حدیث نمبر: 1198
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ - يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ - وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ مِنْ أُمَّتِي فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور عطاء کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے اُن افراد کے کیا کہنے ، جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1198
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «مصنف ابن ابي شيبة كتاب الطهارات فى تخليل الاصابع فى الوضوء 95 مسند احمد بن حنبل مسند الانصار حديث ابي ايوب الانصاري 22930 مسند عبد بن حميد حديث ابي ايوب الانصاري رضى الله عنه ، 218 المعجم الكبير للطبراني باب الخاء باب من اسمه خزيمة ابوسورة ابن اخي ابي ايوب ، 3952»
حدیث نمبر: 1199
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَحْدَهُ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ مِنْ أُمَّتِي " . قَالُوا : وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمُتَخَلِّلُونَ بِالْوُضُوءِ ، وَالْمُتَخَلِّلُونَ مِنَ الطَّعَامِ ; أَمَّا تَخْلِيلُ الْوُضُوءِ فَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَبَيْنَ الْأَصَابِعِ ، وَأَمَّا تَخْلِيلُ الطَّعَامِ فَمِنَ الطَّعَامِ . إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَى الْمَلَكَيْنِ مِنْ أَنْ يَرَيَا بَيْنَ أَسْنَانِ صَاحِبِهِمَا طَعَامًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
معجم کبیر میں ، صرف سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : میری امت کے خلال کرنے والے افراد کے کیا کہنے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! خلال کرنے والے افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خلال کرنے والے اور کھانے کا خلال کرنے والے ، جہاں تک وضو کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کلی کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالتے ہوئے اور انگلیوں کے درمیان ہو گا ، اور جہاں تک کھانے کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کھانے کی چیز کے بارے میں ہو گا ، کیونکہ ( انسان کے ساتھ رہنے والے ) دونوں فرشتوں کے لیے کوئی چیز اتنی زیادہ گراں نہیں ہوتی ، جتنی یہ ہوتی ہے کہ وہ دونوں ( فرشتے ) اپنے ساتھ والے شخص کے دانتوں کے درمیان میں ، کھانے کی کوئی چیز دیکھیں ، جبکہ وہ شخص کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا ہو “ ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی واصل رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1200
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ مِنْ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ الْأَنْصَارِيُّ ، لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے خلال کرنے والے افراد کے کیا کہنے ؟ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحفص انصاری ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1201
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو پانی کے ذریعے اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1202
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَخَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے ، اپنے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا ، اور یہ بات بیان کی : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1203
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، میں نے کسی کو اُس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1204
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1205
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِفَضْلِ وُضُوئِهِ ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِفَضْلِ ذِرَاعَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ تَمَامُ بْنُ نَجِيحٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے ، وضو کے بچ جانے والے پانی کے ذریعہ اپنی داڑھی کا خلال کرتے تھے ، اور بازؤں ( کو دھونے سے ) بچ جانے والے پانی کے ذریعے اپنے سر کا مسح کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی تمام بن نجیح ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحییٰ بن معین نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1206
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : وَضَأَّتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْخَلَ يَدَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : " بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ( داڑھی کے ) نیچے داخل کر کے اپنی داڑھی کا خلال کیا ، میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے اس کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1207
وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ وَأَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ، وَيَزْعُمُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
نافع نے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : جب وہ وضو کرتے تھے ، تو اپنی داڑھی کا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے تھے ، اور یہ بات بیان کرتے تھے : کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن ابوبزہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1207
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1208
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكْبُرَةَ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : التَّخْلِيلُ سُنَّةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عکبرہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ فرماتے ہیں : خلال کرنا سنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1208
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1209
وَعَنْ وَاثِلَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يُخَلِّلْ أَصَابِعَهُ بِالْمَاءِ خَلَّلَهَا اللَّهُ بِالنَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ اللَّيْثِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ( وضو کرتے ہوئے ) پانی کے ذریعے اپنی انگلیوں کا خلال نہیں کرتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آگ کے ذریعے اُن ( انگلیوں ) کا خلال کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، العلاء بن کثیر اللیثی کے ضعف پر اجماع کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 1210
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَتُنْتَهَكَنَّ الْأَصَابِعُ بِالطَّهُورِ ، أَوْ لَتَنْتَهِكَنَّهَا النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَوَقَفَهُ فِي الْكَبِيرِ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یا تو وضو میں انگلیوں کا خلال کیا جائے گا ، یا پھر آگ ان کا خلال کرے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جبکہ معجم کبیر میں ، یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1210
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1211
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : خَلِّلُوا الْأَصَابِعَ الْخَمْسَ لَا يَحْشُوهَا اللَّهُ نَارًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” پانچوں انگلیوں کا خلال کرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں آگ نہ بھرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1212
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَخَلَّلُوا ; فَإِنَّهُ نَظَافَةٌ ، وَالنَّظَافَةُ تَدْعُو إِلَى الْإِيمَانِ ، وَالْإِيمَانُ مَعَ صَاحِبِهِ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ أَحَادِيثُهُ مَوْضُوعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خلال کرو ! کیونکہ یہ پاکیزگی کا باعث ہے ، اور پاکیزگی ایمان کی طرف دعوت دیتی ہے ، اور ایمان اپنے ساتھی کے ساتھ جنت میں ہو گا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حیان ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث ” موضوع “ ہوتی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1212
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع