حدیث نمبر: 993
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْهَبُ لِحَاجَتِهِ إِلَى الْمُغَمَّسِ . قَالَ نَافِعٌ : نَحْوَ مِيلَيْنِ مِنْ مَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے مغمس چلے جاتے تھے ۔ نافع بیان کرتے ہیں : یہ مکہ سے تقریبا دو میل کے فاصلے پر ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے راویوں میں سے ایک ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے راویوں میں سے ایک ہیں ۔
حدیث نمبر: 994
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ ، فَانْطَلَقَ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَبِسَ أَحَدَ خُفَّيْهِ ، فَجَاءَ طَائِرٌ أَخْضَرُ ، فَأَخَذَ الْخُفَّ الْآخَرَ فَارْتَفَعَ بِهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ ، فَخَرَجَ مِنْهُ أَسْوَدُ سَالِحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَرَامَةٌ أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِهَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قضائے حاجت کرنا ہوتی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دور تشریف لے جایا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( اس سے فراغت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ایک موزہ پہن لیا اسی دوران ایک سبز پرندہ آیا ، اس نے وہ دوسرا موزہ پکڑ لیا اور اسے لے کر اڑ گیا ، پھر اس نے وہ موزہ پھینک دیا ، تو اس میں سے سیاہ سانپ نما چیز نکلی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کرامت ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے میری عزت افزائی کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو پیٹ کے بل چلتی ہے ، اور اس کے شر سے بھی ، جو دو ٹانگوں پر چلتی ہے ، اور اس کے شر سے بھی جو چار ٹانگوں پر چلتی ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔
حدیث نمبر: 995
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ - وَكَانَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ يَبْعُدُ - فَأَتَيْتُهُ بِأَدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَانْطَلَقَ ، فَسَمِعْتُ خُصُومَةَ رِجَالٍ وَلَغَطًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا ، فَجَاءَ ، فَقَالَ : " بِلَالٌ ؟ " قُلْتُ : بِلَالٌ . قَالَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَصَبْتَ " ، فَأَخَذَهُ مِنِّي فَتَوَضَّأَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ عِنْدَكَ خُصُومَةَ رِجَالٍ وَلَغَطًا مَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْ أَلْسِنَتِهِمْ . قَالَ : " اخْتَصَمَ عِنْدِيَ الْجِنُّ الْمُسْلِمُونَ وَالْجِنُّ الْمُشْرِكُونَ ، سَأَلُونِي أَنْ أُسْكِنَهُمْ ، فَأَسْكَنْتُ الْمُسْلِمِينَ الْجَلْسَ ، وَأَسْكَنْتُ الْمُشْرِكِينَ الْغَوْرَ " . ¤ قُلْتُ لِكَثِيرٍ : مَا الْجَلْسُ ؟ وَمَا الْغَوْرُ ؟ قَالَ : الْجَلْسُ : الْقُرَى وَالْجِبَالُ ، وَالْغَوْرُ : مَا بَيْنَ الْجِبَالِ وَالْبِحَارِ . ¤ قَالَ كَثِيرٌ : مَا رَأَيْنَا أَحَدًا أُصِيبَ بِالْجَلْسِ إِلَّا سَلِمَ ، وَلَا أُصِيبَ أَحَدٌ بِالْغَوْرِ إِلَّا لَمْ يَكَدْ يَسْلَمُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ فَقَطْ . ¤ وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، آپ قضائے حاجت کے لئے دور تشریف لے جایا کرتے تھے ، میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پاس آیا ، آپ گئے ہوئے تھے ، میں نے کچھ لوگوں کے بحث کرنے اور شور و غوغا کی آواز سنی ، میں نے اس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، جب آپ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : تم بلال ہو ؟ میں نے عرض کی میں بلال ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کہ تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ، پھر آپ نے مجھ سے پانی لیا اور وضو کیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے پاس کچھ لوگوں کے بحث کرنے اور شور و غوغا کی آوازیں سنی تھیں ، میں نے ان کی زبان کسی سے نہیں سنی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان اور مشرکین جنات میرے پاس بحث کر رہے تھے ، انہوں نے یہ درخواست کی کہ میں ان کی رہائش کے لیے جگہ کا تعین کر دوں ، تو میں نے مسلمانوں کے لیے ” جلس“ کا تعین کر دیا اور مشرکین کے لیے ” غور “ کا تعین کر دیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ( اپنے استاد ) کثیر سے دریافت کیا : جلس سے کیا مراد ہے ؟ اور ” غور “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ” جلس “ سے مراد بستیاں اور پہاڑ ہیں ، اور ” غور “ سے مراد پہاڑوں اور سمندروں کے درمیان کی جگہ ہے ۔ کثیر کہتے ہیں : ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جس بھی شخص کو ” جلس “ میں کوئی نقصان پہنچتا ہے وہ سلامت رہتا ہے ، اور جس کو ” غور “ میں نقصان پہنچتا ہے ، وہ کم ہی سلامت رہتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تھے ، تو دور چلے جاتے تھے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ( اپنے استاد ) کثیر سے دریافت کیا : جلس سے کیا مراد ہے ؟ اور ” غور “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ” جلس “ سے مراد بستیاں اور پہاڑ ہیں ، اور ” غور “ سے مراد پہاڑوں اور سمندروں کے درمیان کی جگہ ہے ۔ کثیر کہتے ہیں : ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جس بھی شخص کو ” جلس “ میں کوئی نقصان پہنچتا ہے وہ سلامت رہتا ہے ، اور جس کو ” غور “ میں نقصان پہنچتا ہے ، وہ کم ہی سلامت رہتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تھے ، تو دور چلے جاتے تھے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔