کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: راویوں کے بارے میں کلام کرنا
حدیث نمبر: 662
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : خَطَبَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " حَتَّى مَتَى تُرْعَوْنَ عَنْ ذِكْرِ الْفَاجِرِ ، هَتِّكُوهُ حَتَّى يَحْذَرَهُ النَّاسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَإِسْنَادُ الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ حَسَنٌ ، رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَاخْتُلِفَ فِي بَعْضِهِمُ اخْتِلَافًا لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ کب تک فاجر کے ذکر کے حوالے سے پریشان رہو گے ؟ تم اُس کا پردہ فاش کرو ! تاکہ لوگ اُس سے بچ کے رہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، معجم اوسط اور معجم صغیر کی سند حسن ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، اس کے رواۃ ثقہ
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 418/19 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 4372 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 215/1»
حدیث نمبر: 663
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِفَاسِقٍ غِيبَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ بِشْرٍ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فاسق کی غیبت نہیں ہوتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن بشر ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 418/19»
حدیث نمبر: 664
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ : جَلَسَ عُمَرُ مَجْلِسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْلِسُهُ ، تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَائِزُ . قَالَ : فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ ، فَقَالُوا : هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَهُمْ عَلَى اللَّهِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْوَلِيدِ الشَّنِّيُّ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَيَحْيَى الْقَطَّانُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسی جگہ تشریف فرما تھے ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے ، اُس جگہ جنازے پاس سے گزرا کرتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واجب ہو گئی ، پھر لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے کہا: یہ سب سے بڑا جھوٹا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا وہ شخص ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اور پھر اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے جسم میں موجود روح کے حوالے سے جھوٹ بولتے ہیں ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرتے ہیں ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ولید شنی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور یحیی القطان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 54/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 230»
حدیث نمبر: 665
وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : لَقِيتُ سَلَمَةَ بْنَ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَنِي بِهِ ، فَرَجَعَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُكَذِّبَ صَاحِبَكَ فَلَقِّنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حماد بن زید بیان کرتے ہیں : میری ملاقات مسلمہ بن علقمہ سے ہوئی ، اُنہوں نے مجھے یہ روایت بیان کی ، پھر اُنہوں نے اس سے رجوع کیا اور پھر بولے : جب تم یہ ارادہ کرو کہ اپنے ساتھی کی تکذیب کرو ! تو اُس کو اس کی تلقین کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 2637 اورده المؤلف فى المقصد العلى 77»