حدیث نمبر: 1899
عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوَالِينَا ، وَالسِّقَايَةَ لِبَنِي هَاشِمٍ ، وَالْحِجَامَةَ لِبَنِي عَبْدِ الدَّارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومحذوره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مکہ مکرمہ میں ) اذان ہمارے لئے اور ہمارے موالی کے لئے مقرر کی تھی سقایہ بنو باشم کے لئے اور حجامہ بنو عبددار کے لئے مقرر کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1900
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدَانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عبدان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خلافت قریش میں رہے گی حکم ( یعنی عدالتی فیصلہ کرنے کا منصب ) انصار میں رہے گا ، اور دعوت حبشیوں میں رہے گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1901
وَعَنْ أَبِي أُسِيدٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ جَاءَهُ أَبُو مَحْذُورَةَ فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ أُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَذِّنْ " ، فَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَلَّفَ أَبُو مَحْذُورَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ الَّذِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي الْخِلَافَةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اذان دیا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اذان دو تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیا کرتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے تو پھر سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث جسے امام ترمندی نے روایت کیا ہے وہ خلافت سے متعلق باب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث جسے امام ترمندی نے روایت کیا ہے وہ خلافت سے متعلق باب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔