کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: غسل کرتے ہوئے پردہ کر لینا اور کھلی جگہ پر غسل کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1454
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ عَنِ التَّعَرِّي ، فَاسْتَحْيُوا مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ الَّذِينَ لَا يُفَارِقُونَكُمْ إِلَّا عِنْدَ ثَلَاثِ حَالَاتٍ : الْغَائِطُ وَالْجَنَابَةُ وَالْغُسْلُ ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ بِالْعَرَاءِ فَلْيَسْتَتِرْ بِثَوْبِهِ ، أَوْ بِجَذْمَةِ حَائِطٍ ، أَوْ بِبَعِيرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَيِّنٌ . قُلْتُ : جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ بَقِيَّةُ رِجَالِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں برہنہ ہونے سے منع کرتا ہے ، تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں سے حیاء کرو ، جو تم سے جدا نہیں ہوتے ہیں ، صرف تین صورتوں میں جدا ہوتے ہیں ، پاخانہ کے وقت ، جنابت کی حالت میں ، اور غسل کے وقت ، جب کوئی شخص کھلی جگہ پر غسل کرنے لگے ، تو اسے کپڑے کے ذریعے پردہ کر لینا چاہیے ، یا دیوار کی ، یا اپنے اونٹ کی اوٹ میں ہو جانا چاہیے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ، یہ صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جعفر بن سلیمان نامی راوی کمزور ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جعفر بن سلیمان ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کا بھی یہی معاملہ ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ، یہ صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جعفر بن سلیمان نامی راوی کمزور ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جعفر بن سلیمان ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کا بھی یہی معاملہ ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1455
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَرِّ الْمَرْءُ عِنْدَ أَرْبَعَةِ خِصَالٍ : إِذَا نَامَ مُسْتَلْقِيًا ، وَإِذَا نَامَ وَحْدَهُ ، وَإِذَا نَامَ فِي مِلْحَفَةٍ مُعَصْفَرَةٍ ، وَإِذَا اغْتَسَلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَسِلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی چار صورتوں میں عاری ( یعنی فرشتوں سے الگ ہو جاتا ہے ) جب وہ چیت لیٹ کر سو جائے ، جب وہ اکیلا ہو جائے ، جب وہ معصفر لحاف میں سو جائے ، یا جب وہ کھلی جگہ پر غسل کرے ، جو شخص استطاعت رکھتا ہو ، وہ کھلی جگہ پر غسل نہ کرے ، اگر اس نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو وہ زمین پر لکیر لگا لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 1456
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا ، ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا فَقَالَ : " اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، تو انہوں نے آپ کے لئے غسل کا پانی رکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کپڑا دیا اور فرمایا : اس کے ذریعے میرے لیے پردہ کر دو ، اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1457
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَأَتَيْتُهُ ، فَجَاءَ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ . قَالَتْ : إِنِّي لِأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ . قَالَتْ : فَسَتَرَهُ أَبُو ذَرٍّ ، ثُمَّ سَتَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا ذَرٍّ فَاغْتَسَلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِصَّةِ أَبِي ذَرٍّ ، وَسَتْرِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْآخَرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقے میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بڑا برتن لے کر آئے ، جس میں پانی موجود تھا ، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اس میں آٹے کا نشان دیکھا ، وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے پردہ کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لئے پردہ کیا ، تو انہوں نے بھی غسل کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ،
یہ روایت ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں ہے ، اور یہ نہیں ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے لئے پردہ کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ،
یہ روایت ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں ہے ، اور یہ نہیں ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے لئے پردہ کیا تھا ۔
حدیث نمبر: 1458
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام جب پانی میں داخل ہوتے تھے ، تو اپنے کپڑے اس وقت تک نہیں اتارتے تھے ، جب تک ان کی شرمگاہ پانی میں چھپ نہیں جاتی تھی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ علی بن زید نامی راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ علی بن زید نامی راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1459
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَغْتَسِلُ ، فَأَخَذَ حِفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهِ وَجْهِي ، وَقَالَ : " وَرَاءَكِ أَيْ لَكَاعُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ اس وقت غسل کر رہے تھے ، آپ نے چلو میں پانی لے کر میرے چہرے پر مارا اور فرمایا : پیچھے چلے جاؤ اے لڑکی !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم وسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم وسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1460
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْتَسِلُ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ ، وَمَا رَأَى عَوْرَتَهُ أَحَدٌ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیواروں کے پیچھے غسل کرتے تھے اور کسی نے کبھی آپ کی شرمگاہ نہیں دیکھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ، جو عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ، جو عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 1461
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَى عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْتَسِلُ يَصُبُّ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : " أَتَغْتَسِلُونَ وَلَا تَسْتَتِرُونَ ؟ ! وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَى أَنْ تَكُونُوا خَلَفَ الشَّرِّ - يَعْنِي الْخَلَفَ الَّذِي يَكُونُ فِيهِمُ الشَّرُّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ، اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم لوگ اکٹھے غسل کر رہے تھے ، اور ایک دوسرے پر پانی ڈال رہے تھے ، انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ پردہ کیے بغیر غسل کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم میرے بعد میں آنے والے برے لوگ ہو گے ، اُن کی مراد یہ تھی کہ ایسے بعد میں آنے والے لوگ ہو جن میں برائی پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1462
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْظُرَ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي سَتْرِ الْعَوْرَةِ فِي الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی شرمگاہ کی طرف دیکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نماز کے دوران پردہ پوشی کے بارے میں احادیث آگے آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نماز کے دوران پردہ پوشی کے بارے میں احادیث آگے آئیں گی ۔