حدیث نمبر: 1589
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ أَوِ الشَّرَابِ ، أَأَطْعَمُهُ ؟ قَالَ : لَا ، زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اُس چوہے کے بارے میں دریافت کیا ، جو کھانے یا پینے کی چیز میں مر جاتا ہے ، کیا میں اس چیز کو کھا لوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1590
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ لَهُمْ جَامِدٍ ، فَقَالَ : " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَكُلُوا سَمْنَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ خَلَا أَنَّهَا هِيَ السَّائِلَةُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيِّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَرَوَى عَنْهُ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس چوہے کا حکم دریافت کیا ، جو جمے ہوئے گھی میں گر گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چوہے کو ، اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک دو ، اور اپنا گھی کھا لو !
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ بہنے والا ( یعنی مائع شکل میں ) تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ’ محمد بن مصعب قرقسانی سے نقل کی ہے ، اس شخص کو امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس سے روایت نقل کی ہے ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ بہنے والا ( یعنی مائع شکل میں ) تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ’ محمد بن مصعب قرقسانی سے نقل کی ہے ، اس شخص کو امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس سے روایت نقل کی ہے ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1591
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : الْفَأْرَةُ تَقَعُ فِي الْإِدَامِ ، فَقَالَ : " أَلْقِهَا عَنْكَ ، ثُمَّ اغْرِفْ بِكَفَّيْكَ ثَلَاثَ غُرُفَاتٍ ، ثُمَّ كُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُشَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے بتایا : چوہا سالن میں گر گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پھینک دو ! پھر اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے تین مرتبہ اس کو لو ، اور اُسے کھا لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1592
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ ، فَقَالَ : " اطْرَحُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَكُلُوهُ إِنْ كَانَ جَامِدًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَ مَائِعًا ؟ قَالَ : " انْتَفِعُوا بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ : كَانَ بِإِفْرِيقِيَّةَ وَكَانَ ثِقَةً ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو گھی میں گر گیا تھا ، تو آپ نے فرمایا : اُسے نکالو اور اُس کے اردگرد کے گھی کو بھی نکال لو ، اور باقی بچ جانے والے گھی کو کھا لو ، اگر وہ جما ہوا تھا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر وہ مائع ہوتا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُس سے نفع حاصل کر لو ( یعنی کھانے کے علاوہ کسی اور مصرف میں استعمال کر لو ! ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ہے ، محمد بن سعد بیان کرتے ہیں : وہ افریقہ میں تھا ، اور ثقہ تھا ، ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ہے ، محمد بن سعد بیان کرتے ہیں : وہ افریقہ میں تھا ، اور ثقہ تھا ، ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1593
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ عَجِينٍ وَقَعَ فِيهِ قَطَرَاتٌ مِنْ دَمٍ ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَكْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَقَالَ دُحَيْمٌ : ثِقَةٌ ، وَكَانَ لَهُ أَحَادِيثُ يَغْلِطُ فِيهَا ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ هُشَيْمٌ خَيْرًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوندھے ہوئے آٹے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جس میں خون کے چند قطرے گر جاتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کھانے سے منع کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، دحیم کہتے ہیں : یہ ثقہ ہے ، اس کے حوالے سے ایسی احادیث منقول ہیں ، جن میں یہ غلطی کرتا ہے ، ہشیم نے اس کی اچھائی کے ہمراہ تعریف بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، دحیم کہتے ہیں : یہ ثقہ ہے ، اس کے حوالے سے ایسی احادیث منقول ہیں ، جن میں یہ غلطی کرتا ہے ، ہشیم نے اس کی اچھائی کے ہمراہ تعریف بیان کی ہے ۔