حدیث نمبر: 1640
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي ذِمَّتِهِ ; فَإِنَّهُ مَنْ أَخَفَرَ ذِمَّتَهُ طَلَبَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ - حَتَّى يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ، تو وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، تو تم اللہ تعالی کی پناہ کی خلاف ورزی نہ کرو ، کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُس سے حساب لے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل اوندھا کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، بعض نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، بعض نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1641
وَلِابْنِ عُمَرَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ : أَنَّ الْحَجَّاجَ أَمَرَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بِقَتْلِ رَجُلٍ ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ : أَصْلَيْتَ الصُّبْحَ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ : مَا مَنَعَكَ مِنْ قَتْلِهِ ؟ فَقَالَ سَالِمٌ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ كَانَ فِي جِوَارِ اللَّهِ يَوْمَهُ " ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَ رَجُلًا قَدْ أَجَارَهُ اللَّهُ . فَقَالَ الْحَجَّاجُ لِابْنِ عُمَرَ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : نَعَمْ . ¤ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَانِيِّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ تَأْتِي فِي الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے ، معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : حجاج نے ، سالم بن عبداللہ کو ایک شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا ، تو سالم نے اس شخص سے دریافت کیا : تم نے صبح کی نماز ادا کی ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سالم نے کہا: تم چلے جاؤ ! حجاج نے ان سے دریافت کیا : تم نے اسے قتل کیوں نہیں کیا ؟ تو سالم نے بتایا : میرے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ، وہ دن بھر کے لئے اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے “ ۔ تو سالم نے کہا: میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، کہ میں ایک ایسے شخص کو قتل کر دوں ، جسے اللہ تعالی پناہ دے چکا ہو ، حجاج نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! !
اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، جسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کی ایک اور سند بھی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل ہے ، اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، جسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کی ایک اور سند بھی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل ہے ، اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حدیث نمبر: 1642
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ فِي بَصَرِهِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي وَتَدْعُوَ لَنَا بِالْبَرَكَةِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ ، فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَاكَ كَهْفُ الْمُنَافِقِينَ وَمَأْوَاهُمْ ، فَأَكْثَرُوا فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلَيْسَ يُصَلِّي ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَاةٌ لَا خَيْرَ فِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " - مَرَّتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی کمزور ہو گئی ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا ، مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں ، اور میرے گھر میں نماز ادا کریں ، اور میرے لئے برکت کی دعا کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب سمیت تشریف لے گئے ، آپ ان کے ہاں گئے ، وہ لوگ آپس میں بات چیت کرتے رہے ، ان لوگوں نے مالک بن دخشم کا ذکر کیا ، تو ایک شخص بولا: یا رسول اللہ ! وہ منافقین کی پناہ گاہ اور ان کا ٹھکانہ ہے ، ان لوگوں کا اس کے ساتھ بڑا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام نے ارشاد فرمایا : کیا وہ نماز ادا نہیں کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! وہ ایسی نماز ادا کرتا ہے ، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن یساف ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن یساف ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 1643
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " عَنْ ضَرْبِ " ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” مارنے سے “ اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” مارنے سے “ اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 1644
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فَأُصِيبَتْ ذِمَّتُهُ فَقَدِ اسْتُبِيحَ حِمَى اللَّهِ وَأُخْفِرَتْ ذِمَّتُهُ ، وَأَنَا طَالِبٌ بِذِمَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لے ، اور پھر اس کی پناہ کو نقصان پہنچایا جائے ، تو اب اللہ تعالیٰ کی چراہ گاہ کو مباح قرار دیا گیا ہے ، اور اس کی پناہ کی خلاف ورزی کی گئی ، تو میں اُس کی پناہ کے حوالے سے حساب لوں گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اسے ” ثقہ “ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اسے ” ثقہ “ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1645
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَإِيَّاكُمْ أَنْ يَطْلُبَكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوتا ہے ، تو تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرنا ، کہ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ کے حوالے سے ، تم سے کسی بارے میں حساب لے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 1646
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَمَنْ أَخَفَرَ ذِمَّةَ اللَّهِ كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز با جماعت ادا کر لے ، وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ کی خلاف ورزی کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُسے اوندھا کر کے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1647
وَلِأَبِي بَكْرَةَ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ . يَابْنَ آدَمَ لَا يَطْلُبْنَكَ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، معجم کبیر ہی میں ،
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لے ، وہ اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتا ہے ، تو اے آدم کی اولاد ! اللہ تعالیٰ اپنی پناہ کے حوالے سے ، تم سے حساب نہ لے “ اس کی سند میں کلام کی گنجائش ہے ۔
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لے ، وہ اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتا ہے ، تو اے آدم کی اولاد ! اللہ تعالیٰ اپنی پناہ کے حوالے سے ، تم سے حساب نہ لے “ اس کی سند میں کلام کی گنجائش ہے ۔
حدیث نمبر: 1648
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ يَمَانٍ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ، وہ اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتا ہے ، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن یمان ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن یمان ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1649
وَعَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ : جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ - أَظُنُّهُ يَكُونُ فِيهِ مُدٌّ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ - غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَشَاءَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ ، ثُمَّ لَعَلَّهُ يَبِيتُ يَتَمَرَّغُ لَيْلَتَهُ ، ثُمَّ إِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الصُّبْحَ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ " . قَالُوا : هَذِهِ الْحَسَنَاتُ ، فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ ؟ قَالَ : هُنَّ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
حارث ، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے ، ہم بھی ان کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ، اس دوران مؤذن آیا ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : اس برتن میں ایک ” مد “ پانی تھا ، انہوں نے وضو کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح ، وضو کرتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ، اور پھر کھڑا ہو کر ، ظہر کی نماز ادا کرے ، تو اس شخص کے صبح کی نماز سے لے کے ظہر تک کے ، درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر جب وہ عصر کی نماز ادا کر لے ، تو اس شخص کے ظہر سے لے کر عصر تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر جب وہ مغرب کی نماز ادا کر لے ، تو اس کے عصر سے لے کر مغرب تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر جب وہ عشاء کی نماز ادا کر لے ، تو اس کے مغرب سے لے کر عشاء تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور پھر وہ ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہے کہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے ، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر وضو کر کے صبح کی نماز ادا کرتا ہے ، تو اس شخص کے عشاء کی نماز سے لے کر صبح تک کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، یہ وہ ” حسنات “ ( یعنی نیکیاں ) ہیں ، جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں“ ۔ لوگوں نے عرض کی : اے سیدنا عثمان ! یہ ” حسنات “ ہیں ، تو ” باقیات “ سے کیا مراد ہو گی ؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حارث بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا غلام ہے ، ویسے وہ ” ثقہ “ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حارث بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا غلام ہے ، ویسے وہ ” ثقہ “ ہے ۔
حدیث نمبر: 1650
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُونَ : كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمْ وَعُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ ثُمَّ تُوُفِّيَ ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ فَقَالَ : " أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُدْرِيكَ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ : " إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ غَمْرٍ عَذْبٍ ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَاذَا تَرَوْنَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو افراد تھے ، وہ دونوں بھائی تھے ، اُن میں سے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتا تھا ، اس شخص کا انتقال ہو گیا ، جو فضیلت رکھتا تھا ، اس کے انتقال کے بعد اس کے دوسرے بھائی کو مزید کچھ زندگی نصیب ہوئی ، پھر اُس کا بھی انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہلے بھائی کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وہ ( یعنی جو بھائی بعد میں فوت ہوا ہے ) وہ بعد میں نماز ادا نہیں کرتا تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہیں کیا پتہ ؟ کہ اس کی نماز نے اسے کہاں تک پہنچا دیا ہے ؟ “ پھر اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” نماز کی مثال ، اس نہر کی مانند ہے ، جو کسی شخص کے دروازے کے پاس سے گزرتی ہے ، وہ میٹھے اور صاف پانی کی نہر ہوتی ہے ، وہ شخص اُس میں پانچ مرتبہ ڈبکی لگاتا ہے ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کا میل باقی رہ گیا ہو گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اُس کے بعد ، دوسرے بھائی کو ، چالیس دن تک مزید زندگی ملی “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اُس کے بعد ، دوسرے بھائی کو ، چالیس دن تک مزید زندگی ملی “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1651
وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا عُثْمَانَ ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا ؟ قُلْتُ : وَلِمَ تَفْعَلُهُ ؟ قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ ، فَقَالَ : " يَا سَلْمَانُ ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا ؟ " قُلْتُ " وَلِمَ تَفْعَلُهُ ؟ قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ - تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَذَا الْوَرَقُ " ، وَقَالَ : ( أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ . وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعثمان بیان کرتے ہیں : میں ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ، ایک درخت کے نیچے موجود تھا ، انہوں نے ایک خشک شاخ کو پکڑا ، اُسے ہلایا ، تو اس کے پتے گر گئے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے ابوعثمان ! کیا تم مجھ سے دریافت نہیں کرو گے ؟ کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا ، میں اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خشک شاخ پکڑی ، اُسے ہلایا ، یہاں تک کہ اُس کے پتے گر گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی مسلمان وضو کرتے ہوئے ، اچھی طرح وضو کرے اور پھر پانچ نمازیں ادا کرے ، تو اُس کے گناہ یوں گر جاتے ہیں جس طرح یہ پتے گر گئے ہیں “ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” دن کے دونوں حصوں میں ، نماز قائم کرو ، اور رات کے کچھ حصے میں بھی ، بے شک نیکیاں ، برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ، اور یہ چیز نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1652
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ عَذْبٍ جَارٍ - أَوْ غَمْرٍ - عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، مَا يَبْقَى عَلَيْهِ مِنْ دَرَنِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پانچ نمازوں کی مثال ، صاف پانی کی نہر کی مانند ہے ، جو کسی شخص کے دروازے سے گزرتی ہے ، اور وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہے ، تو اس پر کوئی میل باقی نہیں رہ جاتا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1653
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ہر نماز اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1654
وَعَنْ أَبِي الرَّصَافَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَاهِلَةَ أَعْرَابِيٍّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ ، فَيَقُومُ فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، وَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الرَّصَافَةِ لَمْ أَرَ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا . ¤
محمد محی الدین
ابورصافہ ، جن کا تعلق اہل شام سے ہے ، اور وہ باہلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک دیہاتی ہیں ، انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جس بھی مسلمان شخص کے سامنے فرض نماز کا وقت آ جائے ، اور وہ اُٹھ کر وضو کرے اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، اور نماز ادا کرے تو اچھی طرح نماز ادا کرے ، اُس شخص کے اس نماز اور اس سے پہلے والی نماز کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ابورصافہ نامی راوی کے بارے میں ، میں نے کوئی جرح یا کوئی تعدیل نہیں دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ابورصافہ نامی راوی کے بارے میں ، میں نے کوئی جرح یا کوئی تعدیل نہیں دیکھی ہے ۔
حدیث نمبر: 1655
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَعْتَمِلُ ، فَكَانَ بَيْنَ مَنْزِلِهِ وَمُعْتَمَلِهِ خَمْسَةُ أَنْهَارٍ ، فَإِذَا أَتَى مُعْتَمَلَهُ عَمِلَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَصَابَهُ الْوَسَخُ أَوِ الْعَرَقُ ، فَكُلَّمَا مَرَّ بِنَهْرٍ اغْتَسَلَ ، مَا كَانَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ؟ فَكَذَلِكَ الصَّلَاةُ ; كُلَّمَا عَمِلَ خَطِيئَةً فَدَعَا وَاسْتَغْفَرَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَزَادَ فِيهِ : " ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً اسْتَغْفِرَ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا " . وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرَيْظٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پانچ نمازیں ، اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص کام پر جاتا ہو ، اور اس کی رہائش گاہ اور کام کی جگہ کے درمیان پانچ نہریں آتی ہوں ، جب وہ اپنے کام کی جگہ پر آئے ، تو جو اللہ کو منظور ہو ، وہ کام کر لے ، تو اُسے میل لگ جائے اور پسینہ آ جائے ، پھر وہ جس بھی نہر کے پاس سے گزرے تو وہ غسل کر لے ، تو کیا اُس کا کوئی میل باقی رہے گا ؟ نمازوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ، جب بھی انسان خطا کرتا ہے ، تو پھر دعا کرتا ہے ، اور مغفرت طلب کرتا ہے ، تو اُس کے پہلے والے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر وہ نماز ادا کرتا ہے ، اور مغفرت طلب کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے والے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قریظ ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر وہ نماز ادا کرتا ہے ، اور مغفرت طلب کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے والے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قریظ ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1656
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الْحَقَائِقَ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مِنَ الذُّنُوبِ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” یہ پانچ نمازیں حق ہیں ، اور ( ان کے ) درمیان کیے جانے والے گناہوں کا کفارہ ہیں ، جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 1657
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيَّنَهَا مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ " ، وَقَالَ : " مِنَ الْجُمْعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَلَا مُسْلِمَةٌ يَسْأَلُ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ " . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَنَهْرٍ غَمْرٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ فِيهِ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرِّفَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پانچ نمازیں ، اور ایک جمعہ دوسرے جمعے تک ، یہ درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں ، جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے : جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے ، جس میں کوئی مسلمان مرد ، یا مسلمان عورت ، اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگتا ہے ، اللہ تعالیٰ وہ ( بھلائی ) اُسے عطا کر دیتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ نمازوں کی مثال ، صاف پانی کی اس نہر کی مانند ہے ، جو کسی شخص کے دروازے کے پاس موجود ہو ، اور وہ شخص روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے ، تو کیا اس کا میل باقی رہ جائے گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورفاد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورفاد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1658
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الصُّبْحَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَنَامُونَ فَلَا يُكْتَبُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَسْتَيْقِظُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا أَنَّهُ مَوْقُوفٌ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْمَرْفُوعِ فِيهِمْ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم جل جاتے ہو ، تم جل جاتے ہو ، جب تم صبح کی نماز ادا کر لیتے ہو ، تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، تم جل جاتے ہو ، جب تم ظہر کی نماز ادا کر لیتے ہو ، تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، تم جل جاتے ہو ، جب تم عصر کی نماز ادا کرتے ہو ، تو وہ اسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، جل جاتے ہو ، جب تم مغرب کی نماز ادا کرتے ہو ، تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، جل جاتے ہو جب تم عشاء کی نماز ادا کرتے ہو ، تو وہ اسے دھو دیتی ہے پھر تم سو جاتے ہو ، تو تمہارے خلاف کوئی بات نوٹ نہیں کی جاتی ، جب تک تم بیدار نہیں ہو جاتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں یہ روایت ” موقوف “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور ” موقوف “ روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، ” مرفوع “ کے رجال میں ، ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں یہ روایت ” موقوف “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور ” موقوف “ روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، ” مرفوع “ کے رجال میں ، ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1659
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلِكًا يُنَادِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ : يَا بَنِي آدَمَ ، قُومُوا إِلَى نِيرَانِكُمُ الَّتِي أَوْقَدْتُمُوهَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَأَطْفِئُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ زُهَيْرٍ الْقُرَشِيُّ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَوَى عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، وَرَوَى عَنْهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُخْرَمِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے ، جو ہر نماز کے وقت یہ اعلان کرتا ہے : اے بنی آدم ! اپنی آگ کی طرف اُٹھ کر جاؤ ! جسے تم نے اپنی ذات کے خلاف جلایا ہے ، اور اسے بجھا دو ! “ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یحیی بن زہیر قرشی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، البتہ اس نے ازہر بن سعد سمان سے روایت نقل کی ہے ، جب کہ اس سے یعقوب بن اسحاق مخرمی نے روایات نقل کی ہیں ،
اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1660
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يُبْعَثُ مُنَادٍ عِنْدَ حَضْرَةِ كُلِّ صَلَاةٍ فَيَقُولُ : يَا بَنِي آدَمَ ، قُومُوا فَأَطْفِئُوا عَنْكُمْ مَا أَوْقَدْتُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَيَقُومُونَ فَيَتَطَهَّرُونَ [ وَتَسْقُطُ عَنْهُمْ خَطَيَاهُمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ ] وَيُصَلُّونَ ، فَيُغْفَرُ لَهُمْ مَا بَيْنَهُمَا ، [ ثُمَّ يُوقِدُونَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْأُولَى نَادَى : يَا بَنِي آدَمَ قُومُوا فَاطْفِئُوا مَا أَوْقَدْتُمْ عَلَى أَنْفُسِكِمْ ، فَيَقُومُونَ ، فَيَتَطَهَّرُونَ ، وَيُصَلُّونَ فَيُغْفَرُ لَهُمْ مَا بَيْنَهُمَا ] فَإِذَا حَضَرَتِ الْعَصْرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الْعَتَمَةُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، فَيَنَامُونَ فَيُغْفَرُ لَهُمْ [ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] ; فَمُدْلِجٌ فِي خَيْرٍ ، وَمُدْلِجٌ فِي شَرٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَسَلْمٌ الْعَلَوِيُّ ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر نماز کے وقت ایک منادی کو بھیجا جاتا ہے ، جو یہ کہتا ہے : اے اولاد آدم ! تم اُٹھو ! اور اپنے خلاف تم نے جو کچھ جلایا ہے ، اسے بجھا دو ! لوگ اٹھتے ہیں طہارت حاصل کرتے ہیں ، تو ان کی آنکھوں سے ان کے گناہ گر جاتے ہیں ، وہ لوگ نماز ادا کرتے ہیں ، تو ان کے دو نمازوں کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر وہ اگلی نماز تک کے درمیان کے عرصے میں آگ جلاتے ہیں ، جب اگلی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو فرشتہ پکار کر کہتا ہے : اے اولاد آدم ! اُٹھو اور اس چیز کو بجھا دو ! جو تم نے اپنی ذات کے خلاف بجھائی ہے ، وہ اٹھتے ہیں طہارت حاصل کرتے ہیں ، نماز ادا کرتے ہیں ، تو ان کے دونوں نمازوں کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، جب عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو ایسا ہی ہوتا ہے ، جب مغرب کی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو ایسا ہی ہوتا ہے ، جب عشاء کی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، پھر جب وہ لوگ سوتے ہیں ، تو ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” تو کوئی بھلائی کے عالم میں رات کرتا ہے ، اور کوئی برائی کے عالم میں رات کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، جسے ایوب اور سلم علوی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ شعبہ ، امام أحمد ، یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، جسے ایوب اور سلم علوی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ شعبہ ، امام أحمد ، یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1661
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الصَّلَوَاتِ هُنَّ الْحَسَنَاتُ ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْأُولَى وَالْعَصْرِ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، وَكَفَّارَةُ [ مَا ] بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعَتَمَةِ صَلَاةُ الْعَتَمَةِ ، ثُمَّ يَأْوِي الْمُسْلِمُ إِلَى فِرَاشِهِ لَا ذَنْبَ لَهُ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ، ثُمَّ قَرَأَ : ( إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” بے شک نمازیں ہی نیکیاں ہیں ، اور پہلی نماز ( یعنی ظہر کی نماز سے لے کر عصر کی نماز کے درمیان کا کفارہ عصر کی نماز بن جاتی ہے ، عصر کی نماز سے لے کر مغرب کی نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ مغرب کی نماز بن جاتی ہے ، مغرب سے لے کر عشاء تک کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ عشاء کی نماز بن جاتی ہے ، پھر مسلمان بستر پر آتا ہے ، تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا ، یہ اس وقت ہوتا ہے ، جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” ” بے شک نیکیاں ، گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 1662
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّلَوَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ ; قَالَ اللَّهُ : ( إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ) " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا . ¤ قُلْتُ : وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نمازیں درمیان میں کیے جانے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک نیکیاں ، گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں : اس نے اپنے والد سے کوئی چیز نہیں سنی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اس نے اپنے والد سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں : اس نے اپنے والد سے کوئی چیز نہیں سنی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اس نے اپنے والد سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1663
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ سَلْمَانَ لِيَنْظُرَ مَا اجْتِهَادُهُ . قَالَ : فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ - فَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ الَّذِي كَانَ يَظُنُّ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ سَلْمَانُ : حَافَظُوا عَلَى هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ; فَإِنَّهُنَّ كَفَّارَاتٌ لِهَذِهِ الْجِرَاحَاتِ مَا لَمْ تُصِبِ الْمَقْتَلَةَ ، فَإِذَا صَلَّى النَّاسُ الْعِشَاءَ صَدَرُوا عَنْ ثَلَاثِ مَنَازِلَ : مِنْهُمْ مَنْ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ; فَرَجُلٌ اغْتَنَمَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَغَفْلَةِ النَّاسِ فَرَكِبَ فَرَسَهُ فِي الْمَعَاصِي ، فَذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ ، وَمَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ : فَرَجُلٌ اغْتَنَمَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَغَفْلَةَ النَّاسِ فَقَامَ يُصَلِّي ، فَذَلِكَ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ : فَرَجُلٌ صَلَّى ثُمَّ نَامَ ، فَذَلِكَ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، إِيَّاكَ وَالْحَقْحَقَةَ ، وَعَلَيْكَ بِالْقَصْدِ وَالدَّوَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ رات کے وقت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے ، تاکہ اُن کی رات کی عبادت کا جائزہ لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگے ، تو یہ چیز ان کی توقع کے برخلاف تھی ، تو انہوں نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرو ! کیونکہ یہ ان زخموں ( یعنی گناہوں ) کا کفارہ بن جاتی ہیں ، جب کہ قتل کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو ، جب لوگ عشاء کی نماز ادا کر لیتے ہیں ، تو وہ تین حیثیتوں میں واپس آتے ہیں ، ان میں سے کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں ، جن کے ذمہ کچھ ہوتا ہے ، اور ان کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ، کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے حق میں کچھ ہوتا ہے ، اور ان کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ، اور کچھ وہ ہوتے ہیں ، جن کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ، اور جن کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو جو شخص رات کی تاریکیوں اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت شمار کرے گا ، وہ گناہوں کے بارے میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو جائے گا ، یہ وہ شخص ہے ، جس کے خلاف کچھ ہوتا ہے ، اس کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ، اور جس شخص کے حق میں کچھ ہوتا ہے ، اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ، وہ ایک ایسا شخص ہے ، جو رات کی تاریکی اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت شمار کرتا ہے ، اور اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے ، تو یہ وہ شخص جس کے حق میں کچھ ہوتا ہے ، اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ، اور کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے حق میں کچھ نہیں ہوتا اور ان کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو یہ وہ شخص ہے ، جو نماز ادا کر کے سو جاتا ہے ، تو یہ وہ شخص ہے کہ جس کے حق میں کچھ نہیں ہوتا اور اس کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو تم انتہاء پسندی سے بچنے کی کوشش کرو ! اور میانہ روی اور باقاعدگی کو اختیار کرو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1664
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ تُكَفِّرُ مَا قَبْلَهَا إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى ، وَالْجُمْعَةُ تَكْفُرُ مَا قَبِلَهَا إِلَى الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى ، وَشَهْرُ رَمَضَانَ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَالْحَجُّ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى الْحَجِّ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَنْ تَحُجَّ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ أَوْ ذِي مَحْرَمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فرض نماز ، اُس سے پہلے کی دوسری نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، اور جمعہ اُس سے پہلے والے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ، اور رمضان کا مہینہ اُس سے پہلے والے رمضان کے مہینے تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ، اور حج اس سے پہلے والے حج کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : کسی مسلمان عورت کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ حج کے لئے جائے ، البتہ اگر اُس کا شوہر ، یا کوئی محرم عزیز ساتھ ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 1665
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ عَذْبٍ يَجْرِي عِنْدَ بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَاذَا يَبْقَى عَلَيْهِ مِنَ الدَّرَنِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ نمازوں کی مثال ، صاف پانی کی اس نہر کی طرح ہے ، جو کسی شخص کے دروازے کے پاس بہتی ہے ، اور وہ شخص روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہے ، تو کیا اس کا میل باقی رہ جائے گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1666
وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ مَفْرُوضَةٍ - غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ رِجْلَاهُ ، وَقَبَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ ، وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ ، وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ سُوءٍ " ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي مُسْلِمٍ الثَّعْلَبِيِّ عَنْهُ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابومسلم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ اس وقت مسجد میں جوئیں نکال رہے تھے ، اور جوؤں کو کنکریوں میں دفن کر رہے تھے ، میں نے کہا: اے سیدنا ابوامامہ ! ایک شخص نے مجھے آپ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ، اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھو لے ، اور اپنے سر اور اپنے کانوں کا مسح کر لے ، اور پھر اُٹھ کر فرض نماز ادا کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے ، اُس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، جس کی طرف اس کے پاؤں چل کر گئے ہوں ، یا جنہیں اُس کے ہاتھوں نے پکڑا ہو ، یا جس کو اُس کے کانوں نے سنا ہو ، یا جس کی طرف اُس کی آنکھوں نے دیکھا ہو ، یا جو اُس نے اپنے من میں بُرا سوچا ہو “ ۔ تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات کئی مرتبہ سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابومسلم ثعلبی کی اُن سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں نے کسی کو اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابومسلم ثعلبی کی اُن سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں نے کسی کو اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1667
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ نمازیں ، ایک جمعہ ، دوسرے جمعہ تک ، اُن کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں ، جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن ذکریا ہے ، اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن ذکریا ہے ، اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 1668
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُ يُصَلِّي وَخَطَايَاهُ مَرْفُوعَةٌ عَلَى رَأْسِهِ ، كُلَّمَا سَجَدَ تَحَاتَّتْ عَنْهُ ، فَيَفْرَغُ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ أَشْعَثَ السَّعْدَانِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسلمان جب نماز ادا کرتا ہے ، تو اس کے گناہ اُس کے سر پر رکھ دیے جاتے ہیں ، جب بھی وہ سجدے میں جاتا ہے ، تو وہ اس سے گر جاتے ہیں ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے ، تو اس کے گناہ اس سے گر چکے ہوتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم صغیر میں ، جب کہ امام بزار نے بھی نقل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن اشعث سعدانی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم صغیر میں ، جب کہ امام بزار نے بھی نقل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن اشعث سعدانی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 1669
وَعَنْ سَلْمَانَ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وُضِعَتْ ذُنُوبُهُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَتُفَرَّقَ عَنْهُ كَمَا تُفَرَّقُ عُرُوقُ الشَّجَرَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ وَغَيْرُهُمْ ، وَوَثَّقَهُ سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن بندہ ، جب نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھتا ہے ، تو اس کے گناہ اُس کے سر پر رکھ دیے جاتے ہیں ، اور پھر وہ گناہ اس سے یوں الگ ہو جاتے ہیں ، جس طرح درخت کی شاخیں دائیں بائیں ہو جاتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، جسے شعبہ ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم علوی اور دیگر حضرات نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، جسے شعبہ ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم علوی اور دیگر حضرات نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1670
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جُمِعَتْ ذُنُوبُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ ، فَإِذَا رَكَعَ تَفَرَّقَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو اُس کے گناہ اکھٹے کر کے اُس کی گردن پر رکھ دیے جاتے ہیں ، اور جب وہ رکوع میں جاتا ہے ، تو وہ ( گناہ ) گر جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 1671
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ حَالَةٍ يَكُونُ عَلَيْهَا الْعَبْدُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يَرَاهُ سَاجِدًا يُعَفِّرُ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عُثْمَانَ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ . قُلْتُ : وَعُثْمَانُ بْنُ الْقَاسِمِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَلَمْ يَرْفَعْ فِي نَسَبِهِ وَأَبُوهُ ، فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بندہ کسی بھی حالت میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُس سے زیادہ محبوب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو سجدے کی حالت میں دیکھے ، کہ اُس نے اپنی پیشانی مٹی میں رکھی ہوئی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، عثمان بن قاسم کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : عثمان نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عثمان بن قاسم نامی راوی کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور اس کے نسب میں اس کے باپ سے اوپر کا تذکرہ نہیں کیا ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، عثمان بن قاسم کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : عثمان نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عثمان بن قاسم نامی راوی کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور اس کے نسب میں اس کے باپ سے اوپر کا تذکرہ نہیں کیا ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 1672
وَعَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ . فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ قَامَ الرَّجُلُ فَأَعَادَ الْقَوْلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ قَدْ صَلَيْتَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَحْسَنْتَ لَهَا الطَّهُورَ ؟ " قَالَ : بَلَى قَالَ : " فَإِنَّهَا كَفَّارَةُ ذَنْبِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ . وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حارث نے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” ہم مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، اور نماز کا انتظار کر رہے تھے ، ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے منہ موڑ لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو وہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنی بات دہرائی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے ہمارے ساتھ یہ نماز ادا نہیں کی ہے ؟ اور کیا تم نے اس کے لئے اچھی طرح وضو نہیں کیا تھا ؟ اُس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے گناہ کا کفارہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، حارث نامی راوی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، حارث نامی راوی ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1673
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ يَا بُنَيَّ إِلَى هَذِهِ الْبَلْدَةِ ؟ وَمَا عَنَاكَ إِلَيْهَا ؟ قَالَ : مَا جَاءَ بِي إِلَّا صِلَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَبِي ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ، فَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا مَفْرُوضَةً أَوْ غَيْرَ مَفْرُوضَةٍ ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : میں شام میں ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے میرے بیٹے ! تم اس شہر میں کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اور یہاں آنے کے حوالے سے تمہارا مقصد کیا ہے ؟ تو یوسف نے جواب دیا : میں صرف اس لئے آیا ہوں ، تاکہ اُس تعلق کا خیال رکھوں ، جو آپ کے اور میرے والد کے درمیان تھا ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور بولے : وہ گھڑی بری ہو ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کئی گئی ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو بھی مسلمان کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر وضو کر کے دو رکعات یا چار رکعات ادا کر لیتا ہے خواہ وہ ( دو یا چار رکعات ) فرض ہوں ، یا فرض نہ ہوں ، اور پھر وہ ( مسلمان ) اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : صدقہ بن ابوسہل نامی راوی اسے روایت کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : صدقہ بن ابوسہل نامی راوی اسے روایت کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 1674
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ " . قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ " . قَالَ : الصَّلَاةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا غَلَبَ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمُرُكَ بِالْوَالِدَيْنِ خَيْرًا " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكُنَّهُمَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ أَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ أَيْضًا فِي فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ فضیلت والے عمل کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز ، اُس نے دریافت کیا : پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فرمایا ، پھر جب اُس نے دوبارہ یہی سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ، اُس شخص نے کہا: میرے والدین موجود ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہوں ، اُس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ، میں جہاد میں ضرور حصہ لوں گا ، اور اُن دونوں کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم زیادہ بہتر جانتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، امام ترمذی نے اس کے حوالے سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) نماز کی فضیلت کے بارے میں احادیث ” نفل نماز کی فضیلت “ سے متعلق باب میں بھی آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، امام ترمذی نے اس کے حوالے سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) نماز کی فضیلت کے بارے میں احادیث ” نفل نماز کی فضیلت “ سے متعلق باب میں بھی آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔