کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نجاست کو کیسے دھویا جائے؟
حدیث نمبر: 1564
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَسْقِي رَجُلَيْنِ مِنْ رَكْوَةٍ بَيْنَ يَدَيَّ ، فَتَنَخَّمْتُ ، فَأَصَابَتْ نُخَامَتَيْ ثَوْبِي ، فَأَقْبَلْتُ أَغْسِلُ ثَوْبِي مِنَ الرَّكْوَةِ الَّتِي بَيْنَ يَدَيَّ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَمَّارُ ، مَا نُخَامَتُكَ وَدُمُوعُ عَيْنَيْكَ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ الْمَاءِ الَّذِي فِي رَكْوَتِكَ ، إِنَّمَا تَغْسِلُ ثَوْبَكَ مِنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ وَالْمَنِيِّ مِنَ الْمَاءِ الْأَعْظَمِ وَالدَّمِ وَالْقَيْءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَأَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا کہ میں اپنے برتن میں سے ، دو آدمیوں کو پانی پلا رہا تھا ، اس دوران مجھے تھوک آیا ، تو میرا تھوک میرے کپڑے پر بھی لگ گیا ، میں نے اپنے سامنے موجود برتن میں سے اپنے کپڑے کو دھونا شروع کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمار ! تمہارا بلغم اور تمہاری آنکھوں کے آنسو ، تو اس پانی کی مانند ہیں ، جو تمہارے برتن میں موجود ہے ، تم اپنے کپڑے سے پیشاب ، پاخانہ ، منی ، خون اور قے کو دھو لیا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1565
وَلَهُ عِنْدُ الْبَزَّارِ قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بِئْرٍ أَدْلُوُ مَاءً فِي رَكْوَةٍ لِي ، فَقَالَ : " مَا تَصْنَعُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغْسِلُ ثَوْبِي مِنْ جَنَابَةٍ أَصَابَتْهُ ، فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، إِنَّمَا يُغْتَسَلُ الثَّوْبُ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَالْقَيْءِ وَالدَّمِ " . ¤ وَمَدَارُ طُرُقِهِ عِنْدَ الْجَمِيعِ عَلَى ثَابِتِ بْنِ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، امام بزار نے
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا میں ایک کنویں کے پاس موجود تھا ، اور ڈول کے ذریعے اپنے برتن میں پانی ڈال رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیا کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے کپڑے کو دھو رہا ہوں ، جس پر جنابت لگ گئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمار ! کپڑے پر سے پاخانہ ، یا پیشاب ، یا قے ، یا خون کو دھویا جائے گا ۔ ان تمام روایات کے طرق کا مدار ثابت بن حماد نامی راوی پر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا۔