کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص ( باوضو حالت میں بیوی کو ) بوسہ دے یا چھو لے
حدیث نمبر: 1279
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَاسْتَقْبَلَتْهُ امْرَأَتُهُ ، فَأَكَبَّ عَلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَلَمْ يَنْهَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نماز ادا کرنے کے لیے آنے لگا تھا ، اس کی بیوی اس کے سامنے آئی ، تو اس نے اس عورت کو پکڑ لیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو آپ نے اسے منع نہیں کیا ( یعنی دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کرنے ، سے منع نہیں کیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 1280
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يُحْدِثُ وُضُوءًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَثَبَّتَهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، اور ازسر نو وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، مروان بن معاویہ نے اسے ” ثبت “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، مروان بن معاویہ نے اسے ” ثبت “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1281
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يَتَوَضَّأُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( وضو کر لینے کے بعد ) اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے ۔ پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور ازسر نو وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 1282
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : الْمُلَامَسَةُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ ، وَإِنَّ مَسَّ الرَّجُلُ جَسَدَ امْرَأَتِهِ بِشَهْوَةٍ فَفِيهِ الْوُضُوءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ حَمَّادَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ملامسہ “ سے مراد وہ عمل ہے ، جو صحبت کرنے کے علاوہ ہو ، اگر آدمی اپنی بیوی کے جسم کو شہوت کے ساتھ چھو لیتا ہے ، تو اس صورت میں وضو لازم ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ابوسلیمان ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ابوسلیمان ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1283
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُبَاشَرَةِ ، وَمِنَ اللَّمْسِ بِيَدِهِ ، وَمِنَ الْقُبْلَةِ إِذَا قَبَّلَ امْرَأَتَهُ . وَكَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ( أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ ) : هُوَ الْغَمْزُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مباشرت کے بعد ، ہاتھ کے ذریعے چھو لینے کے بعد ، یا بوسے کے بعد ، ( یعنی جب آدمی اپنی بیوی کا بوسہ لے ) تو ان تمام صورتوں میں آدمی وضو کرے گا ، وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں : اس سے مراد ” غمز “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔