حدیث نمبر: 1691
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شِدَّةَ الرَّمْضَاءِ ، فَلَمْ يُشْكِنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریت کے گرم ہونے کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار خشف بن مالك ، حديث 1693»
حدیث نمبر: 1692
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ بِالْهَاجِرَةِ ، فَلَمْ يُشْكِنَا . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَيْضًا
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوپہر کی نماز کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ۔
اس روایت کے رجال بھی ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، ومن مسند عبد الله بن مسعود رضى الله عنه 9631»
حدیث نمبر: 1693
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا عَبْدُ اللَّهِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ : الظُّهْرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذَا - وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ - مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی ، اُس وقت جب سورج ڈھل گیا تھا ، تو میں نے سلیمان سے کہا: یہ ظہر کی نماز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، یہ اس نماز کا مخصوص وقت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1693
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1694
وَعَنْ خَشْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْجَنَادِبُ تَتَقَافَزُ مِنْ حَرِّ الرَّمْضَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
خشف بن مالک بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز اُس وقت ادا کر لیتے تھے ، جب ریت کی تپش کی وجہ سے ” جندب “ ( نام کی ٹڈیاں ) ایک دوسرے پر سوار ہو رہی ہوتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1694
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1695
وَعَنْ خَبَّابٍ قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّ الرَّمْضَاءِ ، فَلَمْ يُشْكِنَا وَقَالَ : " إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلُّوا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریت کے گرم ہونے کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سورج ڈھل جائے ، تو تم لوگ نماز ادا کر لو ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جب سورج ڈھل جائے ، تو تم لوگ نماز ادا کر لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1695
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1696
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَأْخُذُ أَحَدُنَا الْحَصَى فِي يَدِهِ ، فَإِذَا بَرَدَ وَضَعَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے ، تو ہم میں سے کوئی ایک شخص کنکریاں اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا ، جب وہ ٹھنڈی ہو جاتی تھیں ، تو پھر وہ انہیں رکھ کر اُس پر سجدہ کرتا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1696
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلى بكر المزنى ، 4045»
حدیث نمبر: 1697
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّمْضَاءَ ، فَلَمْ يُشْكِنَا وَقَالَ : " أَكْثَرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهَا تَدْفَعُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ ، أَدْنَاهَا الْهَمُّ " . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّلَاةِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَلْهَطُ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریت کے گرم ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھو ! کیونکہ یہ نقصان کے ننانوے دروازے دور کر دیتا ہے ، جن میں سے سب سے کمتر ، سخت ترین پریشانی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ، جو گرمی کی شدت میں نماز ادا کرنے کے بارے میں ہے ، وہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” بلہط“ ہے ، جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1697
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1698
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْفَيْءُ ذِرَاعًا وَنِصْفًا إِلَى ذِرَاعَيْنِ فَصَلُّوا الظُّهْرَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب سایہ ڈیڑھ گز سے دو گز تک ہو جائے ، تو تم ظہر کی نماز ادا کر لو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي مسند عبد الله بن عمر ، 5373»
حدیث نمبر: 1699
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ أَذَّنَ بِالظُّهْرِ وَعُمَرُ بِمَكَّةَ ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا مَحْذُورَةَ ، أَمَا خِفْتَ أَنْ تَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ ؟ قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكَ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ : " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَإِنَّ جَهَنَّمَ تَحَاجَّتْ حَتَّى أَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَاسْتَأْذَنَتِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي نَفْسَيْنِ فَأَذِنَ لَهَا ، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَشَدَّةُ الزَّمْهَرِيرِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : " إِنَّ جَهَنَّمَ قَالَتْ : أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا " وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ نُسِبَ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ظہر کی نماز کے لئے اذان دی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس وقت مکہ میں موجود تھے ، انہوں نے آواز کو بلند رکھا ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب سورج ڈھل گیا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابومحذورہ ! کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوا کہ تم ( آواز کو زیادہ بلند کرنے کی وجہ سے ) اپنے گلے کی رگوں کو چیر دو گے ؟ تو انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں اس کی آواز آپ تک پہنچاؤں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب گرمی شدید ہو ، تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ، کیونکہ گرمی ، جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، جہنم بھڑک رہی ہوتی ہے ، یہاں تک کہ اُس کا ایک حصہ دوسرے کو کھا لیتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت لیتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اجازت دے دیتا ہے ، تو گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، اور سردی کی شدت اُس کی ٹھنڈک کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جہنم نے یہ کہا: میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے ، جس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1699
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع، کیونکہ اس کا راوی محمد بن الحسن بن زبالہ متہم بالوضع
حدیث نمبر: 1700
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ ; فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ صَفْوَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْقَاسِمُ بْنُ صَفْوَانَ لَا يُعْرَفُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن صفوان نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور قاسم بن صفوان نامی راوی کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : قاسم بن صفوان نامی راوی کی شناخت صرف اسی حدیث میں ہو سکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1700
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1701
وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ : سَمِعْتُ حَجَّاجَ بْنَ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيَّ - وَكَانَ إِمَامَهُمْ - يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ حَجَّاجٌ : أَرَاهُ [ عَبْدُ اللَّهِ ] عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شعبہ بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج بن حجاج اسلمی کو ، جو ان لوگوں کے امام تھے ، انہیں اپنے والد کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا : اُن کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : حجاج نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، تو جب گرمی شدید ہو ، تو نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1702
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : “” “” «إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ» “” “” ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1703
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَبْرِدُوا بِصَلَاةِ الظُّهْرِ ; فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ! کیونکہ گرمی کی شدت ، جہنم کی تپش کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1703
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف