کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اذان کیسے دی جائے گی ؟
حدیث نمبر: 1854
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي الْقَرَظَ - أَنَّ أَوَّلَ مَا بَدَأَ الْأَذَانُ أَنَّهُ أُرِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ عَادَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اذان کا آغاز یوں ہوا کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں یہ دکھائی گئی اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا انصاری نے انہیں کلمات بیان کرنا شروع کیے الله اكبر الله اکبر ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدُ أَنَّ مَحَمَّدًا رَسُوْلُ الله اشهد ان محمدا رسول اللہ پھر انہوں نے دوبارہ یہ کلمات دہرائے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ أَشْهَدُ أن محمدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ( پھر یہ کلمات پڑھے ( حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن عمار بن سعد ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1855
وَعَنْ سَعْدٍ الْقَرَظِ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى ، وَيَتَشَهَّدُ مُضَعَّفًا ، يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَرَّتَيْنِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَرَّتَيْنِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، مَرَّتَيْنِ ، مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ فَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . وَإِقَامَتُهُ مُنْفَرِدَةٌ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، مَرَّةً وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَيْضًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْإِقَامَةُ مُنْفَرِدَةٌ فَقَطْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان میں کلمات دو دو مرتبہ ادا کرتے تھے ، اور شہادت کے کلمات مزید دگنے کر لیتے تھے وہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے یہ کہتے تھے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ دو مرتبہ یہ پڑھتے تھے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں وہ یہ کلمات بھی دو مرتبہ پڑھتے تھے پھر وہ ترجیع کرتے تھے ، اور اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله دو مرتبہ پڑھتے تھے ، اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ دو مرتبہ پڑھتے تھے انہوں نے قبلہ کی طرف رُخ کیا ہوتا تھا پھر وہ زرا دائیں طرف پھر جاتے تھے ، اور یہ کہتے تھے : حَى عَلَى الصَّلَاةِ یہ دو مرتبہ کہتے تھے پھر وہ بائیں طرف گھوم جاتے تھے ، اور حَيَّ عَلَى الفلاح دو مرتبہ کہتے تھے پھر وہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے اللہ اكبر اللهَ اكْبَر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ پڑھتے تھے اقامت کے کلمات وہ الگ الگ ادا کرتے تھے ، اور قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ایک مرتبہ کہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں بھی ایک راوی عبدالرحمن بن عمار بن سعد ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس صحابی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات صرف ایک ایک مرتبہ پڑھتے تھے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کی اصل صحیحین
حدیث نمبر: 1856
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ فَيَسْتَقْبِلُ خَلْفَ الْقِبْلَةِ فَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ فَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَيَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . وَكَانَ يُقِيمُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُفْرِدُ الْإِقَامَةَ فَيَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، مَرَّتَيْنِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیتے تھے ، اور وہ اذان میں یہ کلمات پڑھا کرتے تھے : الله اكبر الله اكبر ، أشهد أن لا إله إلا الله اشهد أن لا اله الا اللہ ، پھر وہ قبلہ سے دائیں طرف مر جاتے تھے اور یہ کلمات پڑھتے تھے : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہ پھر وہ منہ موڑتے تھے ، اور قبلہ کی پشت کی طرف رُخ کر لیتے تھے ، اور حَى عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ پڑھتے تھے پھر بائیں طرف گھوم کر حی علی الفلاح ، حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ پڑھتے تھے پھر قبلہ کی طرف رُخ کر لیتے تھے پھر اللہ اکبر اللہ اکبر اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّہ پڑھتے تھے ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اقامت کہتے تھے ، اور اقامت کے کلمات وہ منفرد طور پر پڑھتے تھے وہ یہ کہتے تھے : الله اکبر الله اکبر أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ وه دو مرتبہ پڑھتے تھے پھر اللہ اکبر اللہ اکبر ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ» ( پڑھ لیتے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمار بن سعد ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1857
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ فَيَقُولُ : حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجْعَلَ مَكَانَهَا : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، وَيَتْرُكُ : حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُتَقَدِّمُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ صبح کی نماز کے لئے اذان دیتے ہوئے یہ کہتے تھے : ” نیک عمل کی طرف آؤ “ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کی جگہ یہ کلمہ شامل کیا جائے ” نماز نیند سے بہتر ہے “ ۔ تو انہوں نے حَی عَلَی خَيْرِ الْعَمَلِ پڑھنا ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن ہے ، جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1858
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ فَرَأَى مِنْهُ ثِقْلَةً ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَذَهَبَ فَأَذَّنَ ، فَزَادَ فِي أَذَانِهِ : " الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ " ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الَّذِي زِدْتَ فِي أَذَانِكَ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُ مِنْكَ ثِقْلَةً فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَنْشَطَ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَزِدْهُ فِي أَذَانِكَ ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُسَيْطٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو صبح کی نماز کے لئے بلانے آئے تو آپ نے فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کی خرابی کا اندازہ ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ گئے انہوں نے اذان دی اور اذان میں یہ کلمات زائد ادا کیے نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اپنی اذان میں یہ کیا کلمات زائد کیے ہیں تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی طبیعت بوجھل ہے ، تو مجھے یہ اچھا لگا کہ آپ ہشاش بشاش ہو جائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور اس کو اپنی اذان میں اضافہ کر دو اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن قسیط ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1858
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1859
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ بِلَالًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْأَذَانِ فِي الصُّبْحِ فَوَجَدَهُ نَائِمًا ، فَنَادَاهُ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَدْخَلَهُ فِي الْأَذَانِ ، فَلَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةٍ قَبْلَ وَقْتِهَا غَيْرَ صَلَاةِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ مَرْوَانُ بْنُ ثَوْبَانَ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبح کی اذان کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو سوئے ہوئے پایا انہوں نے بلند میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ کہا: نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انکار نہیں کیا اور ان کلمات کو اذان میں شامل کر لیا وہ فجر کی نماز کے علاوہ اور کسی نماز کے لئے بھی اس کے مخصوص وقت سے پہلے اذان نہیں دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : مروان بن ثوبان اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1859
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1860
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَوَجَدَهُ نَائِمًا فَقَالَ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، فَأُقِرَّتْ فِي أَذَانِ الصُّبْحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِيِ الْأَخْضَرِ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَلَمْ يَنْسِبْهُ أَحَدٌ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو صبح کی نماز کے لئے اطلاع دینے کے لئے آئے تو آپ کو سوتے ہوئے پایا انہوں نے کہا: نماز نیند سے بہتر ہے ، تو یہ کلمات صبح کی نماز میں برقرار رکھے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے کسی نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 7726»
حدیث نمبر: 1861
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : أَذَّنَ بِلَالٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثْنَى مَثْنَى ، وَأَقَامَ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اذان دیتے ہوئے کلمات کو دو دو مرتبہ پڑھا اور اقامت کہتے ہوئے بھی اس کی مانند پڑھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1862
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَيْشٍ ، فَسَرَّحْتُ ظَهْرَ أَصْحَابِي ، فَلَمَّا رُحْتُ تَلَقَّانِي أَصْحَابِي يَتَبَادَرُونَ وَيَقُولُونَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّمُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لشکر میں تھا میں اپنے ساتھیوں کے جانوروں کو آرام کروا رہا تھا جب میں روانہ ہوا تو میرے ساتھی مجھے آ کے ملے وہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے ، اور یہ کہہ رہے تھے کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران مؤذن نے اذان دینی شروع کی تو اس نے یہ کلمات پڑھے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے - یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے زہری نامی راوی نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1862
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، امام زہری کا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ سند منقطع ہے۔
حدیث نمبر: 1863
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْإِقَامَةُ فُرَادَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ پڑھے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1864
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ : آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے اذان کے آخری کلمات یہ ہوتے تھے ۔ «لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے سوید بن غفلہ کے حوالے سے اسود بن یزید سے روایت نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ ہوتے تھے : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔