کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سفر کے دوران اذان دینا
حدیث نمبر: 1888
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ السَّفَرِ إِلَّا بِالْإِقَامَةِ إِلَّا الصُّبْحَ ; فَإِنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران نماز ادا کرتے ہوئے اذان نہیں دلواتے تھے صرف اقامت کہلوایا کرتے تھے البتہ صبح کی نماز کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اس کے لئے آپ اذان دلواتے تھے ، اور اقامت کہلواتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1888
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1889
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يُؤَذِّنُ فِي السَّفَرِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَّا الْإِقَامَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا . وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران اذان نہیں دلواتے تھے صرف صبح کی نماز میں اذان دلواتے تھے آپ اقامت کہلوایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1890
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سَمِعَ مُنَادِيًا يُنَادِي : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى الْفِطْرَةِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " . فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ صَاحَبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سفر کے دوران ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ، اس نے اشہد ان لا اله الا اللہ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا ہم لپک کر اس شخص کی طرف گئے تو وہ جانوروں میں موجود ایک شخص تھا نماز کا وقت ہو گیا تو اس نے اس کے لئے اذان دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن مسعود رضى الله عنه ، 3746 مسند ابي يعلي الموصلي مسند عبد الله بن مسعود 5270»
حدیث نمبر: 1891
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : " عَلَى الْفِطْرَةِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : " شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ ، انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مَعْزِيًّا وَإِمَّا مُكَلِّبًا ، فَنَظَّرُوهُ فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موذن کو اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ کہتے ہوئے سنا تو ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ، اس نے اَشهَدُ اَنْ لا اله الا اللہ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے حق کے ہمراہ گواہی دی ہے ، اس نے اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللہ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا تم لوگ اس کا جائزہ لو تم اسے پاؤ گے یا تو یہ چرواہا ہو گا ، جو گھر والوں سے دور ہو گا یا کتوں کے ساتھ شکار کرنے والا کوئی شخص ہو گا ، جب لوگوں نے اس کا جائزہ لیا تو انہوں نے اسے پایا کہ وہ ایک چرواہا تھا ، جسے نماز کا وقت ہو گیا تھا تو اس نے نماز کے لئے اذان دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک قرشی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1892
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : قَالَ : فَهَبَطَ الْوَادِيَ ، فَإِذَا هُوَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " الدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا اشهد ان لا اله الا الله نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس مؤذن نے کہا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں پھر نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے اہل خانہ سے دور شخص پاؤ گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جب وہ وادی کے نشیبی حصے میں آئے تو وہاں ایک مردار بکری موجود تھی آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ اپنے مالک کے نزدیک یہ بے حیثیت ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دنیا ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( مردہ بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1893
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَلَعَ الْأَنْدَادَ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِدُونَهُ صَاحِبَ مِعْزًى مَعْزِبًا أَوْ صَاحِبَ كِلَابٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے آپ نے مؤذن کو اشهد ان لا الہ الا اللہ کہتے ہوئے سنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے شرک کرنے سے لاتعلقی اختیار کی اس نے کہا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّه تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو پاؤ گے جو گھر والوں سے الگ تھلگ ہو گا یا کتوں کے ساتھ ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1894
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَسَمِعَ قَائِلًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْوَةُ الْحَقِّ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَرَجَ صَاحِبُهَا مِنَ النَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِدُونَ هَذَا صَاحِبَ مِعْزًى أَوْ صَاحِبَ كِلَابٍ يَتَصَيَّدُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حِبَّانَ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رُبَّمَا خَالَفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے آپ نے کسی شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا ( یعنی اذان دیتے ہوئے سنا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حق کی دعوت ہے ، اس نے کہا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اخلاص کا کلمہ ہے ، اس نے پڑھا اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہنے والا شخص جہنم سے نکل گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو پاؤ گے یہ الگ تھلگ رہ رہا ہو گا یا یہ کتوں والا شخص ہو گا ، جو شکار کر رہا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حبان ہے ، جسے امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ یہ بعض اوقات دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں موسیٰ بن محمد بن حبان کی وجہ سے ضعف ہے جبکہ بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 1895
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " خَرَجَ مِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم نے ایک شخص کو اللہ أَكْبَرَ اللَّهُ أَكْبَرَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ کہتے ہوئے سنا ( یعنی اذان دیتے ہوئے سنا ) تو ارشاد فرمایا : یہ شرک سے نکل گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1896
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَاحِلَتِهِ الْجَدْعَاءِ ، فَلَمَّا بَرَزَ سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُ ، فَلَمَّا قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ; قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَهِدَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ شَهَادَةَ الْحَقِّ " ، فَلَمَّا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; قَالَ : " نَرَى هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ خَرَجَ مِنَ النَّارِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا صَاحِبُ كِلَابٍ " فَذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَوَجَدُوهُ كَذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا زید بن ثابت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار تھے جب آپ آبادی سے باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور غور سے سننے لگے جب اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اس نے حق والی گواہی دی ہے ، جب اس نے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے بارے میں میں یہ سمجھتا ہوں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ جہنم سے نکل گیا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کتوں والا شخص ہو گا ( جو شکار کے لئے نکلا ہو گا ) ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گئے تو انہوں نے اس شخص کو ایسا ہی پایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1897
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يُؤَذِّنُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى الْفِطْرَةِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : " شَهِدَ الْحَقَّ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْكَذِبِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اسی دوران آپ نے ایک شخص کو اذان دیتے ہوئے سنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ، اس نے کہا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے حق گواہی دی ہے ، اس نے پڑھا : اشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن عجلان ہے ، جس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع