حدیث نمبر: 1681
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّنِي جِبْرِيلُ فِي الصَّلَاةِ ; فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَامَةً ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ ، ثُمَّ جَاءَ الْغَدُ ; فَصَلَّى الظُّهْرَ وَفَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْفَيْءُ قَامَتَانِ ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلْثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ، وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ ، ثُمَّ قَالَ : الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جبرائیل نے ، نماز میں میری امامت کی ، انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی ، جب سورج ڈھل گیا تھا اور عصر کی نماز اس وقت ادا کی ، جب ایک مثل سایہ ہو چکا تھا ، مغرب کی نماز اس وقت ادا کی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، اور عشاء کی نماز اس وقت ادا کی ، جب شفق غائب ہو گئی تھی ، فجر کی نماز اس وقت ادا کی ، جب صبح صادق ہو گئی تھی ، پھر جب وہ اگلے دن آئے ، تو انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی ، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل تھا ، عصر کی نماز اس وقت ادا کی ، جب سایہ دو مثل ہو چکا تھا ، مغرب کی نماز اس وقت ادا کی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزرنے کے بعد ادا کی ، اور صبح کی نماز اس وقت ادا کی ، جب سورج نکلنے کے قریب تھا ، پھر انہوں نے یہ بتایا : نماز کا وقت ان دو اوقات کے درمیان ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند ابي سعيد الخدري رضى الله عنه 11032 ، المعجم الكبير للطبراني من اسمه زرارة وما اسند ابو سعيد الخدرى رضى الله عنه 5303»
حدیث نمبر: 1682
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهُمْ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَاءَهُ ، فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ وَقْتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ : " جَاءَنِي صَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلَ شِرَاكِ نَعْلِي ، ثُمَّ جَاءَنِي فَصَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلِي ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِي سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعَشَاءِ فَصَلَّى سَاعَةَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْفَجْرِ فَصَلَّى بِي سَاعَةَ بَرِقَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ جَاءَنِي مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلِي ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعَصْرِ فَصَلَّى بِي حِينَ كَانَ فَيْئِي مِثْلَيَّ ، ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِي حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ - لَمْ يُغَيِّرْهُ عَنْ وَقْتِهِ الْأَوَّلِ - ثُمَّ جَاءَنِي فِي الْعِشَاءِ فَصَلَّى بِي حِينَ ذَهَبَ ثُلْثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ أَسْفَرَ فِي الْفَجْرِ حَتَّى لَا أَرَى فِي السَّمَاءِ نَجْمًا ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ : سَمِعَ مِنْهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ ذَلِكَ . وَشَيْخُ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی : سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تمام نمازیں دو مختلف اوقات میں پڑھائیں ، البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ) وہ میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی ، جب میرا سایہ میرے جوتے کے تسمے کی مانند ہو چکا تھا ، پھر وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب میرا سایہ ایک مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ میرے پاس مغرب کی نماز کے لئے آئے تو انہوں نے مجھے یہ نماز اس وقت پڑھا دی جب سورج غروب ہو گیا تھا ، پھر وہ عشاء کے وقت میرے پاس آئے اور اس وقت نماز پڑھائی جب شفق غروب ہوئی تھی ، پھر وہ فجر کی نماز میں میرے پاس آئے ، تو اس وقت نماز پڑھائی ، جب صبح صادق ہوئی تھی ، جب وہ اگلے دن میرے پاس آئے ، تو انہوں نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی ، جب میرا سایہ ایک مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ عصر کی نماز کے لئے میرے پاس اس وقت آئے اور انہوں نے مجھے نماز اس وقت پڑھائی ، جب میرا سایہ دو مثل ہو گیا تھا ، پھر وہ مغرب کی نماز کے لئے میرے پاس آئے ، اور مجھے وہ نماز اس وقت پڑھائی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، اس نماز میں انہوں نے پہلے وقت سے کوئی تبدیلی نہیں کی تھی ، پھر وہ عشاء کی نماز کے لئے میرے پاس آئے اور مجھے یہ نماز اس وقت پڑھائی جب رات کا ابتدائی ایک تہائی حصہ رخصت ہو چکا تھا ، پھر انہوں نے فجر کی نماز روشنی میں ادا کی ، یہاں تک کہ مجھے آسمان میں کوئی ستارہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : ان دونوں کے درمیان ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے ، عمر بن عبدالرحمن بن اسید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : ابونعیم اور عبداللہ بن نافع نے اس سے سماع کیا ہے ، میں نے اپنے والد کو یہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، امام بزار کے استاد ابراہیم بن نصر ہیں ، میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1683
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ ، وَالْفَجْرُ رُبَّمَا صَلَّاهَا حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَرُبَّمَا أَخَّرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے ، جب سورج ڈھل جاتا تھا اور عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ، جب سورج چمکدار اور روشن ہوتا تھا ، مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ، جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشاء اس وقت ادا کرتے تھے ، جب شفق غروب ہو جاتی تھی ، فجر کی نماز آپ بعض اوقات اس وقت ادا کرتے تھے ، جب صبح صادق ہوتی تھی اور بعض اوقات اُسے ذرا تاخیر کر کے ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1683
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1684
وَعَنْ بَيَانٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : حَدِّثْنِي بِوَقْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّلَاةِ . قَالَ : كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ عِنْدَ دَلُوِكِ الشَّمْسِ ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتِكُمُ الْأُولَى وَالْعَصْرِ ، وَكَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ ، وَيُصَلِّي الْغَدَاةَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ حِينَ يَفْتَتِحُ الْبَصَرُ ، كُلُّ مَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقْتٌ ، أَوْ قَالَ : صَلَاةٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى هَكَذَا كَمَا هُنَا مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
بیان ( نامی راوی ) بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے وقت کے بارے میں حدیث بیان کیجئے ! تو انہوں نے بتایا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھل جانے کے بعد ادا کر لیتے تھے ، اور عصر کی نماز اس درمیانی وقت میں ادا کرتے تھے ، جو تمہارا پہلی ( یعنی ظہر کی ) اور عصر کی نماز کا درمیانی وقت ہے ، آپ مغرب کی نماز سورج کے غروب ہونے کے بعد ادا کرتے تھے ، اور عشاء کی نماز شفق غروب ہونے کے بعد ادا کرتے تھے ، صبح کی نماز آپ صبح صادق ہونے کے بعد ادا کر لیتے تھے ، جب بینائی کو دکھائی دینا شروع ہوتا ہے ، تو ان سب کے درمیان وقت ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) نماز ( کی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسی طرح کسی اضافے کے بغیر نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلى على بن زيد ، حديث 3893»
حدیث نمبر: 1685
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَقَدَّمَ وَأَخَّرَ وَقَالَ : " الْوَقْتُ مَا بَيْنَهُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حَفْصَةُ بِنْتُ عَازِبٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤
محمد محی الدین
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے تقدیم بھی کی اور تاخیر بھی کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان ( نماز کا مخصوص ) وقت ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خاتون حفصہ بنت عازب ہیں ، میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند ابي يعلى الموصلي مسند البراء بن عازب ، 1642»
حدیث نمبر: 1686
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا دَلَكَتِ الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلَالٌ الظُّهْرَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ حِينَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْهُ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَشَاءِ حِينَ ذَهَبَ بَيَاضُ النَّهَارِ وَهُوَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ الْغَدَ لِلظَّهْرِ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَادَ يَغِيبُ بَيَاضُ النَّهَارِ ، وَهُوَ الشَّفَقُ فِيمَا نَرَى ، ثُمَّ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ ؟ فَإِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا ، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلَاةِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ أَوْ أَقْرَبَ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ " . ثُمَّ أَذَّنَ لِلْفَجْرِ ، فَأَخَّرَهَا حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ ، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : جب سورج ڈھل گیا ، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی اذان دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر اُنہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ، اس وقت جب ہم یہ گمان کر رہے تھے کہ آدمی کا سایہ اس سے زیادہ طویل ہو چکا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب دن کی سفیدی رخصت ہو گئی تھی ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس سے مراد شفق ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب صبح صادق ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر اگلے دن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب سورج ڈھل گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس سے دو مثل ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب سورج غروب ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کیا ، یہاں تک کہ قریب تھا کہ دن کی سفیدی یعنی شفق رخصت ہو جاتی ، جو ہمیں نظر آ رہا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے عشاء کی نماز کے لئے اس وقت اذان دی ، جب شفق غروب ہوئی تھی ، پھر ہم سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوئے ایسا کئی مرتبہ ہوا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ لوگوں میں سے کوئی بھی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ، اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو ، تم نماز کی حالت میں شمار ہو گے ، اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں یہ نماز نصف رات ، یا نصف رات کے قریب تک مؤخر کر کے ادا کرنے کا حکم دیتا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لئے اذان دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مؤخر کیا ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ان دو کے درمیان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1687
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ - أَوْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ - كِلَاهُمَا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الظُّهْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الشَّيْءِ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ [ الْأَحْمَرُ ] فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ بَسَقَ الْفَجْرُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ الْغَدَ وَظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ فَصَلِّ . ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ أَسْفَرَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلِّ الصُّبْحَ ، فَقَامَ فَصَلَّى . ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ أَصْلُهُ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ لِأَوَّلِ الْوَقْتِ وَآخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَمُسْلِمٌ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَةٍ ، وَكَذَلِكَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي رِوَايَاتٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا بشیر بن ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں صحابی ہونے کا شرف حاصل رکھتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُس وقت جب سورج ڈھل گیا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ ظہر کی نماز ادا کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے ، جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو چکا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ عصر کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کر لی ، پھر سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو گیا تھا انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ مغرب کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق یعنی سرخی غروب ہو گئی تھی اور بولے : اے سیدنا محمد ! آپ اُٹھیں اور عشاء کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور عشاء کی نماز ادا کر لی ، پھر وہ آپ کے اس وقت آئے جب صبح صادق ہوئی تھی ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ اٹھیں اور صبح کی نماز ادا کر لیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کر لی ۔ پھر اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا ، انہوں نے کہا: آے سیدنا محمد ! آپ انھیں اور ظہر کی نماز ادا کر لیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز کر لی پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا تھا انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ عصر کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی ، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو گیا تھا ، ( دونوں دنوں میں ) یہ ایک ہی وقت ہے ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ مغرب کی نماز ادا کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی ، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے ، جب رات کا کچھ حصہ گزر چکا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ اٹھیں اور عشاء کی نماز ادا کر لیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب صبح روشن ہو چکی تھی ، انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ صبح کی نماز ادا کر لیں ’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی ، پھر انہوں نے بتایا : ان دو کے درمیان ( نمازوں کا مخصوص ) وقت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ” صحیح “ میں اس کی اصل موجود ہے ، جس میں ابتدائی اور آخری وقت کا بیان نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے علی بن مدینی ، امام مسلم اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ایک روایت کے مطابق عمرو بن علی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے بھی اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دیگر روایات کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، تاہم اکثر محدثین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، من اسمه عقيل بشير بن ابي مسعود ، 14552»
حدیث نمبر: 1688
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ مَوْلَايَ قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ فَيَقُولُ : أَدَلَكَتِ الشَّمْسُ ؟ فَإِذَا قُلْتُ : نَعَمْ ، صَلَّى الظُّهْرَ وَيَقُولُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ [ حَيَّةٌ ] ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالصَّائِمُ يَتَمَارَى أَنْ يُفْطِرَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْفَجْرَ حِينَ يَتَغَشَّى النُّورُ السَّمَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا وَفِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : وَيُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ . وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ، رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَضَعَّفَهُ بَقِيَّةُ النَّاسِ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا سیدنا قیس بن سائب رضی اللہ عنہ کے سواری کے جانور کو لے کر چل رہا تھا ، انہوں نے دریافت کیا : سورج ڈھل گیا ہے ؟ جب میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے ظہر کی نماز ادا کر لی ، اور یہ بات بتائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اُس وقت ادا کرتے تھے جب سورج روشن اور چمکدار ہوتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ، جب روزہ دار اس شبہ کا شکار ہوتا تھا کہ شاید اس کی افطاری کا وقت ہو گیا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے ، جب روشنی آسمان کو ڈھانپ لیتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، البتہ معجم اوسط میں انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرتے تھے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ، جس سے شعبہ اور سفیان نے روایات نقل کی ہیں ، باقی لوگوں نے یعنی امام أحمد ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1688
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1689
وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ وَقْتِ الظُّهْرِ فَقَالَ : أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ ظِلَّهُ إِلَى أَنْ يَصِيرَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ، وَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الْعَصْرِ فَقَالَ : صَلِّهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ، وَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الْمَغْرِبِ فَقَالَ : إِذَا وَقَعَتِ الشَّمْسُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ظہر کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ کہ آدمی کا سایہ جب اس کے پاؤں میں ہو ، اُس وقت سے لے کر جب تک ہر چیز کا سایہ ایک مثل نہیں ہو جاتا ، اُس کے درمیان ( کا وقت ہے ) اُس شخص نے ان سے عصر کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : تم یہ نماز اس وقت ادا کرنا ، جب سورج روشن اور چمکدار ہو ، اس شخص نے ان سے مغرب کے وقت کے بارے میں دریافت کیا : ، تو انہوں نے فرمایا : جب سورج غروب ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1690
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ لِلصَّلَاةِ وَقْتًا كَوَقْتِ الْحَجِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حج کے مخصوص وقت کی طرح ، ہر نماز کا مخصوص نام وقت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع ورجالہ موثقون۔