کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اذان دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1827
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّأْذِينِ لَتَضَارَبُوا عَلَيْهِ بِالسُّيُوفِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر لوگوں کو اذان دینے کی فضیلت کا پتہ چل جائے تو وہ اس کام کے لئے ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں لے آئیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1828
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُغْفَرُ لِلْمُؤَذِّنِ مُنْتَهَى أَذَانِهِ ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَيُجِيبُهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤذن کی اذان ( کی آواز ) جہاں تک جاتی ہے مؤذن کی اتنی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور اس کے لئے ہر تر اور خشک چیز دعائے مغفرت کرتی ہے ، جو بھی ( چیز ) اس کی آواز سنتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہر تر اور خشک چیز اسے جواب دیتی ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1829
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مُدَّ صَوْتِهِ ، وَأَجْرُهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے ، اس کی اتنی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور جتنے بھی لوگ اس کی وجہ سے نماز ادا کرتے ہیں اسے ان کی مانند اجر ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1829
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1830
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدُ الرَّحْمَنِ فَوْقَ رَأْسِ الْمُؤَذِّنِ ، وَإِنَّهُ لِيُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ أَيْنَ بَلَغَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْعَبْدِيُّ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” رحمن کا ہاتھ مؤذن کے سر پر ہوتا ہے ، اور اس کی آواز جہاں تک جاتی ہے ، اس کی اتنی مغفرت ہو جاتی ہے خواہ وہ جہاں تک بھی جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حفص عبدی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب الالف من اسمه احمد 2016»
حدیث نمبر: 1831
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْ أَنَسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ بلند گردن ، اذان دینے والوں کی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ اعمش نے یہ بات بیان کی ہے مجھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1831
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف لعلۃ الانقطاع
حدیث نمبر: 1832
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ النَّاسَ يَتَّجِرُونَ وَيَبِيعُونَ مَعَايِشَهُمْ ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَلَا تَرْضَى أَنَّ الْمُؤَذِّنِينَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ تجارت کرتے ہیں ، اور خرید و فروخت کرتے ہیں ہم ایسا نہیں کر پاتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ قیامت کے دن اذان دینے والے لوگ سب سے طویل گردن والے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1833
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِعْمَ الْمَرْءُ بِلَالٌ ، وَلَا يَتْبَعُهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَهُوَ سَيِّدُ الْمُؤَذِّنِينَ ، وَالْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بلال اچھا آدمی ہے ، اور کوئی مؤمن ہی اس کی پیروی کرے گا وہ اذان دینے والوں کا سردار ہے ، اور اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسام بن مصک ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1834
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن اذان دینے والے لوگ سب سے زیادہ طویل گردنوں والے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1835
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ الْبَصَرِيُّ ، قَالَ الْمِزِّيُّ : رَوَى عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرَهُ . وَقَدْ رَوَى عَنْهُ ابْنُهُ خَالِدُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ فِي الطَّبَرَانِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن اذان دینے والے لوگ سب سے زیادہ طویل گردن والے ہوں گے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت بصری ہے ۔ امام مزی کہتے ہیں : علی بن زید نے اس سے روایت نقل کی ہے : انہوں نے اس کے علاوہ کسی اور کا ذکر نہیں کیا حالانکہ اس کے بیٹے خالد بن ابوصلت نے اس سے روایت نقل کی ہے ، جو معجم طبرانی نے مذکور ہے ، اور وہ یہ حدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1836
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : نَدِمْتُ أَنْ لَا أَكُونَ طَلَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَجْعَلُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ مُؤَذِّنَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کیوں نہیں کی کہ آپ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو مؤذن مقرر کر دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1837
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : وَدِدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانَا النِّدَاءَ . قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : لِأَنَّهُمْ أَطْوَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اذان دینے کی خدمت ہمارے سپرد کر دیتے راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : کیونکہ قیامت کے دن اہل جنت میں سے ان کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1838
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَقْسَمْتُ لَبَرَرْتُ ، إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ لَرُعَاةُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ - يَعْنِي الْمُؤَذِّنِينَ - وَإِنَّهُمْ يُعْرَفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِطُولِ أَعْنَاقِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : اتَّهَمَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر میں قسم اٹھاؤں تو میں سچا ہوؤں گا ( وہ قسم اس بارے میں ہے ) کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو سورج اور چاند کا خیال رکھتے ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اذان دینے والے لوگ تھے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہ لوگ قیامت کے دن اپنی طویل گردن کی وجہ سے پہچانے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے امام ذہبی کہتے ہیں : ابوحاتم نے اس پر تہمت عائد کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1839
وَعَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَنَسٍ - فِيمَا أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ : " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالْأَعْمَشُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ . ¤
محمد محی الدین
اعمش نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ طویل گردن والے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اعمش نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 1840
وَعَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ يُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ لِذِكْرِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، [ لَكِنَّهُ مَعْلُولٌ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کے بندوں میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ذکر کے لئے سورج ، چاند اور ستاروں کا خیال رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم یہ روایت معلول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1840
درجۂ حدیث محدثین: معلول
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار مسند عبد الله بن ابى اوفى عن النبى ﷺ 2840 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب الإيمان ، واما حديث سمرة بن جندب . 148 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصلاة جماع ابواب المواقيت باب مراعاة ادلة المواقيت حديث 1651 الزبد والرقائق لابن المبارك باب فضل ذكر الله عزوجل ، 1286»
حدیث نمبر: 1841
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ وَالْمُلَبِّينَ يَخْرُجُونَ مِنْ قُبُورِهِمْ يُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ وَيُلَبِّي الْمُلَبِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اذان دینے والے اور تلبیہ پڑھنے والے ( قیامت کے دن ) جب اپنی قبروں سے نکلیں گے ، تو مؤذن اذان دے رہا ہو گا ، اور تلبیہ پڑھنے والا تلبیہ پڑھ رہا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ۔ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1841
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1842
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : عَلِّمْنِي أَوْ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ . قَالَ : " كُنْ مُؤَذِّنًا " . قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ . قَالَ : " كُنْ إِمَامًا " . قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ . قَالَ : " فَقُمْ بِإِزَاءِ الْإِمَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الضَّبِّيُّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تعلیم دیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ میری رہنمائی کسی ایسے عمل کی طرف کریں جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مؤذن بن جاؤ اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم امام بن جاؤ اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم امام کے بالکل پیچھے کھڑے ہو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل ضبی ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1843
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ شَيْخًا هَرِمًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ [صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَسَلَّمَ ] ، عَلِّمْنِي عَمَلًا أَتَقْرُبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ، كَبِرْتُ عَنْ ذَلِكَ وَضَعُفْتُ . قَالَ : " فَكُنْ مُؤَذِّنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قُرَيْبٌ وَالِدُ الْأَصْمَعِيِّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجئے جس کے ذریعے میں اللہ تعالی یعنی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کر لوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے ، اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا میری عمر زیادہ ہے ، اور میں کمزور ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم مؤذن بن جاؤ !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قریب ہے ، جو اصمعی کا والد ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1843
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1844
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤَذِّنُ الْمُحْتَسِبُ كَالشَّهِيدِ الْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ ، يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ مَا يَشْتَهِي بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رُسْتُمَ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي بَابِ الْمُؤَذِّنِ الْمُحْتَسِبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ثواب کی امید رکھنے والا مؤذن اس شہید کی مانند ہے ، جو اپنے خون میں لت پت ہو جائے وہ مؤذن اذان اور اقامت کے درمیان جو بھی خواہش ہو اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن رستم ہے ، جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، لیکن اس کا محل صدق ہے یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ثواب کی امید رکھنے والے موذن سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1844
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1845
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مَرَّةً وَمَرَّةً - حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ - لَمَا حَدَّثْتُ بِهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ وَلَا يَفْزَعُونَ حِينَ يَفْزَعُ النَّاسُ : رَجُلٌ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَقَامَ بِهِ يَطْلُبُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَمَا عِنْدَهُ ، وَرَجُلٌ نَادَى فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ يَطْلُبُ وَجْهَ اللَّهِ وَمَا عِنْدَهُ ، وَمَمْلُوكٌ لَمْ يَمْنَعْهُ رِقُّ الدُّنْيَا عَنْ طَاعَةِ رَبِّهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اگر میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک مرتبہ یا دو مرتبہ ، یہاں تک کے انہوں نے سات مرتبہ کا شمار کروایا کہ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات اتنی مرتبہ نہ سنی ہوتی ، تو میں اس کو بیان نہ کرتا ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے گھبراہٹ انہیں متاثر نہیں کرے گی جب لوگ پریشان ہوں گے ، تو وہ پریشان نہیں ہوں گے وہ شخص جو قرآن کا علم حاصل کرے اور پھر اس کے ساتھ مصروف رہے ، اور اس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا مندی اور جو کچھ اس کے پاس ہے ، اس کی حصول کا خواہاں ہو اور وہ شخص جو روزانہ پانچ نمازوں کے لئے اذان دے وہ اس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضامندی اور جو کچھ اس کے پاس ہے ، اس کے حصول کا خواہاں ہوں ، اور ایسا مملوک جو دنیا میں غلامی اسے اپنے پروردگار کی اطاعت سے نہ روکے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمندی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1845
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1846
وعنهُ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثَةٌ لَا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ ، وَلَا يَنَالُهُمُ الْحِسَابُ ، هُمْ عَلَى كَثِيبٍ مِنْ مِسْكٍ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ : رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَمَّ بِهِ قَوْمًا وَهُمْ رَاضُونَ بِهِ ، وَدَاعٍ يَدْعُو إِلَى الصَّلَوَاتِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ، وَعَبْدٌ أَحْسَنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ وَفِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيهِ " . ¤ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین قسم کے لوگوں کو بڑی گھبراہٹ پریشانی کا شکار نہیں کرے گی انہیں حساب کا سامنا نہیں کرنا ہو گا ، اور جب تک مخلوق کا حساب ختم نہیں ہوتا اس وقت تک وہ لوگ مشک کے بنے ہوئے ٹیلوں پر موجود ہیں گے ، وہ شخص جس نے اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے قرآن پڑھا ہو اور اس کے حوالے سے لوگوں کی امامت کرتا ہو اور وہ لوگ اس سے راضی ہوں وہ بلانے والا شخص جو اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے نمازوں کی طرف بلاتا ہے ( یعنی اذان دیتا ہے ) اور وہ غلام جو اپنے اور اپنے پروردگار کے معاملات اور اپنے اور اپنے آقا کے معاملات کو احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن عبدالعزیز مقری ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1846
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1847
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أُذِّنَ فِي قَرْيَةٍ أَمَّنَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ عَذَابِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کسی بستی میں اذان دی جاتی ہے ، تو اللہ تعالی اس بستی کو اس دن کے لئے اپنے عذاب سے محفوظ کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سعد بن عمار ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1847
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 1848
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا قَوْمٍ نُودِيَ فِيهِمْ بِالْأَذَانِ صَبَاحًا إِلَّا كَانُوا فِي أَمَانِ اللَّهِ حَتَّى يُمْسُوا ، وَأَيُّمَا قَوْمٍ نُودِيَ فِيهِمْ بِالْأَذَانِ مَسَاءً إِلَّا كَانُوا فِي أَمَانِ اللَّهِ حَتَّى يُصْبِحُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس بھی قوم کے درمیان صبح کے وقت اذان دی جاتی ہے ، تو شام ہونے تک وہ لوگ اللہ تعالی کی امان میں ہوتے ہیں ، اور جب بھی کسی قوم کے درمیان شام کے وقت اذان دی جاتی ہے ، تو صبح ہونے تک وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہوتے ہیں ، ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1848
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 1849
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَأْذَنُ اللَّهُ لِشَيْءٍ إِذْنَهُ لِلْأَذَانِ وَالصَّوْتِ الْحَسَنِ بِالْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَلَّامٌ الطَّوِيلُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کی طرف اتنی توجہ نہیں دیتا جتنی توجہ وہ اذان کی طرف اور اچھی آواز میں قرآن کی تلاوت کی طرف دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1849
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1850
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لِخَمْسٍ : لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، وَلِلِقَاءِ الزَّحْفَيْنِ ، وَلِنُزُولِ الْقَطْرِ ، وَلِدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ ، وَلِلْأَذَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الْأَزْدِيَّ مَكَانَ الْأَسَدِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ چیزوں کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں قرآن کی تلاوت ، دشمنوں کا سامنا ، بارش کا نزول ، مظلوم کی دعا اور اذان “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان اسدی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم یحیی بن معین امام نسائی رحمہ اللہ اور علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ امام أحمد اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، تاہم انہوں نے لفظ اسدی کی جگہ لفظ ازدی نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1850
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الصغير للطبراني من اسمه سعيد 472»