حدیث نمبر: 1851
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنْ يُعَلِّمَ رَسُولَهُ الْأَذَانَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَابَّةٍ يُقَالُ لَهَا : الْبُرَاقُ ، فَذَهَبَ يَرْكَبُهَا فَاسْتَصْعَبَ ، فَقَالَ لَهَا جِبْرِيلُ : اسْكُنِي ، فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكِ عَبْدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَرَكِبَهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْحِجَابِ الَّذِي يَلِي الرَّحْمَنَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - . قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ مَلَكٌ مِنَ الْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا جِبْرِيلُ مِنْ هَذَا ؟ " قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لِأَقْرَبُ الْخَلْقِ مَكَانًا ، وَإِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ مُنْذُ خُلِقْتُ قَبْلَ سَاعَتِي هَذِهِ ، فَقَالَ الْمَلَكُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ : فَقِيلَ لَهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ : صَدَقَ عَبْدِي ، أَنَا أَكْبَرُ أَنَا أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ الْمَلَكُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ : صَدَقَ عَبْدِي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا ، فَقَالَ الْمَلَكُ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ : صَدَقَ عَبْدِي ، أَنَا أَرْسَلْتُ مُحَمَّدًا . قَالَ الْمَلَكُ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ : فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ : صَدَقَ عَبْدِي ، أَنَا أَكْبَرُ أَنَا أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : فَقِيلَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ : صَدَقَ عَبْدِي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا . قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ الْمَلَكُ بِيَدِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَهُ ، فَأَمَّ أَهْلَ السَّمَاءِ فِيهِمْ آدَمُ وَنُوحٌ " . ¤ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ : فَيَوْمَئِذٍ أَكْمَلَ اللَّهُ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّرَفَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو اذان کا طریقہ تعلیم دے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جانور لے کے آئے جسے براق کہا: جاتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہونے لگے ، تو وہ شوخی کرنے لگا سیدنا جبرائیل نے اس سے کہا: تم پر سکون ہو جاؤ اللہ کی قسم تم پر ایسا کوئی بندہ سوار نہیں ہوا جو اللہ تعالی کے نزدیک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ معزز ہوراوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ آپ اس حجاب تک پہنچ گئے جو رحمان کے پاس ہے آپ وہاں موجود تھے اسی دوران حجاب میں سے ایک فرشتہ باہر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے جگہ کے اعتبار سے میں مخلوق میں سے سب سے زیادہ قریب ہوں لیکن جب سے میں پیدا ہوا ہوں اس گھڑی سے پہلے میں نے اس فرشتے کو کبھی نہیں دیکھا اس فرشتے نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر تو حجاب کے پرے سے اس سے کہا: گیا میرے بندے نے سچ کہا: ہے میں سب سے بڑا ہوں میں سب سے بڑا ہوں پھر فرشتے نے یہ پڑھا میں اس بات کی گوہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو حجاب کے پیچھے سے یہ کہا: گیا کہ میرے بندے نے سچ کہا: ہے میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے فرشتے نے کہا: کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو حجاب کے پیچھے سے کہا: گیا میرے بندے نے سچ کہا: ہے میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ہے فرشتے نے کہا: نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف آؤ نماز کھڑی ہو گئی ہے پھر اس نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر تو حجاب کے پیچھے سے کہا: گیا میرے بندے نے سچ کہا: ہے میں سب سے بڑا ہوں میں سب سے بڑا ہوں پھر فرشتے نے پڑھا لا الہ الا اللہ تو حجاب کے پیچھے سے کہا: گیا میرے بندے نے سچ کہا: ہے میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر فرشتے نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور انہیں آگے کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام آسمان والوں کی امامت کروائی جن میں سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام بھی موجود تھے امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) فرماتے ہیں : اس دن اللہ تعالیٰ نے تمام آسمان والوں اور زمین والوں پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کو مکمل کر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1852
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ بِالْأَذَانِ ، فَنَزَلَ بِهِ فَعَلَّمَهُ جِبْرِيلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَنُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان کی طرف لے جایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف اذان کا طریقہ وحی کیا آپ اس کا حکم لے کر نازل ہوئے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو اس کے بارے میں تعلیم دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، جس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 1853
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَزِينٌ - وَكَانَ الرَّجُلُ ذَا طَعَامٍ يُجْتَمَعُ إِلَيْهِ - وَدَخَلَ مَسْجِدَهُ يُصَلِّي ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ نَعَسَ فَأَتَاهُ آتٍ فِي النَّوْمِ ، فَقَالَ : قَدْ عَلِمْتُ مَا حَزِنْتَ لَهُ . قَالَ : فَذَكَرَ قِصَّةَ الْأَذَانِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُخْبِرَ بِمِثْلِ مَا أُخْبِرْتَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَمُرُوا بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ بِذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ تُكُلِّمَ فِيهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ پریشان لگ رہے تھے وہ شخص کھانا پکایا کرتا تھا اور لوگ اس کے پاس اکھٹے ہوا کرتے تھے وہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز ادا کرنے لگا ابھی وہ اسی حالت میں تھا کہ اسے اونگھ آ گئی خواب میں ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا: کیا تم جانتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس سلسلے میں پریشان ہیں ۔ اس کے بعد راوی نے اذان سے متعلق پورا واقعہ نقل کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے مجھے جو بات بتائی ہے وہ ابوبکر کو بھی بتاؤ اور تم لوگ بلال کو یہ کہو کہ وہ اس طرح اذان دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔