حدیث نمبر: 1560
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ - أَوْ أُثَالَةَ - أَسْلَمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ ، فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : " بِمَاءٍ وَسِدْرٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثمامہ بن اثال ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : اثالہ ، نے اسلام قبول کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے بنوفلاں کے باغ میں لے جاؤ ، اور اسے یہ ہدایت کرو کہ یہ غسل کر لے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے ( غسل کر لے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے ( غسل کر لے ) ۔
حدیث نمبر: 1561
وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى : لَمَّا أَسْلَمَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ أَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَغْتَسِلَ وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ، وَضَعَفَّهُ غَيْرُهُمَا مِنْ غَيْرِ نِسْبَةٍ إِلَى كَذِبٍ ، وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ : فَإِنْ كَانَ هُوَ الْعُمَرِيَّ فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت نقل کی ہے : جب ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ غسل کر کے دو رکعات ادا کرے ۔
امام أحمد اور امام بزار کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابو أحمد بن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ان دونوں کے علاوہ حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، لیکن اس کی نسبت جھوٹ کی طرف نہیں کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کے حوالے سے سعید مقبری کا یہ قول منقول ہے : اگر تو یہ عمری ہے ، تو پھر یہ حدیث حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
امام أحمد اور امام بزار کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابو أحمد بن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ان دونوں کے علاوہ حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، لیکن اس کی نسبت جھوٹ کی طرف نہیں کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کے حوالے سے سعید مقبری کا یہ قول منقول ہے : اگر تو یہ عمری ہے ، تو پھر یہ حدیث حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1562
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : لَمَّا أَسْلَمْتُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِيَ : " اغْتَسِلْ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ الْوَاعِظُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نے اسلام قبول کیا ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تم پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کرو ، اور اپنے آپ سے زمانہ کفر کے بال دور کر دو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمار واعظ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمار واعظ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1563
وَعَنْ قَتَادَةَ أَبِي هِشَامٍ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا قَتَادَةُ ، اغْتَسِلْ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَاحْلِقْ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ " ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ مَنْ أَسْلَمَ أَنْ يَخْتَتِنَ وَإِنْ كَانَ ابْنَ ثَمَانِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ ابوہشام بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے قتادہ ! تم پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کرو ، اور اپنے آپ سے زمانہ کفر کے بال مونڈ دو ! ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے والے شخص کو یہ حکم دیتے تھے کہ وہ ختنہ کر لے خواہ اس کی عمر اسی سال ہی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔