حدیث نمبر: 1446
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا احْتَلَمَ نَبِيٌّ قَطُّ ، إِنَّمَا الِاحْتِلَامُ مِنَ الشَّيْطَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کسی بھی نبی کو کبھی احتلام نہیں ہوا ، کیونکہ احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابوثابت ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابوثابت ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1447
وَعَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم عورتوں میں سے کسی ایک کو اگر احتلام ہو جائے ، تو کیا وہ غسل کرے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان دیکھے )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1448
وَعَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَصْنَعُ الشَّيْءَ تَعْطِفُ بِهِ زَوْجَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ، وَلَا خَلَاقَ فِي الْآخِرَةِ " . قَالَتْ : أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي مَنَامِهَا الِاحْتِلَامَ ، أَتَغْتَسِلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
اس خاتون کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا ، جو کوئی ایسا کام کرتی ہے ، جس کے ذریعے وہ اپنے شوہر کو حرام کر لے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ دنیاوی فائدہ ہے ، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا ، اس خاتون نے عرض کی : ایسی عورت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو خواب میں احتلام دیکھتی ہے ، کیا وہ غسل کرے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان دیکھے گی ) تو وہ غسل کرے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1449
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَأَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ وَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر عورت بھی وہ چیز دیکھے ، جو مرد دیکھتا ہے ( یعنی اگر عورت کو احتلام ہو جائے ، تو کیا حکم ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب عورت وہ چیز دیکھے اور اُسے انزال ہو جائے ، تو اُسے غسل کرنا چاہیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ایلی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، محمد بن سعد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ایلی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، محمد بن سعد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1450
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : كَانَتْ مُجَاوِرَةً أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّ زَوْجَهَا جَامَعَهَا فِي الْمَنَامِ ، أَتَغْتَسِلُ ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : تَرِبَتْ يَدَاكِ أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، وَإِنَّا أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّا أُشْكِلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ " . فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَنَّى يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ؟ هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ . ¤
محمد محی الدین
اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ ، اپنی دادی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پڑوس میں رہتی تھیں ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی عورت خواب میں یہ دیکھتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کر رہا ہے ، تو کیا وہ عورت غسل کرے گی ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے ام سلیم ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، تم نے اللہ کے رسول کے سامنے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا ہے ، ہمیں جس معاملے میں الجھن درپیش ہوتی ہے ، اُس کے بارے میں ، ہم اللہ کے رسول سے سوال کر لیں ، یہ اس سے بہتر ہے کہ ہم اُس کے حوالے سے اندھیرے میں رہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلمہ ! بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، ایسی عورت پر غسل لازم ہو گا ، جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان ) پاتی ہے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا عورت کا بھی پانی ( یعنی احتلام کا مواد ) ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اُس ( عورت ) کا بچہ کس وجہ سے اُس سے مشابہت رکھتا ہے ؟ یہ عورتیں بھی مردوں کی طرح ہوتی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اسحاق نامی راوی نے سیدہ ام سلیم سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اسحاق نامی راوی نے سیدہ ام سلیم سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1451
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ ، هَلْ عَلَيْهَا غُسْلٌ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : كَانَ يَكْذِبُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا : جسے احتلام ہو جاتا ہے ، کیا اس پر غسل لازم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان ) دیکھے ، تو اُسے غسل کرنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، ابوحاتم بیان کرتے ہیں : یہ جھوٹ بولتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، ابوحاتم بیان کرتے ہیں : یہ جھوٹ بولتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1452
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ : " إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا فُلَانَةُ ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِيهَا ، فَإِنَّ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَسْأَلْنَ عَنِ الْفِقْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّفَاوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ : إِنَّهُ مُدَلِّسٌ فَقَطْ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا ، جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے ، جو مرد دیکھتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب عورت یہ چیز دیکھے ، تو اُسے غسل کرنا چاہیئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے فلانہ ! تم نے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو ! انصار کی خواتین دینی احکام کے بارے میں سوال کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید طفاوی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ صرف تدلیس کرتا ہے ، اور
یہ روایت بھی اُس نے ” عنعنہ “ کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید طفاوی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ صرف تدلیس کرتا ہے ، اور
یہ روایت بھی اُس نے ” عنعنہ “ کے طور پر نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1453
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ . قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ أَنْزَلَتْ كَمَا يُنْزِلُ الرَّجُلُ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ ، وَإِنْ لَمْ تُنْزِلْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا : جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے ، جو مرد دیکھتا ہے ، اور اس عورت کو احتلام ہو جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اسے اسی طرح انزال ہو جاتا ہے ، جس طرح مرد کو انزال ہوتا ہے ، تو اُس پر غسل واجب ہو گا ؟ اور اگر اُسے انزال نہیں ہوتا ، تو اُس پر کوئی چیز لازم نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالله بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالله بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔