام کے وقت جانا ، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبدالرحمن ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبدالرحمن ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2076
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكَمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکم بن عبداللہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکم بن عبداللہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2077
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنِي سَلَمَةَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَبِيعُ دُورَنَا وَنَتَحَوَّلُ إِلَيْكَ ، فَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ وَادِيًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اثْبُتُوا فَإِنَّكُمْ أَوْتَادُهَا ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَخْطُو إِلَى الصَّلَاةِ خُطْوَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا " . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنوسلمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے گھر فروخت کر کے آپ کے پاسں منتقل نہ ہو جائیں ؟ کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان ایک نشیبی علاقہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی جگہ پر رہو ! کیونہ تم لوگ کیل ہو ، جو بھی بندہ نماز کی طرف قدم اٹھا کر چل کر جاتا ہے ، تو اللہ تعالی اس قدم کے عوض میں اس شخص کے لئے اجر نوٹ کرتا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تاہم وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2078
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ تَامٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تاریکی میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2079
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّرَوِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ ، وَفِي حَدِيثِهِ نَكِرَةٌ قَالَ الْأَزْدِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” تاریکی میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی شروی ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : اس کی شناخت نہیں ہو سکی اس کی حدیث میں منکر ہونا پایا جاتا ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی شروی ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : اس کی شناخت نہیں ہو سکی اس کی حدیث میں منکر ہونا پایا جاتا ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2080
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيُضِيءُ لِلَّذِينِ يَتَخَلَّلُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِنُورٍ سَاطِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تاریکی میں مساجد کی طرف جانے والوں کو اللہ تعالی قیامت کے دن چہکتا ہوا نور عطا فرمائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2081
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عامر ضبی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عامر ضبی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2082
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ، جسے یحییٰ بن معین علی بن مدینی اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ، جسے یحییٰ بن معین علی بن مدینی اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 2083
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بِنُورٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص رات کی تاریکی میں چل کر مسجد کی طرف جاتا ہے وہ قیامت کے دن نور کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2084
وَلِأَبِي الدَّرْدَاءِ أَيْضًا عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : " مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ لَيْلٍ إِلَى مَسْجِدٍ آتَاهُ اللَّهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء ہی کے حوالے سے امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو شخص رات کی تاریکی میں چل کر مسجد کی طرف جاتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے نور عطا کرے گا“ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی جنادہ بن ابوخالد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی جنادہ بن ابوخالد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2085
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلُمَاتِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ عَظِيمٍ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تاریکیوں میں مساجد کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف سے عظیم نور ( نصیب ہونے ) کی خوشخبری دے دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عمیر بن عبید ہے ، اور وہ منکرالحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عمیر بن عبید ہے ، اور وہ منکرالحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 2086
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَشِّرِ الْمُدْلِجِينَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ بِمَنَابِرَ مِنْ نُورٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا يَفْزَعُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَلَمَةُ الْعَبْسِيُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تاریکیوں میں مساجد کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن نور کے منبر نصیب ہونے کی خوشخبری دے دو جب لوگ خوف زدہ ہوں گے ، تو یہ لوگ خوف زدہ نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : سلمہ عبسی نے اپنے کے اہل خانہ میں سے ایک شخص کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : سلمہ عبسی نے اپنے کے اہل خانہ میں سے ایک شخص کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2087
وَعَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَهُوَ زَائِرُ اللَّهِ، وَحَقٌّ عَلَى الْمَزُورِ أَنْ يُكْرِمَ الزَّائِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد میں آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوتا ہے ، اور میزبان کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ مہمان کی عزت افزائی کرنے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2088
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اخْتَلَفَ إِلَى هَذِهِ الصَّلَاةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : بَطَلَ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اس نماز کی طرف ( یعنی مسجد کی طرف ) آتا جاتا ہے ، اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن محمد بن حسن بن زبالہ ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : اس سے استدلال کرنا باطل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن محمد بن حسن بن زبالہ ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : اس سے استدلال کرنا باطل ہے ۔