کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جب کوئی شخص کوئی نماز ادا کر لے اور اس کے ذمہ دوسری نماز بھی لازم ہو
حدیث نمبر: 1817
عَنْ أَبِي جُمْعَةَ حَبِيبِ بْنِ سِبَاعٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْمَغْرِبَ وَنَسِيَ الْعَصْرَ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ رَأَيْتُمُونِي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ ؟ " قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَنَقَضَ الْأُولَى ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْأَذَانِ لِلْفَوَائِتِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجمعہ حبیب بن سباع رضی اللہ عنہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کر لی اور عصر کی نماز بھول گئے تھے ۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم لوگوں نے مجھے عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی پھر اس نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی آپ نے پہلی نماز توڑ دی ( یعنی اسے کالعدم قرار دیا ) اور پھر مغرب کی نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : فوت شدہ نمازوں کے لئے اذان دینے کے متعلق باب میں احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : فوت شدہ نمازوں کے لئے اذان دینے کے متعلق باب میں احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 1818
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَذَكَرَهَا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَلْيَقْضِ الَّتِي نَسِيَ ، ثُمَّ لِيُعِدِ الَّتِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز بھول جائے اور پھر وہ نماز اسے اس وقت یاد آئے جب وہ امام کے ساتھ ( کوئی دوسری نماز ادا کر رہا ہو ) تو اسے اپنی نماز مکمل کرنی چاہیے اور پھر اس نماز کی قضا کرنی چاہیے جو وہ بھول گیا تھا پھر اس نماز کو دہرا لینا چاہیے جو اس نے امام کے ساتھ ادا کی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن ہشام مستملی کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن ہشام مستملی کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔