حدیث نمبر: 1198
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ - يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ - وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ مِنْ أُمَّتِي فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور عطاء کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے اُن افراد کے کیا کہنے ، جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1199
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَحْدَهُ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ مِنْ أُمَّتِي " . قَالُوا : وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمُتَخَلِّلُونَ بِالْوُضُوءِ ، وَالْمُتَخَلِّلُونَ مِنَ الطَّعَامِ ; أَمَّا تَخْلِيلُ الْوُضُوءِ فَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَبَيْنَ الْأَصَابِعِ ، وَأَمَّا تَخْلِيلُ الطَّعَامِ فَمِنَ الطَّعَامِ . إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَى الْمَلَكَيْنِ مِنْ أَنْ يَرَيَا بَيْنَ أَسْنَانِ صَاحِبِهِمَا طَعَامًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
معجم کبیر میں ، صرف سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : میری امت کے خلال کرنے والے افراد کے کیا کہنے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! خلال کرنے والے افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خلال کرنے والے اور کھانے کا خلال کرنے والے ، جہاں تک وضو کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کلی کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالتے ہوئے اور انگلیوں کے درمیان ہو گا ، اور جہاں تک کھانے کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کھانے کی چیز کے بارے میں ہو گا ، کیونکہ ( انسان کے ساتھ رہنے والے ) دونوں فرشتوں کے لیے کوئی چیز اتنی زیادہ گراں نہیں ہوتی ، جتنی یہ ہوتی ہے کہ وہ دونوں ( فرشتے ) اپنے ساتھ والے شخص کے دانتوں کے درمیان میں ، کھانے کی کوئی چیز دیکھیں ، جبکہ وہ شخص کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا ہو “ ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی واصل رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : میری امت کے خلال کرنے والے افراد کے کیا کہنے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! خلال کرنے والے افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خلال کرنے والے اور کھانے کا خلال کرنے والے ، جہاں تک وضو کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کلی کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالتے ہوئے اور انگلیوں کے درمیان ہو گا ، اور جہاں تک کھانے کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کھانے کی چیز کے بارے میں ہو گا ، کیونکہ ( انسان کے ساتھ رہنے والے ) دونوں فرشتوں کے لیے کوئی چیز اتنی زیادہ گراں نہیں ہوتی ، جتنی یہ ہوتی ہے کہ وہ دونوں ( فرشتے ) اپنے ساتھ والے شخص کے دانتوں کے درمیان میں ، کھانے کی کوئی چیز دیکھیں ، جبکہ وہ شخص کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا ہو “ ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی واصل رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1200
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ مِنْ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ الْأَنْصَارِيُّ ، لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے خلال کرنے والے افراد کے کیا کہنے ؟ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحفص انصاری ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحفص انصاری ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 1201
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو پانی کے ذریعے اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1202
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَخَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے ، اپنے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا ، اور یہ بات بیان کی : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1203
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، میں نے کسی کو اُس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، میں نے کسی کو اُس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 1204
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 1205
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِفَضْلِ وُضُوئِهِ ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِفَضْلِ ذِرَاعَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ تَمَامُ بْنُ نَجِيحٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے ، وضو کے بچ جانے والے پانی کے ذریعہ اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ، اور بازؤں ( کو دھونے سے ) بچ جانے والے پانی کے ذریعے اپنے سر کا مسح کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تمام بن نجیح ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحییٰ بن معین نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تمام بن نجیح ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحییٰ بن معین نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1206
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : وَضَأَّتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْخَلَ يَدَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : " بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ( داڑھی کے ) نیچے داخل کر کے اپنی داڑھی کا خلال کیا ، میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے اس کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1207
وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ وَأَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ، وَيَزْعُمُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
نافع نے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : جب وہ وضو کرتے تھے ، تو اپنی داڑھی کا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے تھے ، اور یہ بات بیان کرتے تھے : کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن ابوبزہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن ابوبزہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 1208
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكْبُرَةَ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : التَّخْلِيلُ سُنَّةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عکبرہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ فرماتے ہیں : خلال کرنا سنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1209
وَعَنْ وَاثِلَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يُخَلِّلْ أَصَابِعَهُ بِالْمَاءِ خَلَّلَهَا اللَّهُ بِالنَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ اللَّيْثِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ( وضو کرتے ہوئے ) پانی کے ذریعے اپنی انگلیوں کا خلال نہیں کرتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آگ کے ذریعے اُن ( انگلیوں ) کا خلال کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1210
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَتُنْتَهَكَنَّ الْأَصَابِعُ بِالطَّهُورِ ، أَوْ لَتَنْتَهِكَنَّهَا النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَوَقَفَهُ فِي الْكَبِيرِ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یا تو وضو میں انگلیوں کا خلال کیا جائے گا ، یا پھر آگ ان کا خلال کرے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جبکہ معجم کبیر میں ، یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جبکہ معجم کبیر میں ، یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1211
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : خَلِّلُوا الْأَصَابِعَ الْخَمْسَ لَا يَحْشُوهَا اللَّهُ نَارًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” پانچوں انگلیوں کا خلال کرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں آگ نہ بھرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1212
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَخَلَّلُوا ; فَإِنَّهُ نَظَافَةٌ ، وَالنَّظَافَةُ تَدْعُو إِلَى الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ مَعَ صَاحِبِهِ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ أَحَادِيثُهُ مَوْضُوعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خلال کرو ! کیونکہ یہ پاکیزگی کا باعث ہے ، اور پاکیزگی ایمان کی طرف دعوت دیتی ہے ، اور ایمان اپنے ساتھی کے ساتھ جنت میں ہو گا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حیان ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث ” موضوع “ ہوتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حیان ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث ” موضوع “ ہوتی ہیں ۔