کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص نماز کو مخصوص وقت سے مؤخر کر دے
حدیث نمبر: 1819
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلُّوا مَعَهُمْ ، فَإِنْ صَلَّوْا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ مَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ " . فَقُلْتُ : مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ ؟ فَقَالَ : أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُخْبِرُهُ عَامِرٌ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا رَوَى عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو کبھی وقت پر ادا کریں گے اور کبھی مخصوص وقت سے مؤخر کر دیں گے تم لوگ ان کی اقتداء میں نماز ادا کرنا وہ لوگ نماز اپنے وقت پر ادا کریں تو تم ان لوگوں کے ساتھ وہ نماز ادا کر لینا تمہیں بھی اجر ملے گا ، اور انہیں بھی اجر ملے گا ، اور اگر وہ اس کو تاخیر کے ساتھ ادا کریں تو تم اس نماز کو ان کے ساتھ ادا کرنا تمہیں اجر ملے گا ، اور انہیں گناہ ہو گا ، جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ، اور جو شخص عہد کو توڑنے والا ہو گا جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس شخص کی کوئی حجت نہیں ہو گی“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : آپ کو یہ روایت کس نے بیان کی ہے ، تو انہوں نے بتایا : مجھے ۔
یہ روایت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے اپنے والد سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بتائی تھی ۔ یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، تاہم امام مالک نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1820
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ ؟ فَنِعِمَّا فَعَلْتَ . أَمِ ابْتَدَعْتَ ؟ فَقَالَ : لَمْ يَأْتِنِي مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ وَلَمْ أَبْتَدِعْ ، وَلَكِنْ أَبَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے نماز کے لئے تاخیر کر دی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی ولید نے انہیں پیغام بھیجا کہ آپ نے جو کیا ہے ایسا کیوں کیا ہے کیا آپ کے پاس امیرالمؤمنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے ، تو پھر تو آپ نے اچھا کیا ہے یا پھر آپ نے بدعت اختیار کی ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہ تو میرے پاس امیرالمؤمنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے ، اور نہ ہی میں نے بدعت اختیار کی ہے ، لیکن اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ہے کہ ہم اپنی نماز کے لئے تمہارا انتظار کرتے رہیں اور تم لوگ اپنے کام کاج کر رہے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1821
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أَئِمَّةٌ يُمْسُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَاشِدُ بْنُ دَاوُدَ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَدُحَيْمٌ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عتقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو ان کے مخصوص اوقات سے تاخیر سے ادا کریں گے ، تو تم نماز اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لینا اور ان لوگوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل قرار دے دینا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی راشد بن داؤد ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ بن معین ، دحیم اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1821
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1822
وَعَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَجِيءُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ حَتَّى لَا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا " . قُلْنَا : فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالُوا : " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً " . ¤ هَذَا لَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَتَرْجَمَ لَهُ فَقَالَ : حَدِيثُ أَبِي أُبَيٍّ وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَلِأَبِي أَبِيٍّ صُحْبَةٌ . فَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایسے حکمران آئیں گے کہ کچھ چیزیں انہیں مصروف رکھیں گی یہاں تک کہ وہ لوگ نماز اس کے مخصوص وقت پر ادا نہیں کریں گے راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لینا اگر تم ان حکمرانوں کے ساتھ اس نماز کو پاؤ تو ان کے ساتھ ادا کی جانے والی اپنی نماز کو نفل قرار دے دینا ۔
روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کیے ہیں : اسے امام أحمد نے بھی روایت کیا ہے انہوں نے اس کے حالات بھی بیان کیے ہیں ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ ابوابی کی نقل کردہ حدیث ہے انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے یہی روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے ان کے حوالے سے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ سیدنا ابوالی رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1823
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) قَالَ : " هُمُ الَّذِينَ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى مَرْفُوعًا بِنَحْوِ هَذَا وَمَوْقُوفًا ، وَفِيهِ عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : رَوَاهُ الْحُفَّاظُ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غفلت کا شکار تھے “ ۔ تو آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عکرمہ بن ابراہیم ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام بزار کہتے ہیں : حافظان حدیث نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس راوی کے علاوہ کسی اور نے اسے ” مرفوع “ نقل نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1823
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي مسند سعد بن ابي وقاص ، 790 ، السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصلاة جماع ، ابواب صفة الصلاة باب الترغيب فى حفظ وقت . الصلاة والتشديد على من اضاعه ، حديث 2948»
حدیث نمبر: 1824
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتَاهُ أَرَأَيْتُ قَوْلَهُ : ( الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) أَيُّنَا لَا يَسْهُو ؟ أَيُّنَا لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ ، إِنَّمَا هُوَ إِضَاعَةُ الْوَقْتِ ، يَلْهُو حَتَّى يَضِيعَ الْوَقْتُ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ سَعْدٌ : أَوَلَيِسَ كُلُّنَا نَفْعَلُ ذَلِكَ ؟ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : اے ابا جان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غافل ہوتے ہیں “ ۔ تو ہم میں سے کسے سہو لاحق نہیں ہوتا ہے ، اور ہم میں سے کون اپنے خیال میں گم نہیں ہو جاتا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد یہ نہیں ہے ، اس سے مراد وقت ضائع کرنا ہے کہ آدمی دوسری چیزوں میں مصروف رہے ، یہاں تک کہ ( نماز کا مخصوص ) وقت ضائع ہو جائے ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا ہم میں سے ہر ایک ایسا نہیں کرتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1825
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَهُمْ ؟ قَالَ : " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِذَا حَضَرْتُمْ مَعَهُمُ الصَّلَاةَ فَصَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَيَّاطُ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے ارشاد فرمایا : عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو تاخیر سے ادا کریں گے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو شخص ان کا زمانہ پائے اسے کیا کرنا چاہیے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لینا اور اگر تم لوگ ان کی نماز میں شریک ہو ، تو پھر نماز ادا کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سالم بن عبداللہ خیاط ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ امام أحمد ابن حبان اور امام ابو أحمد بن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1825
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1826
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ [ فَسَقَةٌ ] يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب میرے بعد فاسق حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے مخصوص وقت کے علاوہ ادا کریں گے جب وہ ایسا کریں تو تم نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لینا اور ان لوگوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1826
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف