کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مسائل کی تفصیل
حدیث نمبر: 737
كُرْدُوسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ شُعْبَةُ : أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ تُفَصِّلَ الْمُفَصَّلَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا بَابًا " قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ : أَيَّ الْمُفَصَّلِ ؟ قَالَ : الْقَصَصُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كُرْدُوسٌ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِيهِ نَظَرٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
کردوس بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، شعبہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے اُن کی مراد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے ( انہوں نے یہ بات بیان کی : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر تم کسی مفصل کی وضاحت کرو ! تو یہ میرے نزدیک اتنی چیزوں سے زیادہ بہتر ہے “ شعبہ کہتے ہیں : میں نے عبدالملک سے دریافت کیا : مفصل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : قصے ( یا واقعات ) ۔
یہی روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کردوس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 737
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، کردوس نامی راوی پر جرح کی وجہ سے، جبکہ بقیہ رجال صحیح کے ہیں۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 164»