کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عشاء کی نماز کا وقت
حدیث نمبر: 1743
عَنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ هُنَيْهَةٌ - أَوْ سَاعَةٌ - وَالنَّاسُ يَنْتَظِرُونَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَا تَنْتَظِرُونَ ؟ " قَالُوا : نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ . قَالَ : " أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا صَلَاةٌ لَمْ يُصَلِّهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " النُّجُومُ أَمَانُ السَّمَاءِ ، فَإِنْ طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ . وَأَنَا أَمَانُ أَصْحَابِي ، فَإِذَا قُبِضْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ . وَأَصْحَابِي أَمَانُ أُمَّتِي ، فَإِذَا قُبِضَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ . يَا بِلَالُ ، أَقِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا متکدر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک رات آپ تشریف لے گئے آپ نے عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ رات کا ایک پہر گزر گیا لوگ مسجد میں انتظار کر رہے تھے آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہو لوگوں نے عرض کی : ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ جب سے اس کا انتظار کر رہے ہو ؟ تم لوگ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوئے ہو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک یہ ایک ایسی نماز ہے ، جسے تم سے پہلے کی امتوں میں سے کسی نے ادا نہیں کیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا : ستارے آسمان کے محافظ ہیں جب ستارے بجھ جائیں گے ، تو آسمان پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا وعدہ کیا گیا ہے میں اپنے اصحاب کا محافظ ہوں جب مجھے قبض کر لیا جائے گا ، تو میرے اصحاب پر وہ صورت حال آ جائے گی ، جس کا وعدہ کیا گیا ہے ، اور میرے اصحاب میری امت کے محافظ ہیں جب میرے اصحاب کو قبض کر لیا جائے گا ، تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اے بلال ! تم اقامت کہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1743
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1744
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرَكُمْ " . قَالَ : وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ( لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ ) حَتَّى بَلَغَ ( وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر دی پھر آپ مسجد میں تشریف لائے تو لوگ مسجد میں نماز کا انتظار کر رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ اور کسی بھی دین کے پیرو کار لوگ اس وقت میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ برابر نہیں ہیں ، اہل کتاب میں سے ایک امت ہے ، جو کھڑی ہوتی ہے ، اور وہ تلاوت کرتے ہیں “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : وہ لوگ جو بھی بھلائی کریں گے ، تو اس کا انکار نہیں کیا جائے گا ، اور اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کے بارے میں علم رکھنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1744
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «1744 مسند احمد بن حنبل * مسند عبد الله بن مسعود رضى الله تعالى عنه 3651 مسند أبى يعلى الموصلي مسند عبد الله بن مسعود ، حديث 5183 البحر الزخار مسند البزار بقية حديث زر ، حديث 1604 صحيح ابن حبان كتاب الصلاة ، باب مواقيت الصلاة ذكر الإباحة للمرء تاخير العشاء الآخرة إذا لم يخف ضعف الضعيف ، 1549 السنن الكبرى للنسائي سورة آل عمران قوله تعالى ليسوا سواء من ابل الكتاب 10633»
حدیث نمبر: 1745
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ : احْتَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِهِ أَوْ بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَلَمْ يَأْتِنَا لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى ذَهَبَ اللَّيْلُ ، فَجَاءَنَا وَمِنَّا الْمُصَلِّي وَمِنَّا الْمُضْطَجِعُ ، فَبَشَّرَنَا وَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ " فَنَزَلَتْ ( لَيْسُوا سَوَاءً . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، لَيْسَ فِيهِمْ غَيْرُ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر ٹھہرے رہے ( یہاں راوی کو ایک لفظ کے بارے میں شک ہے ) آپ عشاء کی نماز کی ادائیگی کے لئے ہمارے پاس تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا تھا کوئی لیٹا ہوا تھا آپ نے ہمیں خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس وقت میں اہل کتاب میں سے کسی نے بھی نماز ادا نہیں کی تو یہ آیت نازل ہو گئی : ” وہ برابر نہیں ہیں “ ۔
امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں عاصم بن ابونجود کے علاوہ اور کوئی غیر ثقہ نہیں ہے ، اس راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوای عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1746
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : الرَّجُلُ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ ؟ . قَالَ : انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْنَا حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فَصَلَّيْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " اجْلِسُوا " ، فَخَطَبَنَا فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى زَادَ : ثُمَّ قَالَ : " لَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَكِبَرُ الْكَبِيرِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " . وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آدمی نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ، جب تک وہ نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے انہوں نے جواب دیا : ایک مرتبہ ہم نے عشاء کی نماز کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ جب نصف رات کے قریب کا وقت ہو گیا یعنی نصف رات کا وقت ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے نماز ادا کر لی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ بیٹھے رہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں نے نماز ادا کر بھی لی اور وہ سو بھی گئے اور تم لوگ اس وقت تک مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہو گے جب سے تم نماز کا انتظار کرتے رہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اگر کمزور شخص کی کمزوری اور بڑی عمر کے فرد کی عمر کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کرتا “ ۔ امام ابویعلیٰ کی سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1747
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي يَعْلَى أَيْضًا عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنِمْتُ ثُمَّ اسْتَيْقَظْتُ ، ثُمَّ نِمْتُ ثُمَّ اسْتَيْقَظْتُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَقَالَ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَفِيهِ الْفُرَاتُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ کی ایک روایت جو سیدنا جابر رضی اللہ ہی کے حوالے سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے میں سو گیا پھر بیدار ہو گیا پھر میں سو گیا پھر میں بیدار ہو گیا مسلمانوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور بولے : نماز نماز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔
اس روایت میں فرات بن ابوفرات ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1748
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَّرَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ حَتَّى رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا - وَإِنَّمَا حَبَسَنَا لِوَفْدٍ جَاءَهُ - ثُمَّ خَرَجَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : وَإِنَّمَا أَخَّرَ لِوَفْدٍ جَاءَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کر دی یہاں تک کہ ہم لوگ سو گئے پھر ہم بیدار ہو گئے پھر ہم سو گئے پھر ہم بیدار ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وفد کی وجہ سے مصروف رہے تھے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وفد کی آمد کی وجہ سے نماز کو مؤخر کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «1748 مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما 5930»
حدیث نمبر: 1749
وَلِابْنِ عُمَرَ عِنْدَ الْبَزَّارِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ : نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَقَالَ : " مَا يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کر دی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو بلند آواز میں پکارا خواتین اور بچے سو چکے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تشریف لانے کے بعد ) ارشاد فرمایا : اہل زمین میں تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے - اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1750
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى انْقَلَبَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ مَا بَلَغُوا سَبْعَةَ عَشَرَ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُصَلِّيَ مَعَهُ وَأَعْلَمَ مَا أَمْرُهُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ قَرِيبًا مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَلَمْ يَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا إِذْ سَمِعَ نَغْمَةً مِنْ كَلَامِهِمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَمَشَى إِلَيْهِمْ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " مَا يَحْبِسُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، انْتَظَرْنَاكَ لِنَشْهَدَ الصَّلَاةَ مَعَكَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " مَا صَلَّى صَلَاتَكُمْ هَذِهِ أُمَّةٌ قَطُّ قَبْلَكُمْ ، وَمَا زِلْتُمْ فِي صَلَاةٍ بَعْدُ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ النُّجُومَ أَمَانُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى أَهْلَ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ ، وَإِنِّي أَمَانٌ لِأَصْحَابِي ، فَإِذَا ذَهَبَتْ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ . وَأَصْحَابِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي ، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کی یہاں تک کہ مسجد میں موجود افراد واپس چلے گئے صرف سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب جن کی تعداد پندرہ یا سولہ تھی سترہ نہیں تھی وہ رہ گئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آج رات مسجد سے باہر نہیں جاؤں گا جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے آتے اور میں آپ کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کر لیتا اور میں یہ بات نہیں جان لیتا کہ آپ کو کیا معاملہ درپیش آیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تہائی رات کے قریب تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے آپ نے مسجد میں کسی شخص کو نہیں دیکھا اسی دوران مسجد کے گوشے سے ان افراد کی آواز سنائی دی تو آپ چلتے ہوئے ان کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا : تم لوگ اس وقت تک کیوں رکے ہوئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ آپ کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری یہ نماز تم سے پہلے کسی امت نے ادا نہیں کی اور تم مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوئے ہو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ستارے آسمان کی امان ہیں جب ستارے بجھ جائیں گے ، تو اہل آسمان پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے میں اپنے اصحاب کی امان ہوں جب میں رخصت ہو جاؤں گا ، تو میرے اصحاب پر وہ صورت حال آ جائے گی کہ جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ، اور میرے اصحاب میری امت کے لئے امان ہیں جب میرے اصحاب رخصت ہو جائیں گے ، تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں بھی ایک حدیث منقول ہے ، جو عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے -
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1750
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، وما اسند عبد الله بن عباس رضي عنهما طاؤس ، 10818»
حدیث نمبر: 1751
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ : احْتَبَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَمْسَى أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ النُّجُومَ أَمَانًا لِأَهْلِ السَّمَاءِ ، فَإِذَا طُمِسَتِ اقْتَرَبَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ ، وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ أَصْحَابِي أَمَانًا لِأُمَّتِي ، فَإِذَا هَلَكَ أَصْحَابِي أَتَى لِأُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مستودر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ مسجد میں دس سے کچھ زیادہ افراد باقی رہ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لوگوں کے پاس تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ اس نماز کا انتظار کرنے والا اور کوئی نہیں ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو اہل آسمان کے لئے امان بنایا ہے ، جب وہ بجھ جائیں گے ، تو اہل آسمان کے قریب وہ چیز آ جائے گئی ، جس کا وعدہ کیا گیا ہے ، اور میرے اصحاب کو اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے امان بنایا ہے ، جب میرے اصحاب رخصت ہو جائیں گے ، تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1752
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر کمزور شخص کی کمزوری اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کریب ہے ، اور ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1753
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ؟ قَالَ : " إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : میں عشاء کی نماز کب ادا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب رات ہر وادی کے نشیبی حصے کو بھر دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1753
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1754
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ الْعِشَاءِ قَالَ : " إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشاء کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : جب رات ہر وادی کے نشیبی حصے کو بھر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1754
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1755
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کیا کرتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1755
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1756
وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَيْنِي تَغْلِبُنِي عَنِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِّلِيهَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ فَقَدْ حَلَّ وَقْتُ الصَّلَاةِ ، فَصَلِّي وَلَا إِثْمَ عَلَيْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عشاء کی نماز کے وقت میری آنکھ لگ جاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم اسے جلدی ادا کر لیا کرو جب رات ہر وادی کے نشیبی حصے کو بھر دے تو نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے تم نماز ادا کر لیا کرو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1756
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الفاء ، باب الياء ام انس الانصارية وليست بام انس بن مالك ، 21255»
حدیث نمبر: 1757
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ - وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : ثَمَانٍ لَيَالٍ - إِلَى ثُلْثِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ . قَالَ : فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو راتوں تک عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی یہاں ابوداؤد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آٹھ راتوں تک ایسا کیا آپ نے اسے ایک تہائی رات گزرنے تک مؤخر کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے جلدی ادا کر لیں تو یہ ہمارے رات کے نوافل کے لئے زیادہ موزوں ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جلدی ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس سے روایت کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف