کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو کوئی شخص نماز ( باجماعت ) کے علاوہ کوئی اور نماز ادا نہ کرے
❮
❯
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ " .
قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ " وَمُقْتَضَى هَذَا أَنَّهُ لَوْ لَمْ يُصَلِّ الظُّهْرَ وَأُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَلَا يُصَلِّي إِلَّا الْعَصْرَ ; لِأَنَّهُ قَالَ : " فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب نماز کھڑی ہو جائے تو جو نماز کھڑی ہوئی ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور نماز ادا نہیں کی جائے گی“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان صحابی کے حوالے سے یہ الفاظ منقول ہیں : ” فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی “ ۔ اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس شخص نے ظہر کی نماز ادا نہیں کی تھی اور عصر کی اقامت کہہ دی گئی ، تو وہ صرف عصر کی نماز ہی ادا کرے گا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” اس وقت جو نماز کھڑی ہوئی ہے ، اس کے علاوہ اور کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه مسند أحمد برقم: 8409، 9563، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1448، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 421، وأخرجه سنن النسائي برقم: 865، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1266، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1151»
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَوْبِهِ وَقَالَ : " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ؟ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الْإِقَامَةِ وَفِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا وَقَوْلِهِ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " ، وَاسْتِئْذَانِ الْمُؤَذِّنِ الْإِمَامَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی ایک شخص کھڑا ہو کر دو رکعات ادا کرنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے کو کھینچا اور فرمایا : کیا تم صبح کی نماز میں چار رکعات ادا کرو گے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں احادیث اقامت اور نماز کے مکروہ اوقات ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : ” جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک تم مجھے دیکھ نہیں لیتے “ اور مؤذن کا امام سے اجازت لینا ، سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه صحيح البخاري برقم: 632، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 711، وأخرجه سنن النسائي برقم: 867، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1153، وأخرجه مسند أحمد برقم: 2131، 27712، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1449، وأخرجه فتح الباري برقم: 632، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1195، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 928/1، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1603، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 43»