کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: ناخن سے میل کو صاف کرنا
❮
❯
عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنِ الْوَسَخِ الَّذِي يَكُونُ فِي الْأَظْفَارِ ، فَقَالَ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الرَّقِّيُّ ، وَهُوَ مَجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا ، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس میل کے بارے میں بھی سوال کیا ، جو ناخنوں میں ہوتی ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے ، اُسے چھوڑ کر ، اُس چیز کی طرف جاؤ ، جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید رقی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1226
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَالِي لَا أَهِمُ وَرَفْغُ أَحَدِكُمْ بَيْنَ أُنْمُلَتِهِ وَظُفْرِهِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الضِّحَاكُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں وہم کا شکار نہ ہوؤں ، جبکہ تم میں سے کسی ایک کی گندگی اُس کے پوروں اور ناخنوں کے درمیان ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن زید ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1227
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه مسند البزار برقم: 1893، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10401»