حدیث نمبر: 1961
عَنْ عُمَرَ قَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : "يَنْبَغِي أَنْ نَزِيدَ فِي مَسْجِدِنَا" مَا زِدْتُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَزِيدَ فِي قِبْلَتِنَا" ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : "إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَزِيدَ فِي قِبْلَتِكُمْ" ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ نَافِعٍ وَعُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : ” مناسب یہ ہے کہ ہم اپنی مسجد میں اضافہ کر دیں “ تو میں نے ( مسجد نبوی کی تعمیر نو میں ) اضافہ نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بے شک ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے قبلہ میں اضافہ کر دیں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دیں ) “ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں : ” میں یہ چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کے قبلہ میں اضافہ کر دوں ( یعنی مسجد میں توسیع کر دوں ) “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے امام أحمد کی سند نافع اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «1961 مسند احمد بن حنبل مسند العشرة المبشرين بالجنة ، مسند الخلفاء الراشدين اول مسند عمر بن الخطاب رضى الله عنه ، 329 البحر الزخار مسند البزار ما روى عبد الله بن عمر ، 167»