کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حیض والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنا اور اس کے ساتھ لیٹنا
حدیث نمبر: 1548
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : " مَا فَوْقَ الْإِزَارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن عمر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : مرد کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھنا جائز ہے ؟ جبکہ عورت حیض کی حالت میں ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تہبند کے اوپر ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1549
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي مِنَ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : " تَشُدُّ إِزَارَهَا ، ثُمَّ شَأْنَكَ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی بیوی کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھ سکتا ہوں ؟ جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تہبند باندھ لے ، اور پھر تم اس کے ساتھ رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1550
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ : مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : " مَا فَوْقَ الْإِزَارِ ، وَمَا تَحْتَ الْإِزَارِ مِنْهَا حَرَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، وَأَيْضًا فَلَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : عورت جب حیض کی حالت میں ہو ، تو آدمی اس کے ساتھ کیا کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تہبند کے اوپر ، جو تہبند سے نیچے ہے ، وہ حرام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی ہے ، اس سے موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اور یہ پہلو بھی ہے کہ اس نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی ہے ، اس سے موسیٰ بن عقبہ کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اور یہ پہلو بھی ہے کہ اس نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 1551
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَبْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعْتِقَ نَسَمَةً ، وَقِيمَةُ النَّسَمَةِ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ خَلَا عِتْقِ النَّسَمَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی بیوی کے حیض کے دوران اس کے ساتھ صحبت کر لی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ ایک جان آزاد کرے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان دنوں ایک جان کی قیمت ایک دینار تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : یہ روایت امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے جان آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : یہ روایت امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے جان آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1552
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا أُمُّ سَلَمَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مُضَاجِعَةٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَامَتْ كَأَنَّهَا مُسْتَخْفِيَةٌ ، فَقَالَ : " مَا لَكِ ، نَفِسْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " لَا بَأْسَ ، خُذِي عَلَيْكِ وُضُوءَكِ ، ثُمَّ ارْجِعِي إِلَى مَكَانِكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھیں ، اسی دوران وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئیں ، جسے انہیں اندیشہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی حرج نہیں ہے ، تم اپنا کپڑا استعمال کرو ، اور پھر واپس اپنی جگہ پر آ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عیسیٰ خفی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عیسیٰ خفی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1553
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَّقِي سَوْرَةَ الدَّمِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يُبَاشِرُ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ قُلْتُ : لَهَا حَدِيثٌ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ وَغَيْرِهِ خَلَا قَوْلِهَا : يَتَّقِي سَوْرَةَ الدَّمِ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک خون کے زیادہ ہونے کی وجہ سے احتیاط کرتے تھے ، اس کے بعد آپ مباشرت کر لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے
یہ روایت امام ابن ماجہ اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہے : ” تین دن تک خون سے بچتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے شعبہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہے : ” تین دن تک خون سے بچتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے شعبہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔