کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص وقت شروع ہونے سے پہلے اذان دیدے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1921
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَذَّنَ بِلَالٌ قَبْلَ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرْجِعَ فَيَقُولَ : أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ، فَرَقِيَ بِلَالٌ وَهُوَ يَقُولُ : لَيْتَ بِلَالًا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور یہ کہیں : خبردار بندہ سو گیا تھا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اوپر چڑھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : بلال کی ماں اسے روئے اور اس کی پیشانی کے خون کے چھڑکنے سے وہ تر ہو جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے ، جسے امام أحمد امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «1921 مصنف عبد الرزاق الصنعاني كتاب الصلاة باب الاذان فى طلوع الفجر . 1823 ، سنن الدارقطني كتاب الصلاة باب ذكر الإقامة واختلاف الروايات فيها حديث 825»