کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کوئی معاملہ پیش آنے پر اذان دینا
حدیث نمبر: 1898
عَنْ سَعْدٍ الْقَرَظِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَيَّ سَاعَةٍ أَتَى قُبَاءً أَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ لِأَنْ يَعْلَمَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ جَاءَ ، فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ ، فَأَتَى يَوْمًا وَلَيْسَ مَعَهُ بِلَالٌ ، فَنَظَرَ زُنُوجٌ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَرَقِيَ سَعْدٌ فِي عِذْقٍ فَأَذَّنَ بِالْأَذَانِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تُؤَذِّنَ يَا سَعْدُ ؟ " قَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي رَأَيْتُكَ فِي قِلَّةٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلَمْ أَرَ بِلَالًا مَعَكَ ، وَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الزُّنُوجَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْكَ ، فَخَشِيتُ عَلَيْكَ مِنْهُمْ فَأَذَّنْتُ . قَالَ : " أَصَبْتَ يَا سَعْدُ ، إِذَا لَمْ تَرَ بِلَالًا مَعِي فَأَذِّنْ " فَأَذَّنَ سَعْدٌ ثَلَاثَ مِرَارٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت قباء تشریف لاتے تھے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دیتے تھے تاکہ لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں تاکہ لوگ آپ کی خدمت میں اکھٹے ہوئیں ۔ ایک دن آپ تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نہیں تھے لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر سیدنا سعد کھجور کے درخت پر چڑھے اور اذان دے دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے سعد ! تم نے کیوں اذان دی ہے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ کو دیکھا کہ لوگ آپ کے پاس کم ہیں ، اور میں نے آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بھی نہیں دیکھا اور میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ یہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں ، اور آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں ، تو مجھے ان کے حوالے سے آپ کے خلاف اندیشہ ہوا ( کہ کہیں یہ آپ کو نقصان نہ پہنچائیں ) تو میں نے اذان دے دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سعد ! تم نے ٹھیک کیا ہے ، جب تم میرے ساتھ بلال کو نہ دیکھو تو تم اذان دے دیا کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں تین مرتبہ اذان دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سعد بن عمار ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔