کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا اور اس کی مانند دیگر فرامین کا تذکرہ
حدیث نمبر: 365
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ - أَوْ سَرَفٍ - وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُدْرِكُ بْنُ عُمَارَةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شراب پینے والا ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، کسی شرف والی چیز کو لوٹنے والا ، اس کو لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مدرک بن عمارہ ہے اس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور اس کے باقی رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 352/4 ، 353 اورده المؤلف فى زوائد المسند 143 اورده المؤلف فى كشف الأستار 111»
حدیث نمبر: 366
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ وَالْبَزَّارُ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي وَلَا يَسْرِقُ " فَقَطْ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُحَدِّثُ أَحْيَانًا بِالْحَدِيثِ الْمُنْكَرِ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ، چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، اور کسی شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا ، اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جبکہ امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام أحمد نے اس روایت میں سے صرف زنا کرنے اور چوری کرنے کا ذکر کیا ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جبکہ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی معلی بن مہدی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ شخص بعض اوقات منکر حدیث نقل کر دیتا ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 366
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 346/3 اورده المؤلف فى كشف الاستار 115 اورده المؤلف فى زوائد المسند 144»
حدیث نمبر: 367
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهُ مَرَّ رَجُلٌ قَدْ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ عَلَى بَابِهَا ، فَقَالَتْ : أَيُّ شَيْءٍ هَذَا ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ أَخَذَ سَكْرَانًا فَضَرَبَ . فَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ - يَعْنِي الْخَمْرَ - وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ اُن کے دروازے کے پاس سے ، ایک ایسا شخص گزرا ، کہ شراب نوشی کی وجہ سے اُس کی پٹائی کی گئی تھی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ تو میں نے بتایا : یہ ایک ایسا شخص ہے ، اس کو نشے کے عالم میں پکڑا گیا ، تو اُس کی پٹائی کی گئی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : سبحان اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” شراب پینے والا کوئی بھی شخص ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد ، خمر تھی ، زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شرف والی ایسی چیز جس کی طرف لوگ نگاہیں اُٹھا کے دیکھتے ہوں ، اُس کو لوٹ لینے والا شخص اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، تو تم لوگ بچ کے رہو ! تم لوگ بچ کے رہو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 139/6 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1231 اورده المؤلف فى زوائد المسند 145 اورده المؤلف فى كشف الاستار 112»
حدیث نمبر: 368
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يُشْرِفُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ، چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، اور جس چیز کو لوگ دیکھ رہے ہوں ، اُسے لوٹ لینے والا ، اسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 368
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف۔
حدیث نمبر: 369
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " يَخْرُجُ الْإِيمَانُ مِنْهُ ، فَإِنْ تَابَ رَجَعَ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ لِسُوءِ حِفْظِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا اُسے پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان اس شخص میں سے نکل جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کر لے ، تو ایمان اُس کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اُس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ، اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 369
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 534 اورده المؤلف كشف الاستار 114»
حدیث نمبر: 370
وَعَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ زَنَى خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
شریک نے ، ایک صحابی کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جو شخص زنا کرتا ہے ، ایمان اس میں سے نکل جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 370
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7224»
حدیث نمبر: 371
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ، چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، اور شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا ، اُسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ اور دوسری کتاب میں ، اختصار کے ساتھ منقول ہے ، سیدنا ابوہریرہ سے منقول روایت بھی اس کی مانند ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13304 اورده المؤلف فى كشف الاستار 115»
حدیث نمبر: 372
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الرَّجُلُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَنْ زَنَى فَقَدْ كَفَرَ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْهِمَ أَحَادِيثَ الرُّخَصِ ، لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ : أَنَّ ذَلِكَ الزِّنَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنْ آمَنَ بِهِ أَنَّهُ لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِتِلْكَ السَّرِقَةِ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنْ آمَنَ بِهَا أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنْ شَرِبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنِ انْتَهَبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ كَذَّابٌ لَا تَحِلُّ الرِّوَايَةُ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر دیکھا ، وہ فرما رہے تھے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، ایسی چیز ، جس کی طرف لوگ نگاہ اُٹھا کر دیکھ رہے ہوں ، اُسے لوٹ لینے والا اُس کو لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا اور شراب پینے والا شخص ، مؤمن نہیں رہتا ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اور بولا: امیرالمؤمنین ! جو شخص زنا کا ارتکاب کرتا ہے ، کیا وہ کافر ہو جاتا ہے ؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم رخصت والی احادیث کو مبہم رکھیں ، زنا کرنے والا شخص مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے ، کہ وہ یہ ایمان رکھتا ہو کہ یہ زنا اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ زنا اُس کے لئے حلال ہے ، تو وہ شخص کافر ہو جائے گا ، چوری کرنے والا مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس چوری کے بارے میں یہ ایمان رکھتا ہو کہ وہ اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ اس بات پر ایمان رکھے کہ وہ چوری اُس کے لئے حلال ہے ، تو وہ شخص کافر ہو جائے گا ، شراب پینے والا ، شراب پیتے ہوئے ، مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ شراب اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ شخص اس شراب کو ایسی حالت میں پیتا ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ شراب اُس کے لئے ہلال ہے ، تو ایسا شخص کافر ہو جائے گا ، شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا شخص ، اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ چیز اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ یہ ایمان رکھتے ہوئے اس چیز کو اچک لیتا ہے کہ وہ چیز اس کے لئے حلال ہے ، تو ایسا شخص کافر ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، جو کذاب ہے ، اُس سے روایت کرنا جائز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 372
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 50/2»
حدیث نمبر: 373
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَسْرِقُ السَّارِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، الْإِيمَانُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهِ : " الْإِيمَانُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْرَائِيلُ الْمُلَائِيُّ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . قُلْتُ : وَيَأْتِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” چوری کرنے والا ، چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، ایمان ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، اس سے زیادہ معزز ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : - ” ایمان ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسرائیل ملائی ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 373
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 116»
حدیث نمبر: 374
وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . فَأَدَارَ دَارَةً وَاسِعَةً فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ أَدَارَ فِي وَسَطِ الدَّارَةِ دَارَةً ، فَقَالَ : الدَّارَةُ الْأُولَى الْإِسْلَامُ ، وَالدَّارَةُ الَّتِي فِي وَسَطِ الدَّارَةِ الْإِيمَانُ ، فَإِذَا زَنَى خَرَجَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَلَا يُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا الشِّرْكُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ . ¤
محمد محی الدین
فضل بن یسار بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن علی ( شاید اس سے مراد ، امام باقر ہیں ) کو سنا ، اُن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا گیا : زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ، چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، تو محمد بن علی نے زمین پر ایک بڑا دائرہ بنایا ، پھر اس کے درمیان میں ایک اور دائرہ بنایا ، اور پھر یہ فرمایا : پہلے والا دائرہ اسلام ہے اور درمیان والا دائرہ ، ایمان ہے ، جب کوئی شخص زنا کرتا ہے ، تو وہ ایمان سے نکل کر اسلام کی طرف چلا جاتا ہے ، لیکن شرک کے علاوہ اور کوئی چیز اسے اسلام سے باہر نہیں کرتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن یسار ہے ، جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 117»