کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( قضائے حاجت کے بعد پاکیزگی حاصل کرتے ہوئے ) پانی اور پتھر کے استعمال کو جمع کر لینا
حدیث نمبر: 1053
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءَ ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) فَسَأَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ الزُّهْرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا ، وَهُوَ الَّذِي أَشَارَ بِجَلْدِ مَالِكٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اس ( مسجد ) میں ایسے لوگ ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کریں ، اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں سے ( اُن کے معمول کے بارے میں ) دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : ( قضائے حاجت کے بعد ) پتھر استعمال کرنے کے بعد ، ہم پانی بھی استعمال کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالعزیز بن عمر زہری ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور یہ وہی شخص ہے ، جس نے امام مالک کو کوڑے لگانے کا مشورہ دیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1053
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف