کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص وضو کرنے کے بعد مسجد میں آئے اور پھر اس میں نماز ادا کرے
عَنْ عُثْمَانَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کیا پھر ارشاد فرمایا : جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور پھر مسجد میں آ کر اس میں دو رکعات ادا کرے تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر وہ شخص مسجد میں آ کر اس میں دو رکعات ادا کرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارِ إِتْيَانِ الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةِ فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد میں آئے اور اس میں دو رکعات ادا کرے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جو مسجد کی طرف آنے اور اس میں نماز ادا کرنے سے متعلق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔