کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حمام اور نورہ (یعنی بال صفا پاؤڈر ) کا بیان
حدیث نمبر: 1515
عَنْ قَاضِي الْأَجْنَادِ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدَنَّ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
قسطنطنیہ میں ، لشکروں کے قاضی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ، اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ کسی ایسے دستر خوان پر ہرگز نہ بیٹھے ، جس پر شراب گردش کرتی ہو ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1516
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ ذُكُورِ أُمَّتِي فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو خَيْرَةَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، جس کا تعلق میری امت کے مردوں سے ہو ، وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوخیرہ ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1517
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ ؟ " . فَقُلْتُ : مِنَ الْحَمَّامِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّهَاتِهَا إِلَّا وَهِيَ هَاتِكَةٌ كُلَّ سِتْرٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں حمام سے نکلی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے دریافت کیا : اے ام درداء ! تم کہاں سے آ رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : حمام سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جو بھی عورت اپنی ماؤں میں سے کسی ایک کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے اتارتی ہے ، تو وہ اپنے اور رحمن کے درمیان موجود ، ہر پردے کو پھاڑ دیتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1518
وَعَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ نِسْوَةً دَخَلْنَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ مَنْ أَهْلِ حِمْصٍ ، فَسَأَلَتْهُنَّ مِمَّنْ أَنْتُنَّ ؟ فَقُلْنَ : مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا خَرَقَ اللَّهُ عَنْهَا سِتْرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام سائب بیان کرتے ہیں : کچھ خواتین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، اُن خواتین کا تعلق حمص سے تھا ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : حمص کے رہنے والوں سے ، سیدہ امت مسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو عورت اپنے گھر کے علاوہ ، کہیں اپنے کپڑے اتارتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا پردہ فاش کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1518
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1519
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْذَرُوا بَيْتًا يُقَالُ لَهُ : الْحَمَّامُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُنَقِّي الْوَسَخَ . قَالَ : " فَاسْتَتِرُوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَذْهَبُ بِالدَّرَنِ ، وَيَنْفَعُ الْمَرِيضَ . وَرِجَالُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : رَوَاهُ النَّاسُ عَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اُس گھر سے بچ کے رہنا ، جسے حمام کہا: جاتا ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میل کو ختم کر دیتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پردہ کر لینا ( یعنی پردہ کر کے اُس میں داخل ہونا ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میل کو ختم کر دیتا ہے اور بیمار کو فائدہ دیتا ہے “ ۔ امام بزار کی نقل کردہ روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام بزار نے یہ بات کہی ہے : لوگوں نے اسے طاؤس کے حوالے سے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1519
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
حدیث نمبر: 1520
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَسْعَ إِلَى الْجُمْعَةِ ، وَمَنِ اسْتَغْنَى عَنْهَا بِلَهْوٍ وَتِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ ، وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ ذِكْرِ الْجُمْعَةِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ جمعہ کے لیے جلدی چلا جائے ، جو شخص دلچسپی کی کسی چیز ، یا تجارت کی وجہ سے ، اس ( یعنی جمعہ ) سے بے نیازی اختیار کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُس سے بے نیازی اختیار کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور لائق حمد ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس میں صرف جمعہ کا ذکر ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، جسے ابوحاتم اور ابن عدی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1521
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے پڑوسی کی عزت افزائی کرے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو ، اور تمہاری خواتین میں سے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ، وہ حمام میں داخل نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، عبدالملک بن شعیب بن لیث فرماتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1521
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1522
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَمَّامِ فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي حَمَّامَاتٌ ، وَلَا خَيْرَ فِي الْحَمَّامَاتِ لِلنِّسَاءِ " ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا تَدْخُلُهُ بِإِزَارٍ ، فَقَالَ : " لَا ، وَإِنْ دَخَلَتْهُ بِإِزَارٍ وَدِرْعٍ وَخِمَارٍ ، وَمَا مِنَ امْرَأَةٍ تَنْزِعُ خِمَارَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا كَشَفَتِ السِّتْرَ فِيمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمام کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بعد عنقریب حمام ہوں گے ، لیکن عورتوں کے لیے حمام میں بھلائی نہیں ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا عورت تہبند کے ساتھ اُس میں داخل ہو سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! وہ تہبند ، قمیص اور چادر کے ساتھ بھی ( اس میں ) داخل نہیں ہو سکتی ، جو بھی عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ ، اپنی چادر اتارتی ہے ، وہ اپنے اور اپنے پروردگار کے درمیان موجود پردے کو ختم کر دیتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1522
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1523
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أُفُقًا فِيهَا بُيُوتٌ يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ ، حَرَامٌ عَلَى أُمَّتِي دُخُولُهَا " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا تُذْهِبُ الْوَصَبَ ، وَتُنَقِّي الدَّرَنَ . قَالَ : " فَإِنَّهَا حَلَالٌ لِذُكُورِ أُمَّتِي فِي الْأُزُرِ ، حَرَامٌ عَلَى إِنَاثِ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُشَنِيُّ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تم لوگ دور کے علاقے فتح کرو گے ، وہاں کچھ ایسے گھر ہوں گے ، جنہیں حمام کہا: جاتا ہو گا ، اُن میں داخل ہونا میری امت پر حرام ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ تھکن کو ختم کر دیتا ہے اور میل کو صاف کر دیتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ میری امت کے مردوں کے لیے حلال ہو گا ، جبکہ اُنہوں نے تہبند باندھے ہوں ، لیکن وہ میری امت کی عورتوں کے لئے حرام ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1523
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1524
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَرُّ الْبَيْتِ الْحَمَّامُ ; تُرْفَعُ فِيهِ الْأَصْوَاتُ ، وَتُكْشَفُ فِيهِ الْعَوْرَاتُ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُدَاوَى فِيهِ الْمَرِيضُ ، وَيَذْهَبُ الْوَسَخُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَمَنْ دَخْلَهُ فَلَا يَدْخُلْهُ إِلَّا مُسْتَتِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ السَّمْتِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے برا گھر حمام ہے ، جس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ، اور شرمگاہ بے پردہ ہوتی ہے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں بیمار کے لیے بہتری ہوتی ہے اور میں ختم ہو جاتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اُس میں داخل ہو ، وہ پردے کے بغیر داخل نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان سمتی ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1524
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1525
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَدْخِلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَشْرَبِ الْخَمْرَ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَجْلِسْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مَحْرَمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہونا ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ شراب نہ پیے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ کسی ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے ، جس پر شراب پی جاتی ہو ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ ہو ، کہ اس شخص اور اس عورت کے درمیان ( عورت کا ) کوئی محرم موجود نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوسلیمان مدنی ہے ، اسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ابوحاتم نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حیان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1526
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ أَوَّلَ مَا صُنِعَتْ لَهُ النُّورَةُ وَدَخَلَ الْحَمَّامَاتِ - سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، فَلَمَّا دَخَلَهُ وَجَدَ حَرَّهُ وَغَمَّهُ . قَالَ : أَوَّهْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ ، أَوَّهْ أَوَّهْ قَبْلَ أَنْ لَا تَنْفَعَ ، أَوَّهْ أَوَّهْ أَوَّهْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ الْأَوْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے پہلے جن کے لیے ” نورہ “ تیار کیا گیا اور جو سب سے پہلے حمام میں داخل ہوئے ، وہ سیدنا سلیمان علیہ السلام ہیں ، جب وہ اس میں داخل ہوئے ، تو انہیں اس کی تپش اور غم محسوس ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : افوہ ! یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے ہے ، افوہ ، افوہ اس سے پہلے کے تو نفع دے “ فواہ ، افوہ ، افوہ !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل اودی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1527
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَوْضِعٍ فَقَالَ : " نِعْمَ مَوْضِعُ الْحَمَّامِ هَذَا ، فَبُنِيَ فِيهِ حَمَّامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک جگہ کے پاس سے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حمام کے لیے یہ اچھی جگہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو اُس جگہ حمام بن گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1528
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَبِيبٌ كَاتِبُ مَالِكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب ہے ، جو امام مالک کا کاتب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1528
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1529
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْحَمَّامَ ، فَيُنَوِّرُهُ صَاحِبُ الْحَمَّامِ ، فَإِذَا بَلَغَ حِقْوَهُ قَالَ لِصَاحِبِ الْحَمَّامِ : اخْرُجْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ” وہ حمام میں داخل ہوئے ، تو حمام کے مالک نے انہیں نورہ لگایا ، جب وہ ان کے تہبند باندھنے کے مقام پر پہنچا ، تو انہوں نے حمام کے مالک سے کہا: تم چلے جاؤ ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1530
وَعَنْ سُكَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَجَارِيَةٌ تَحْلِقُ عَنْهُ الشَّعْرَ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّوْرَةَ تُرِقُّ الْجِلْدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سکین بن عبدالعزیز نے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ، ایک کنیز ان کے بال مونڈ رہی تھی ، انہوں نے فرمایا : نورہ جلد کو خراب کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن