کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اچھی طرح وضو کرنا
حدیث نمبر: 1213
عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ، وَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ ، وَلَا تُنْزِي الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ ، وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ عَلَى أَبِيهِ ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِنْزَاءَ الْحُمُرِ عَلَى الْخَيْلِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! اچھی طرح وضو کرنا ، خواہ یہ تم پر گراں گزرے اور صدقہ نہ کھانا اور گدھے کے ذریعے گھوڑی کی جفتی نہ کرنا ، اور نجومیوں کے ساتھ نہ بیٹھنا “ ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، جو انہوں نے اپنے والد کی ” مسند “ میں اضافے کیے ہیں ، امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے گدھے کے ذریعے گھوڑی کی جفتی کرنے والا حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبدالرحمان ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1214
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَرَّبْنَا لَهُ طَعَامًا فَأَكَلَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمُكَفِّرَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُحْتَمَلٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن عبداللہ بن کعب ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ) بیعت کرنے والی ایک خاتون کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بھی تھے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کھانا کھایا ، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی پیش کیا ، تو آپ نے وضو کیا ، پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں گناہوں کو ختم کرنے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ( یعنی آپ بتائیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( طبیعت پر ) ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، زیادہ قدموں کے ساتھ مساجد کی طرف جانا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں احتمال پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ محتمل
حدیث نمبر: 1215
وَعَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ عَمْرٍو الْكِلَابِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ . قَالَ : وَكَانَتْ رِبْعِيَّةُ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتِ الْوُضُوءَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبیدہ بن عمرو کلابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ربعیہ ( نامی خاتون ) جب وضو کرتی تھی ، تو اچھی طرح وضو کرتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1216
وَعَنْ حُمْرَانَ قَالَ : دَعَا عُثْمَانُ بِوُضُوءٍ وَهُوَ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ ، فَجِئْتُهُ بِمَاءٍ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ فَقُلْتُ : حَسْبُكَ ، وَاللَّيْلَةُ شَدِيدَةُ الْبَرْدِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يُسْبِغُ عَبْدٌ الْوُضُوءَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَالْحَدِيثُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
حمران بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا ، وہ نماز کے لیے جانے لگے تھے ، یہ ایک سرد رات کی بات ہے ، میں ان کے پاس پانی لے کر آیا ، تو انہوں نے اپنا چہرہ اور دونوں بازو دھوئے ، میں نے کہا: آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے آج رات بہت سردی ہے ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ حدیث حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1217
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَسْبَغَ الْوُضُوءَ فِي الْبَرْدِ الشَّدِيدِ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ كِفْلَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْعَبْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شدید سردی میں اچھی طرح وضو کرتا ہے ، اُسے اجر کے دو کفل ملتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حفص عبدی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1217
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1218
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَفْرَحُ بِذَهَابِ الشِّتَاءِ رَحْمَةً لِمَا يَدْخُلُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الشِّدَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فرشتے سردی رخصت ہونے پر خوش ہوتے ہیں ، اس کی وجہ سے غریب مسلمانوں کو جس مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس کے حوالے سے رحمت ( کی وجہ سے وہ ایسا محسوس کرتے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی معلی بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1218
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1219
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ صَفْوَانَ ، رَوَى عَنِ الثَّوْرِيِّ ، وَرَوَى عَنْهُ ابْنُهُ مُحَمَّدٌ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1219
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1220
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اُس چیز کی طرف نہ کروں ؟ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، اچھی طرح وضو کرنا اور مسجد کی طرف جانے والے زیادہ قدم “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، عاصم بن بہدلہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1220
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 1221
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى حَضَرَتِ الصَّلَاةُ . قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَنْثَرَ وَمَضْمَضَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ نَضَحَ تَحْتَ ثَوْبِهِ فَقَالَ : " هَذَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ . وَأَبُو مَعْشَرٍ يُكْتَبُ مِنْ حَدِيثِهِ الرِّقَاقُ وَالْمَغَازِي وَفَضَائِلُ الْأَعْمَالِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے دریافت کیا : اچھی طرح وضو کرنے سے مراد کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ نماز کا وقت ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے ، ناک میں پانی ڈالا ، کلی کی ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازوؤں کو تین ، تین مرتبہ دھویا ، اپنے سر کا مسح کیا دونوں پاؤں کو تین ، تین مرتبہ دھویا ، اور پھر کپڑے کے نیچے پانی چھڑکا اور ارشاد فرمایا : یہ اچھی طرح وضو ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، دل کو نرم کرنے والے موضوعات ، غزوات اور فضائل اعمال کے بارے میں ابومعشر نامی راوی سے منقول روایات نوٹ کر لی جائیں گی ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1221
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1222
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُشْرِقَ اللَّوْنِ يُعْرَفُ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، أَتَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ فَقُلْتُ : يَا رَبِّي ، فِي الْكَفَّارَاتِ . قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ : إِبْلَاغُ الْوُضُوءِ أَمَاكِنَهُ عَلَى الْكَرِيهَاتِ ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الصَّلَوَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَفِي التَّعْبِيرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو آپ کا رنگ چمک رہا تھا اور آپ کے چہرے سے خوشی کے آثار نمایاں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کو بہترین صورت میں دیکھا ، اُس نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو ؟ ملاء اعلیٰ کس بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : اے میرے پروردگار ! کفارات کے بارے میں ، اُس نے فرمایا : کفارات کیا ہیں ؟ میں نے جواب دیا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، پیدل چل کر نماز کے لیے جانا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبداللہ بن ابراہیم بن حسین نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث ” نماز کا انتظار کرنے “ سے متعلق باب میں اور ” تعبیر “ سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1223
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ فَقَالَ : " فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبُرَاتِ ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ وَكِيعٌ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : ملاء اعلیٰ کس بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کفارات اور درجات کے بارے میں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا اور رات میں اُس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، اور جہاں تک کفارات کا تعلق ہے ، تو وہ سردی میں اچھی طرح وضو کرنا ، باجماعت نماز کے لیے ( زیادہ دور سے ) چل کر جانا ، اور ایک نماز کے بعد ، دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، وکیع نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1224
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ فَهْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِكَفَّارَاتِ الْخَطَايَا ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت قیس بن فہد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں خطاؤں کا کفارہ بننے والی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، زیادہ قدم اٹھا کر مسجد کی طرف جانا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ،
یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواہد حدیث صحیح ولہ إسناد آخر رجالە موثقون۔
حدیث نمبر: 1225
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ خَيْثَمٍ قَالَ : سَمِعْتُ جَدَّتَيْ عُبَيْدَةَ بِنْتَ عَمْرٍو الْكِلَابِيَّةَ تَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ خَيْثَمٍ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ ، وَقَدْ رَوَى قَبْلَ هَذَا عَنْ جَدَّتِهِ عَنْ أَبِيهَا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن خیثم بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی دادی سیدہ عبیدہ بنت عمرو کلابیہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ فرماتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم میں نے یہ بات نہیں پائی ہے کہ سعید بن خیثم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے سماع کیا ہو ، انہوں نے اس سے پہلے اپنی دادی کے حوالے سے ، اُن کے والد سے روایت نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف