کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: علم کا ایک دوسرے کو درس دینا اور اُس کے حوالے سے مذاکرہ کرنا
حدیث نمبر: 734
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَسَى أَنْ يَكُونَ قَالَ : سِتِّينَ رَجُلًا - فَيُحَدِّثُنَا الْحَدِيثَ ثُمَّ يَدْخُلُ لِحَاجَتِهِ ، فَنَتَرَاجَعُهُ بَيْنَنَا هَذَا ثُمَّ هَذَا ، فَنَقُومُ كَأَنَّمَا زُرِعَ فِي قُلُوبِنَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : شاید انہوں نے یہ بھی کہا: تھا : ہم 60 افراد بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں احادیث بیان کرتے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں گھر تشریف لے گئے ، تو ہم نے آپس میں اُن احادیث کے بارے میں ایک ایک کر کے مذاکرہ شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ جب ہم اُٹھے تو یہ حالت تھی کہ جیسے وہ ہمارے دلوں میں بو دی گئی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4077 اورده المؤلف فى المقصد العلى 88»
حدیث نمبر: 735
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَصْحَابُهُ قَالَ : تَدَارَسُوا وَأَبْشِرُوا ، وَزِيدُوا زَادَكُمُ اللَّهُ خَيْرًا وَأَحَبَّكُمْ وَأَحَبَّ مَنْ يُحِبُّكُمْ ، رُدُّوا عَلَيْنَا الْمَسَائِلَ ; فَإِنَّ أَجْرَ آخِرِهَا كَأَجْرِ أَوَّلِهَا ، وَاخْلِطُوا حَدِيثَكُمْ بِالِاسْتِغْفَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کے شاگرد ان کے پاس آتے تھے ، تو وہ یہ فرمایا کرتے تھے : تم ایک دوسرے کو درس دو ! اور خوشخبری حاصل کرو ، اور زیادہ ( بھلائی کرو ) اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ بھلائی عطا کرے گا ، وہ تم سے بھی محبت رکھے گا ، اور جو شخص تم لوگوں سے محبت کرے گا ، اُس سے بھی محبت رکھے گا ، اور مسائل ہماری طرف لوٹا دو ! کیونکہ اس کے آخری کا اجر بھی اس کے پہلے کی مانند ہو گا اور اپنی گفتگو میں استغفار کو ملا لیا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 735
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 736
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ : أَكْتِبْنَا . قَالَ : لَنْ نُكْتِبَكُمْ ، وَلَنْ نَجْعَلَهُ قُرْآنًا ، وَلَكِنْ خُذُوا عَنَّا كَمَا أَخَذْنَا عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَقُولُ : تَحَدَّثُوا ; فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُذَكِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونضرہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں لکھوائیں ! انہوں نے فرمایا : ہم تمہیں نہیں لکھوائیں گے اور ہم اُن ( احادیث کو تحریر کروا کر ) قرآن نہیں بنائیں گے ، البتہ یہ ہے کہ تم ہم سے سیکھ لو ! جس طرح ہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ لیا تھا ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : حدیث بیان کیا کرو ! کیونکہ بعض اوقات ایک حدیث ، کوئی دوسری حدیث یاد دلا دیتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 2477»