حدیث نمبر: 1054
عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ ، فَمَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ ؟ " قَالُوا : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ ، فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ ، ضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس مسجد قبا میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کرتے ہوئے ، طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف فرمائی ہے ، تو طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے جس کو تم اختیار کرتے ہو ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہمیں کسی مخصوص چیز کا علم نہیں ہے ، البتہ یہ ہے کہ ہمارے کچھ یہودی پڑوسی ہیں ، وہ پاخانہ کرنے کے بعد اپنی شرم گاہوں کو ( پانی کے ذریعے ) دھوتے ہیں ، تو جس طرح وہ دھوتے ہیں ، اسی طرح ہم بھی دھو لیتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے اپنی تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، جسے امام مالک ، یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے اپنی تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، جسے امام مالک ، یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 1055
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ) بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ فَقَالَ : " مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي أَثْنَى اللَّهُ عَلَيْكُمْ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ فَرْجَهُ ، أَوْ قَالَ : مَقْعَدَتَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اس ( مسجد ) میں ایسے لوگ ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا : طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے ؟ جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ، ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ، جو بھی مرد یا عورت پاخانہ کرتا ہے ، تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے ، یہاں ایک لفظ راوی نے مختلف نقل کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی وجہ یہی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، البتہ یہ ہے کہ ابن اسحق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ان الفاظ کے ساتھ
یہ روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، البتہ یہ ہے کہ ابن اسحق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ان الفاظ کے ساتھ
یہ روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1056
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا قَبْلَكَ أَهْلَ كِتَابٍ ، وَإِنَّا نُؤْمَرُ بِغَسْلِ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ رَضِيَ عَنْكُمْ ، وَأَثْنَى عَلَيْكُمْ ، وَأَحَبَّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامٌ الطَّوِيلُ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سے پہلے ہم اہل کتاب تھے ، ہمیں ( پاخانہ اور پیشاب کے بعد ) شرمگاہ کو دھونے کا حکم دیا گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے راضی ہو گیا ، اُس نے تمہاری تعریف کی اور اُس نے تم سے محبت کا اظہار کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1057
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدَ قُبَاءَ ، فَقَامَ عَلَى بَابِهِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ ، فَمَا طَهُورَكُمْ ؟ " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَهْلُ كِتَابٍ ، وَنَجِدُ الِاسْتِنْجَاءَ عَلَيْنَا بِالْمَاءِ ، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ الْيَوْمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ ، فَقَالَ : ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِيهِ ، وَلَكِنَّهُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَيَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن سلام ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں یعنی مسجد قباء میں تشریف لائے ، جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ، آپ اس کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے ، تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے تو طہارت کے حصول کے لیے تم لوگوں کا طریقہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم اہل کتاب تھے ، تو پانی کے ذریعے استنجاء کرنا اپنے اوپر لازم قرار دیتے تھے ، اور اب بھی ہم ایسا ہی کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طہارت کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اُس میں ایسے لوگ ہیں ، جو اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے کو پسند کرتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کے بارے میں محدثین نے اختلاف کیا ہے ، تاہم امام أحمد ، یحییٰ بن معین ، ابوزرعہ اور یعقوب بن شیبہ نے اسے ثقہ قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کے بارے میں محدثین نے اختلاف کیا ہے ، تاہم امام أحمد ، یحییٰ بن معین ، ابوزرعہ اور یعقوب بن شیبہ نے اسے ثقہ قرار دیا ۔
حدیث نمبر: 1058
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : لَقَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا - يَعْنِي قُبَاءَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ خَيْرًا ، أَفَلَا تُخْبِرُونِي ؟ " قَالَ : يَعْنِي قَوْلَهُ : ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) . قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيْنَا فِي التَّوْرَاةِ - يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَلَمْ يَقُلْ : عَنْ أَبِيهِ ، كَمَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اُن کی مراد یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ، کیا تم مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاؤ گے ؟ ( کہ تم لوگوں کا طہارت کا مخصوص طریقہ کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا : ” اُس میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ، اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے اس چیز کو پایا تھا ، کہ تورات میں اسے ہم پر لازم قرار دیا گیا ۔ ان لوگوں کی مراد ، پانی کے ذریعے استنجاء کرنا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، محمد بن عبداللہ بن سلام کے حوالے سے نقل ہے ، انہوں نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ یہ ان کے والد ( سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے منقول ہے ، جیسا کہ امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں شہر نامی راوی ہے ( جو ضعیف ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، محمد بن عبداللہ بن سلام کے حوالے سے نقل ہے ، انہوں نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ یہ ان کے والد ( سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے منقول ہے ، جیسا کہ امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں شہر نامی راوی ہے ( جو ضعیف ہے ) ۔
حدیث نمبر: 1059
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَهْلَ قُبَاءَ ، مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي قَدْ خُصِّصْتُمْ بِهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ يَخْرُجُ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ مَقْعَدَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” اے اہل قباء ! طہارت کے حصول کا وہ مخصوص طریقہ کیا ہے ؟ جس کی وجہ سے اس آیت میں بطور خاص تمہارا ذکر کیا گیا ہے : ” اس ( مسجد ) میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ، اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے جو بھی شخص پاخانہ کرتا ہے ، تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی شہر نامی راوی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی شہر نامی راوی ہے ۔
حدیث نمبر: 1060
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كَانَ رِجَالٌ مِنَّا إِذَا خَرَجُوا مِنَ الْغَائِطِ يَغْسِلُونَ أَثَرَ الْغَائِطِ ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمارے لوگ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے ، تو اس کے بعد پاخانے کے اثر کو دھو لیتے تھے ، اُن لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اس ( مسجد ) میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 1061
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ فِيهِمْ - عَزَّ وَجَلَّ - ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ؟ ) " قَالَ : كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ ، وَكَانُوا لَا يَنَامُونَ اللَّيْلَ كُلَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ دُونَ قَوْلِهِ : " وَكَانُوا لَا يَنَامُونَ اللَّيْلَ كُلَّهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ لوگ کون ہیں ؟ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس ( مسجد ) میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ انہوں نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو پانی کے ذریعے استنجاء کرتے ہیں اور وہ ساری رات سوئے نہیں رہتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور وہ ساری رات سوئے نہیں رہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور وہ ساری رات سوئے نہیں رہتے ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 1062
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : غَسْلُ الْمَرْأَةِ قُبُلَهَا مِنَ السُّنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ عَنْعَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : عورت کا ( پیشاب کرنے کے بعد ) اپنی اگلی شرمگاہ کو دھونا سنت ( کے حکم سے ثابت ) ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے
یہ روایت ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے
یہ روایت ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔