حدیث نمبر: 1276
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَعَفَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَغْسِلْ عَنْهُ الدَّمَ ، ثُمَّ لِيُعِدْ وُضُوءَهُ وَلْيَسْتَقْبِلْ صَلَاتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ضَعَّفَهُ النَّاسُ ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَا بَأْسَ بِهِ . وَلَكِنْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ أَرْقَمَ عَنْ عَطَاءٍ ، وَلَا نَدْرِي مَنِ ابْنُ أَرْقَمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کی نماز کے دوران نکسیر پھوٹ جائے ، تو اُسے نماز چھوڑ کر جا کر خون دھونا چاہیے ، دوبارہ وضو کرنا چاہیے اور نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مسلمہ ہے ، جسے لوگوں نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، تاہم اس نے یہ روایت ابن ارقم کے حوالے سے عطاء سے نقل کی ہے ، اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ابن ارقم کون ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مسلمہ ہے ، جسے لوگوں نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، تاہم اس نے یہ روایت ابن ارقم کے حوالے سے عطاء سے نقل کی ہے ، اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ابن ارقم کون ہے ؟
حدیث نمبر: 1277
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : سَالَ مِنْ أَنْفِي دَمٌ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَحْدِثْ لِمَا حَدَثَ وُضُوءًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ناک سے خون بہنے لگا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : تمہیں ایسا حدث لاحق ہوا ہے ، جو وضو کو ختم کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد قرشی واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد قرشی واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔