کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حیض والی عورت کا خون کپڑے پر لگ جانا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ . قَالَ : " فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ ؟ قَالَ : " يَكْفِيكِ الْمَاءُ ، وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خولہ بنت یسار ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے ، اسی میں مجھے حیض آ جاتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم پاک ہو جاؤ ، تو خون کی جگہ کو دھو لو اور پھر اُس کپڑے میں نماز ادا کر لو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر اس کا نشان ختم نہ ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لیے پانی کفایت کر جائے گا ، اور اُس کا نشان تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل ، مسند ابي بريرة رضى الله عنه 8586 سنن ابي داؤد كتاب الطهارة باب المراة تغسل ثوبها الذى تلبسه فى حيضها 313 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصلاة جماع ابواب الصلاة بالنجاسة وموضع الصلاة من مسجد وغيره باب ذكر البيان ان الدم إذا بقى اثره فى الثوب بعد 3830»
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَحِيضُ وَلَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ . قَالَ : " اغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَتَعَاقَبُهُ أَثَرُ الدَّمِ . قَالَ : " لَا يَضُرُّكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے حیض آ جاتا ہے اور میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کو دھو کر اُس میں نماز ادا کر لو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے بعد خون کا نشان باقی رہ جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔ یہی روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ طُهْرِهَا غَسَلَتْ مَا أَصَابَهُ ، ثُمَّ صَلَّتْ فِيهِ ، وَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ الْيَوْمَ تُفَرِّغُ خَادِمَهَا لِغَسْلِ ثِيَابِهَا يَوْمَ طُهْرِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم میں سے کسی ایک عورت کو کپڑوں میں حیض آ جاتا ، پھر جب اس کے طہر کا دن ہوتا ، تو اس کپڑے پر جو لگا ہوتا ، وہ اس کو دھو لیتی تھی اور پھر اسی کپڑے میں نماز ادا کر لیتی تھی ، اور آج تم لوگوں کی یہ حالت ہے کہ تم میں سے کوئی ایک عورت اپنے طہر کے دن کے لیے ، اپنی خادمہ کو صرف اس کام کے لیے مخصوص رکھتی ہے ، تاکہ وہ اس کے ( حیض والے ) کپڑے دھو دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1556
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔