عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ . قَالَ : " فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ ؟ قَالَ : " يَكْفِيكِ الْمَاءُ ، وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خولہ بنت یسار ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے ، اسی میں مجھے حیض آ جاتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم پاک ہو جاؤ ، تو خون کی جگہ کو دھو لو اور پھر اُس کپڑے میں نماز ادا کر لو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر اس کا نشان ختم نہ ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لیے پانی کفایت کر جائے گا ، اور اُس کا نشان تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَحِيضُ وَلَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ . قَالَ : " اغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَتَعَاقَبُهُ أَثَرُ الدَّمِ . قَالَ : " لَا يَضُرُّكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے حیض آ جاتا ہے اور میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کو دھو کر اُس میں نماز ادا کر لو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے بعد خون کا نشان باقی رہ جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔ یہی روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ طُهْرِهَا غَسَلَتْ مَا أَصَابَهُ ، ثُمَّ صَلَّتْ فِيهِ ، وَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ الْيَوْمَ تُفَرِّغُ خَادِمَهَا لِغَسْلِ ثِيَابِهَا يَوْمَ طُهْرِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم میں سے کسی ایک عورت کو کپڑوں میں حیض آ جاتا ، پھر جب اس کے طہر کا دن ہوتا ، تو اس کپڑے پر جو لگا ہوتا ، وہ اس کو دھو لیتی تھی اور پھر اسی کپڑے میں نماز ادا کر لیتی تھی ، اور آج تم لوگوں کی یہ حالت ہے کہ تم میں سے کوئی ایک عورت اپنے طہر کے دن کے لیے ، اپنی خادمہ کو صرف اس کام کے لیے مخصوص رکھتی ہے ، تاکہ وہ اس کے ( حیض والے ) کپڑے دھو دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی ہے ۔