کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان : پانی (یعنی منی کے خروج سے ) پانی (یعنی غسل لازم ) ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1431
عَنْ عِتْبَانَ - أَوِ ابْنِ عِتْبَانَ - الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ مَعَ أَهْلِي ، فَلَمَّا سَمِعْتُ صَوْتَكَ أَقْلَعْتُ فَاغْتَسَلْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ لفظ ہے : سیدنا ابن عتبان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی بیوی کے ساتھ تھا ، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ، تو الگ ہوا ، اور غسل کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پانی ، صرف پانی سے لازم ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1432
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي ، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ ، فَاغْتَسَلْتُ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي وَلَمْ أُمْنِ ، فَاغْتَسَلْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا عَلَيْكَ ، الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلند آواز میں پکارا ، میں اُس وقت اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر رہا تھا ، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ، میں اُٹھا میں نے غسل کیا ، ( بعد میں ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ جب آپ نے مجھے بلایا تھا ، اُس وقت میں اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر رہا تھا اور ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ، میں نے غسل کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تم پر لازم نہیں تھا ، پانی ، پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1433
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَلَبِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَاهُ ، فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِرَأْسِكَ ؟ " قَالَ : دَعَوْتَنِي وَأَنَا مَعَ أَهْلِي ، فَخِفْتُ أَنْ أَحْتَبِسَ عَلَيْكَ فَعَجِلْتُ ، فَقُمْتُ وَصَبَبْتُ عَلَيَّ الْمَاءَ ثُمَّ خَرَجْتُ ، فَقَالَ : " هَلْ كُنْتَ أَنْزَلْتَ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَلَا تَغْتَسِلَنَّ ، اغْسِلْ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْكَ ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَزَيْدٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دروازے پر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا ، وہ شخص اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، اُس نے بیوی کی قربت میں آپ کو سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سلام کیا ، تو اُس شخص نے ( سلام کا ) جواب دے دیا ، لیکن اُٹھا نہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر آنے کا نہیں کہا: گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے ، وہ شخص فارغ ہونے سے پہلے اُٹھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتا ہوا آپ کے پیچھے آیا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو وہ کھڑا ہوا تھا ، ہم اس کے پاس اکٹھے ہو گئے ، اس نے اپنے گھر کے پاس موجود ایک ندی میں غسل کیا تھا ، جب وہ آیا تو وہ غسل کر چکا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے غسل کر لیا ہے ، حالانکہ اس پر غسل واجب نہیں ہوا ہے ، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معذرت کرنے کے لیے آیا ، اس نے آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے غسل کر لیا ، حالانکہ تم پر غسل واجب نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ قربت کرے ، اور اُسے انزال نہ ہو ، تو غسل لازم نہیں ہو گا “ امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن شعیب کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ قربت کرے ، اور اُسے انزال نہ ہو ، تو غسل لازم نہیں ہو گا “ امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن شعیب کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 1434
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا حَبَسَكَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ حِينَ أَتَانِي رَسُولُكَ عَلَى الْمَرْأَةِ ، فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ : " وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ لَا تَغْتَسِلُ مَا لَمْ تُنْزِلْ " . قَالَ : فَكَانَ الْأَنْصَارُ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کو طلب کرنے کے لیے تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بلایا ، جب وہ انصاری گھر سے باہر آیا ، تو اُس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے سر کو کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی : جب آپ نے مجھے بلایا تھا ، اس وقت میں اپنی بیوی کے ساتھ تھا ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میری وجہ سے آپ کو انتظار نہ کرنا پڑے ، میں جلدی سے اُٹھا میں نے اپنے اوپر پانی بہایا اور باہر آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہیں انزال ہو گیا تھا ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم اس طرح کرو ، تو غسل ہرگز نہ کرو ، عورت کا جو مواد تمہیں لگ جاتا ہے ، اُس کو دھو لو ، اور پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو ، کیونکہ پانی ، پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے زید بن سعد کے حوالے سے ، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اور زید نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے زید بن سعد کے حوالے سے ، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اور زید نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 1435
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ ، وَالْأَنْصَارِيُّ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ سَلَّمَ الثَّانِيَةَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَلَمْ يَقُمْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ لَمَّا لَمْ يَأْذَنْ لَهُ . فَقَامَ الْآخَرُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ وَخَرَجَ فِي أَثَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُهُ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ ، وَاغْتَسَلَ الرَّجُلُ فِي نَهْرٍ إِلَى جَانِبِ دَارِهِ ، فَأَقْبَلَ وَقَدِ اغْتَسَلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدِ اغْتَسَلَ وَمَا وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ " ، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَعْتَذِرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِأَمْرِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْتَسَلْتَ وَلَمْ يَجِبْ عَلَيْكَ الْغُسْلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَفِي الْبَزَّارِ عَنْهُ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَأَقْحَطَ فَلَا غُسْلَ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَيْبٍ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلوایا ، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس چیز نے تمہیں روک لیا تھا ؟ اس نے بتایا : جب آپ کا پیغام رساں میرے پاس آیا ، میں اس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھا میں نے غسل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہونا تھا ، اگر تم غسل نہ بھی کرتے ، جب کہ تمہیں انزال نہ ہوا ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو انصار ایسا ہی کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1436
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَذَكَرَ كَلَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَقْحَطَ أَحَدُكُمْ أَوْ أَكْسَلَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَبَا إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيَّ ; فَإِنَّهُ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا ، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ، پھر وہ باہر آیا اور اس نے کلام ( یعنی تاخیر کی وجہ کو ) ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص کو انزال نہ ہوا ہو ، تو اس پر غسل ( لازم ) نہیں ہو گا ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف ابواسرائیل ملائی کا معاملہ مختلف ہے ، وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف ابواسرائیل ملائی کا معاملہ مختلف ہے ، وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1437
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا لَمْ نُنْزِلُ لَمْ نَغْتَسِلْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ يُدَلِّسُ . ¤
محمد محی الدین
عبید بن رفاعہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایسا کیا کرتے تھے ، کہ جب ہمیں انزال نہیں ہوتا تھا ، تو ہم غسل بھی نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1438
وَعَنْ بَعْضِ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ ، فَاغْتَسَلْتُ وَخَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي ، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ فَاغْتَسَلْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا عَلَيْكَ ، الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " . قَالَ رَافِعٌ : ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغُسْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : عَنْ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا یہ بیان منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھ گیا ، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ، میں نے غسل کیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ، میں نے آپ کو بتایا کہ جب آپ نے مجھے بلایا تھا ، اُس وقت میں اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھ گیا ، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ، اور میں نے غسل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر کوئی گناہ نہیں ہونا تھا ، کیونکہ پانی ، پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی صورتحال میں غسل کرنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ سہل بن رافع کے حوالے سے ، اُن کے والد سے منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ سہل بن رافع کے حوالے سے ، اُن کے والد سے منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
حدیث نمبر: 1439
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ - وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا - قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ . قَالَ : أَعْجِلْ عَلَيَّ بِهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ : يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ ، أَوْ لَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْيِكَ ؟ ! قَالَ : مَا فَعَلْتُ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : أَيُّ عُمُومَتِكَ ؟ قَالَ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ . فَالْتَفَتَ عُمَرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - إِلَيَّ فَقَالَ : مَا يَقُولُ هَذَا الْغُلَامُ ؟ فَقُلْتُ : كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ . قَالَ : فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنَ الْمَاءِ ، إِلَّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَقَالَا : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ . قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - فَقَالَتْ : لَا عِلْمَ لِي، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - قَالَتْ : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ . قَالَ : فَتَحَطَّمَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَعْنِي تَغَيَّظَ - ثُمَّ قَالَ : لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : ثُمَّ أَفَاضُوا فِي الْعَزْلِ ، فَقَالُوا : لَا بَأْسَ ، فَسَارَّ رَجُلٌ صَاحِبَهُ فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْمُنَاجَاةُ ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى . فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّهَا لَا تَكُونُ مَوْءُودَةً حَتَّى تَمُرَّ بِسَبْعِ تَارَاتٍ ; قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ). قَالَ : فَتَفَرَّقُوا عَلَى قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ، جنہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب انہیں یہ بتایا گیا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کو یہ فتوی دیتے ہیں ، جو اُن کی اپنی رائے کی بنیاد پر ہے کہ جو شخص صحبت کرے اور اسے انزال نہ ہو ، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے جلدی سے میرے پاس لاؤ ، انہیں لایا گیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اپنی جان کے دشمن ! مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم اللہ کے رسول کی مسجد میں ، اپنی رائے کی بنیاد پر لوگوں کو فتوی دیتے ہو ؟ انہوں نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا ، میرے چچاؤں نے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے حدیث بیان کی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دریافت کیا : تمہارے کون سے چچا نے ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : یہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے ؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایسا کیا کرتے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا ؟ تو سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نے یہی کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کیا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اکٹھا کیا ، تو لوگوں کو اس بات پر اتفاق تھا کہ غسل صرف منی کے خروج کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ، صرف سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا ، ان دونوں حضرات کا یہ کہنا تھا : کہ جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : امیر المؤمنین ! اس مسئلے کے بارے میں سب سے زیادہ علم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ، تو انہوں نے فرمایا : جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جائے گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے غصے کا اظہار کیا ، اور ارشاد فرمایا : اب اگر مجھے کسی کے بارے میں یہ پتہ چلا کہ اُس نے ایسا کیا ہے ، تو میں اُسے سزا دوں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، ویسے وہ ثقہ ہے ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر ان لوگوں نے غزل کے بارے میں گفتگو شروع کی ، تو ان کا یہ کہنا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، ایک شخص نے سرگوشی میں اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، تو انہوں نے دریافت کیا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: یہ کہہ رہا ہے : یہ تو چھوٹی قسم کا زندہ درگور کرنا ہے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : زندہ درگور کرنا ، یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُس پر سات مراحل نہیں گزر جاتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے تخلیق کیا ، پھر ہم نے اسے ایک مضبوط جگہ پر نطفہ کی شکل میں رکھ دیا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سب لوگ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے فتوی کے مطابق قائل ہو کر منتشر ہوئے ، کہ اس ( یعنی عزل کرنے ) میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، ویسے وہ ثقہ ہے ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر ان لوگوں نے غزل کے بارے میں گفتگو شروع کی ، تو ان کا یہ کہنا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، ایک شخص نے سرگوشی میں اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، تو انہوں نے دریافت کیا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: یہ کہہ رہا ہے : یہ تو چھوٹی قسم کا زندہ درگور کرنا ہے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : زندہ درگور کرنا ، یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُس پر سات مراحل نہیں گزر جاتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے تخلیق کیا ، پھر ہم نے اسے ایک مضبوط جگہ پر نطفہ کی شکل میں رکھ دیا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سب لوگ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے فتوی کے مطابق قائل ہو کر منتشر ہوئے ، کہ اس ( یعنی عزل کرنے ) میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 1440
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب شرمگاه ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے “ ۔ یہ روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1441
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ مِنَ الْجِمَاعِ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَعَمَّا يَحِلُّ مِنَ الْحَائِضِ . فَقَالَ مُعَاذٌ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَتَوَشَّحَ بِهِ ، وَأَمَّا مَا يَحِلُّ مِنَ الْحَائِضِ فَإِنَّهُ يَحِلُّ مِنْهَا مَا فَوْقَ الْإِزَارِ ، وَاسْتِعْفَافُهُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ قِصَّةَ الْحَائِضِ ، وَرِجَالُ أَبِي دَاوُدَ فِيهِمْ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ ، وَإِسْنَادُ هَذَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : صحبت کرنے کے حوالے سے کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے ؟ ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کا حکم کیا ہے ؟ اور حیض والی عورت کے ساتھ کس حد تک تعلق جائز ہے ؟ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، جہاں تک ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توشیح کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کی تھی ، جہاں تک حیض والی عورت کے ساتھ قربت کا تعلق ہے ، تو تہبند سے اوپر والے حصے کے ساتھ تعلق رکھنا جائز ہے ، لیکن اس سے بھی بچ کے رہنا ، زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس میں سے حیض والی عورت کا واقعہ ذکر کیا ہے ، امام ابوداؤد کے رجال میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے کی وجہ سے ضعیف ہے ، اس روایت کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس میں سے حیض والی عورت کا واقعہ ذکر کیا ہے ، امام ابوداؤد کے رجال میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے کی وجہ سے ضعیف ہے ، اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1442
وَعَنِ ابْنِ السِّمْطِ قَالَ : سَمِعَتْ بِلَالًا يَقُولُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا خَالَطْتُ أَهْلِي فَاخْتَلَعْنَا وَلَمْ أُمْنِ ، أَغْتَسِلُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَعَ أَهْلِي فَلَمْ أُمْنِ ، فَاغْتَسَلْنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْوَسَاوِسِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن سمط بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب میں اپنی بیوی کے ساتھ قربت کرتا ہوں ، لیکن انزال سے پہلے ہم الگ ہو جاتے ہیں ، تو کیا میں غسل کروں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں کبھی میں بھی اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرتا ہوں اور مجھے انزال نہیں ہوتا ، لیکن ہم غسل کر لیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن علی وساوسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن علی وساوسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1443
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے جعفر بن زبیر نے قاسم سے نقل کیا ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے جعفر بن زبیر نے قاسم سے نقل کیا ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 1444
وَعَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ ، قَالُوا : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ . ¤ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں : ” جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1445
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ الْمَرْأَةَ فَلَا يُمَنِي . قَالَ : أَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنَ الْمَرْأَةِ اغْتَسَلْتُ . قَالَ : سُفْيَانُ وَالْجَمَاعَةُ عَلَى الْغُسْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جو عورت کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے جب اپنی اہلیہ کے ساتھ اس طرح کی صورتحال درپیش ہوتی ہے ، تو میں غسل کر لیتا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سفیان اور اہل علم کی ایک جماعت غسل ( لازم ہونے ) کی قائل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔