کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: (نماز کے دوران ) ہنسنے پر وضو لازم ہونا
حدیث نمبر: 1278
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ ، فَتَرَدَّى فِي حُفْرَةٍ كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ فِي بَصَرِهِ ضَرَرٌ ، فَضَحِكَ كَثِيرٌ مِنَ الْقَوْمِ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَيُعِيدَ الصَّلَاةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا اور مسجد میں موجود ایک گڑھے میں گر گیا ، اس شخص کی بینائی کمزور تھی ، تو بہت سے لوگ ہنس پڑے ، حالانکہ وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے ، تو ( نماز کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ( نماز کے دوران ) ہنس پڑا تھا وہ دوبارہ وضو کر کے ، دوبارہ نماز ادا کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک دقیقی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1278
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مصنف ابن أبى شيبة كتاب الصلاة من كان يعيد الصلاة والوضوء 3866 سنن الدارقطني كتاب الطهارة باب احاديث القهقهة فى الصلاة و الله ا 524 السنن الكبرى للبيهقي كتاب الطهارة جماع ابواب الحدث باب ترك الوضوء من القهقهة فى الصلاة حديث 636»