عَنْ عُمَرَ قَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : "يَنْبَغِي أَنْ نَزِيدَ فِي مَسْجِدِنَا" مَا زِدْتُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَزِيدَ فِي قِبْلَتِنَا" ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَزِيدَ فِي قِبْلَتِكُمْ" ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ نَافِعٍ وَعُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : ” مناسب یہ ہے کہ ہم اپنی مسجد میں اضافہ کر دیں “ تو میں نے ( مسجد نبوی کی تعمیر نو میں ) اضافہ نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بے شک ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے قبلہ میں اضافہ کر دیں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دیں ) “ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں : ” میں یہ چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کے قبلہ میں اضافہ کر دوں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دوں ) “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے امام أحمد کی سند نافع اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بے شک ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے قبلہ میں اضافہ کر دیں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دیں ) “ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں : ” میں یہ چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کے قبلہ میں اضافہ کر دوں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دوں ) “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے امام أحمد کی سند نافع اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے ۔
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَبْنُونَ مَسْجِدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْسِعُوا مَسْجِدَكُمْ تَمْلَئُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِرْهَمٍ ، وَرَوَى عَنْهُ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ وَقَالَ : ثِقَةٌ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس سے ہوا جو مسجد تعمیر کر رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ مسجد کو کشادہ رکھو اور اسے بھر دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن درہم ہے ، جس کے حوالے سے شبابہ بن ہوار نے روایت نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : یہ ” ثقہ “ ہے یحیی بن معین اور دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن درہم ہے ، جس کے حوالے سے شبابہ بن ہوار نے روایت نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : یہ ” ثقہ “ ہے یحیی بن معین اور دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔