کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اونٹ کا گوشت کھانے یا اُس کا دودھ پینے کے بعد وضو کرنا
حدیث نمبر: 1306
عَنْ ذِي الْغُرَّةِ قَالَ : عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُدْرِكُنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ ، فَنُصَلِّي فِيهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " . قَالَ : فَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . قَالَ : أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَسَمَّاهُ يَعِيشَ الْجُهَنِيَّ ، وَيُعْرَفُ بِذِي الْغُرَّةِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ذی غرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چل رہے تھے ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں نماز کا وقت ہو جاتا ہے ، ہم اس وقت اونٹوں کے باڑے میں ہوتے ہیں ، کیا ہم وہاں نماز ادا کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! اُس نے دریافت کیا : کیا ہم ان کا گوشت کھانے کے بعد دوبارہ وضو کریں ، آپ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : کیا ہم ان کا گوشت کھانے کے بعد دوبارہ وضو کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں !
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے ان صحابی کا نام ” یعیش جہنی “ بیان کیا ہے جو ” ذی غرہ “ کے نام سے معروف ہیں ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے ان صحابی کا نام ” یعیش جہنی “ بیان کیا ہے جو ” ذی غرہ “ کے نام سے معروف ہیں ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1307
وَعَنْ مَوْلًى لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَوْ عَنِ ابْنٍ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ وَلُحُومِهَا ، وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ وَلُحُومِهَا ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ کے غلام ، یا شاید موسیٰ بن طلحہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، اُن کے دادا سے یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ کا دودھ ، یا گوشت ( کھا کر یا پی کر ) وضو کر لیتے تھے ، البتہ آپ بکری کا دودھ یا گوشت ( کھانے کے ) بعد وضو نہیں کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے باڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1308
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَنَاخِهَا ، وَلَا تَتَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِهَا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ فِي الْوُضُوءِ مِنْ أَلْبَانِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ اخْتِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لو اور اُن کے باندھنے کی جگہ میں نماز ادا نہ کرو ، بکریوں کا گوشت کھانے کے بعد ازسر نو وضو نہ کرو ، اور ان کے باڑے میں نماز ادا کر لو “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : ان صحابی کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے ایک حدیث نقل کی ہے ، جو ان کا دودھ پینے کے بعد وضو کرنے کے بارے میں ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1309
وَعَنْ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّا أَهْلُ بَادِيَةٍ وَمَاشِيَةٍ ، فَهَلْ نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : فَهَلْ نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ وَأَلْبَانِهَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول سے سوال کیا : میں نے کہا: ہم ویرانوں میں اور جانوروں میں رہنے والے لوگ ہیں ، تو کیا ہم اونٹوں کا گوشت کھا کر ، یا ان کا دودھ پی کر وضو کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : کیا ہم بکریوں کا گوشت کھا کر یا اُن کا دودھ پی کر وضو کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 1310
وَعَنْ سُلَيْكٍ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کر لو اور بکریوں کا گوشت کھا کر دوبارہ وضو نہ کرو ، ان بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز ادا نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور سفیان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور سفیان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔