حدیث نمبر: 1922
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ بَعْدَمَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ : أَمَّا هَذَا فَقَدَ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ( ان کی موجودگی میں ) مؤذن کے اذان دینے کے بعد ، ایک شخص مسجد سے باہر چلا گیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جب تم لوگ مسجد میں موجود ہو اور اذان دے دی جائے تو کوئی شخص نماز ادا کرنے سے پہلے باہر نہ جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام مسلم اور امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1923
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَسْمَعُ النِّدَاءَ فِي مَسْجِدِي هَذَا ثُمَّ يَخْرُجُ ، مِنْهُ إِلَّا لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ لَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ إِلَّا مُنَافِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری اس مسجد میں اذان سنے اور پھر باہر چلا جائے البتہ اگر اسے کوئی حاجت درپیش ہو ، تو معاملہ مختلف ہے ، اور پھر وہ دوبارہ مسجد کی طرف نہ آئے تو وہ منافق ہی ہو گا“ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری اس مسجد میں اذان سنے اور پھر باہر چلا جائے البتہ اگر اسے کوئی حاجت درپیش ہو ، تو معاملہ مختلف ہے ، اور پھر وہ دوبارہ مسجد کی طرف نہ آئے تو وہ منافق ہی ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔