کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نماز کو اہتمام کے ساتھ اس کے مخصوص وقت میں ادا کرنا
حدیث نمبر: 1675
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ : " أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْجِهَادُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے زیادہ فضیلت والا عمل ، نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ، والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اور جہاد کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1676
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ ; فَإِنَّهَا خَيْرُ الْهِجْرَةِ ، وَحَافِظِي عَلَى الصَّلَوَاتِ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْبِرِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ يَسَارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! گناہوں سے لاتعلق رہنا ، کیونکہ یہ سب سے بہتر لاتعلقی ہے ، اور نماز کی حفاظت کرنا ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی بن یسار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی بن یسار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1677
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ لِوَقْتِهَا ، وَأَسْبَغَ لَهَا وُضُوءَهَا ، وَأَتَمَّ لَهَا قِيَامَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا - خَرَجَتْ وَهِيَ بَيْضَاءُ مُسْفِرَةٌ تَقُولُ : حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَنِي . وَمَنْ صَلَّى لِغَيْرِ وَقْتِهَا ، وَلَمْ يُسْبِغْ لَهَا وُضُوءَهَا ، وَلَمْ يُتِمَّ لَهَا خُشُوعَهَا وَلَا رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا - خَرَجَتْ وَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ تَقُولُ : ضَيَّعَكَ اللَّهُ كَمَا ضَيَّعَتْنِي . حَتَّى إِذَا كَانَتْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ لُفَّتْ كَمَا يُلَفُّ الثَّوْبُ الْخَلَقُ ، ثُمَّ ضُرِبَ بِهَا وَجْهُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عُبَادَةَ بِنَحْوِ هَذَا فِي بَابِ مَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَيُسِيءُ رُكُوعَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص پانچ نمازیں ، اُن کے مخصوص وقت میں ادا کرتا ہے ، اور اُن کے لئے اچھی طرح وضو کرتا ہے ، اُن کے قیام ، ان کے خشوع ، ان کے رکوع ، اور اُن کے سجود مکمل کرتا ہے ، تو جب وہ نماز نکلتی ہے ، تو وہ سفید اور روشن ہوتی ہے ، اور وہ یہ کہہ رہی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے ، جس طرح تم نے میری حفاظت کی ہے ، اور جو شخص نماز کو اُس کے وقت کے علاوہ ادا کرتا ہے ، اُس کے لئے اچھی طرح وضو نہیں کرتا ہے ، اُس کے خشوع اس کے رکوع ، اس کے سجود کو مکمل نہیں کرتا ہے ، تو جب وہ نماز نکلتی ہے ، تو وہ سیاہ اور تاریک ہوتی ہے ، اور یہ کہتی ہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اُسی طرح ضائع کرے ، جس طرح تم نے مجھے ضائع کیا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ اُس مقام پر پہنچتی ہے ، جہاں اللہ کو منظور ہوتا ہے ، تو اُسے یوں لپیٹ دیا جاتا ہے ، جس طرح پرانے کپڑے کو لپیٹ دیا جاتا ہے پھر ( اس نماز کو ) اُس شخص کے منہ پر مار دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو اس کی مانند ہے ، وہ اس باب میں آئے گی ، جس میں اس شخص کا بیان ہے ، جو نماز مکمل ادا نہیں کرتا اور اس کا رکوع ٹھیک طرح سے نہیں کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو اس کی مانند ہے ، وہ اس باب میں آئے گی ، جس میں اس شخص کا بیان ہے ، جو نماز مکمل ادا نہیں کرتا اور اس کا رکوع ٹھیک طرح سے نہیں کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1678
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ سَبْعَةُ نَفَرٍ - أَرْبَعَةٌ مِنْ مَوَالِينَا ، وَثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا - مُسْنِدِي ظُهُورِنَا إِلَى مَسْجِدِهِ فَقَالَ : " مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ " قُلْنَا : جَلَسْنَا نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ . قَالَ : فَأَرَمَّ قَلِيلًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ ؟ " قُلْنَا : لَا . قَالَ : " فَإِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِوَقْتِهَا ، وَحَافَظَ عَلَيْهَا وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا لَحِقَهَا ؛ فَلَهُ عَلَيَّ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَمْ يَصَلِّهَا لِوَقْتِهَا ، وَلَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا ، وَضَيَّعَهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا - فَلَا عَهْدَ لَهُ عَلَيَّ ، إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ ، وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْنِدِي ظُهُورِنَا إِلَى قِبْلَةِ مَسْجِدِهِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَقَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت سات افراد تھے ، جن میں سے چار کا تعلق موالی سے تھا اور تین کا تعلق عربوں سے تھا ، ہم نے آپ کی مسجد کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارا پروردگار کیا فرماتا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا پروردگار یہ فرماتا ہے : جو شخص پانچ نمازوں کو اُن کے وقت پر ادا کرے گا ، اُن کو باقاعدگی سے ادا کرے گا ، اور اُن کے حق کو کمتر سمجھتے ہوئے انہیں ضائع نہیں کرے گا ، تو اُس شخص کے لئے میرے ذمہ یہ عہد ہے کہ میں اُسے جنت میں داخل کروں گا ، اور جو شخص نماز کو اُس کے مخصوص وقت پر ادا نہیں کرے گا ، اس کی حفاظت نہیں کرے گا اس کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ، اُسے ضائع کر دے گا ، تو اُس شخص کے لئے میرے ذمہ کوئی عہد نہیں ہو گا ، اگر میں چاہوں گا ، تو اُسے عذاب دوں گا ، اور اگر چاہوں گا ، تو اس کی مغفرت کر دوں گا“ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک مرتبہ ہم اللہ کے رسول کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے اپنی پشت مسجد کی قبلہ سمت والی دیوار کے ساتھ لگائی ہوئی تھی اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کی ادائیگی کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ہے عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ہے عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 1679
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى أَصْحَابِهِ يَوْمًا فَقَالَ لَهُمْ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَهَا ثَلَاثًا . قَالَ : " وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ صَلَّاهَا لِغَيْرِ وَقْتِهَا إِنْ شِئْتُ رَحِمْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ قُتَيْبَةَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَذُكِرَ لَهُ رَاوٍ وَاحِدٌ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ، اپنے اصحاب کے پاس سے ہوا ، آپ نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارا پروردگار تبارک و تعالیٰ کیا فرماتا ہے ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی ، پھر ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار فرماتا ہے : میری عزت اور میرے جلال کی قسم ہے ، جو شخص اس نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرے گا ، تو میں اُسے جنت میں داخل کروں گا ، اور جو شخص اس کو اس کے مخصوص وقت کے علاوہ ادا کرے گا ، تو اگر میں چاہوں گا ، تو اُس پر رحم کر دوں گا ، اور اگر چاہوں گا ، تو اسے عذاب دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن قتیبہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اس شخص کے حوالے سے ایک راوی کا ذکر کیا گیا ہے ، لیکن کسی نے نہ تو اس راوی کی توثیق کی ہے ، اور نہ ہی اس پر جرح کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن قتیبہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اس شخص کے حوالے سے ایک راوی کا ذکر کیا گیا ہے ، لیکن کسی نے نہ تو اس راوی کی توثیق کی ہے ، اور نہ ہی اس پر جرح کی ہے ۔