حدیث نمبر: 353
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْمَرْوَةِ فَتَحَدَّثَا ، ثُمَّ مَضَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَبَقِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَبْكِي ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : هَذَا - يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو - وَزَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مروہ پہاڑی پر ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی ، یہ دونوں حضرات آپس میں بات چیت کرتے رہے ، پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہیں رک کر رونے لگے ، ایک شخص نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : انہوں نے ( اُن کی مراد سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ) یہ بات بیان کی ہے : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے دل میں دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا ، اللہ تعالیٰ اُسے اوندھے منہ جہنم میں داخل کر دے گا“
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 354
وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عِنْدَ أَحْمَدَ صَحِيحَةٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ " . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی نقل کردہ ایک اور صیح روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا “ ۔
حدیث نمبر: 355
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ - تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَشْتَهِيهِ ، حَتَّى إِنِّي لَأُحِبُّهُ فِي عَلَاقَةِ سَوْطِي ، وَفِي شِرَاكِ نَعْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ ذَاكَ الْكِبْرُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرٌ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اُس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر موجود ہو ، تو وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا ، اور وہ اُسے ( جنت کو ) دیکھ بھی نہیں سکے گا ۔ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابوریحانہ تھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جمال کو پسند کرتا ہوں ، اور اس کا خواہش مند ہوتا ہوں ، یہاں تک کہ مجھے یہ بات بھی پسند ہے کہ میرے کوڑے کے لٹکانے کی جگہ ، اور میرے جوتے کا تسمہ بھی عمدہ ہونا چاہیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ چیز تکبر نہیں ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، تکبر یہ ہے کہ آدمی حق سے منہ موڑ لے ، اور لوگوں کو اپنی نظروں میں حقیر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ، اس نے اسے ایک ایسے شخص کے حوالے سے نقل کیا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ، اس نے اسے ایک ایسے شخص کے حوالے سے نقل کیا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 356
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ أَوِ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص خود کو عظیم سمجھتا ہے ، یا تکبر کے ساتھ چلتا ہے ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اُس پر غضبناک ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 357
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ شَدِيدُ الضَّعْفِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر مصیصی ہے جو انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر مصیصی ہے جو انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 358
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا ، وَكَيْفَ لَنَا أَنْ نَعْلَمَ مَا فِي قُلُوبِنَا مِنْ ذَاتِ الْكِبْرِ ؟ وَأَيْنَ هُوَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ الصُّوفَ أَوْ حَلَبَ الشَّاةَ أَوْ أَكَلَ مَعَ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ - فَلَيْسَ فِي قَلْبِهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - الْكِبْرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تو بلاکت کا شکار ہو گئے ، ہمیں یہ کیسے پتہ چل سکتا ہے ؟ کہ ہمارے دل میں تکبر نہیں ہے ، اور کہاں ہو سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اونی لباس پہنے ، یا بکری کا دودھ دوہے ، یا اپنے غلام کے ساتھ کھائے ، تو ان شاء اللہ اُس کے دل میں تکبر نہیں آئے گا “۔
اس روایت کو امام طبرانی نے ” معجم کبیر “ میں نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جو انتہائی منکر الحدیث ہے ۔
اس روایت کو امام طبرانی نے ” معجم کبیر “ میں نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جو انتہائی منکر الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 359
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : الْعِزُّ إِزَارِي ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي فِيهِ عَذَّبْتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالِدُ أَبِي أَحْمَدَ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : عزت ( یا غلبہ ) میرا تہبند ہے ، اور کبریائی ، میری چادر ہے ، جو شخص اس کے بارے میں ، میرا مقابلہ کرے گا ، میں اُسے عذاب دوں گا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زبیر ہے ، جو ابو أحمد نامی راوی کا والد ہے ، اس کو امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زبیر ہے ، جو ابو أحمد نامی راوی کا والد ہے ، اس کو امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 360
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ ، فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ ، وَإِزَارَهُ الْعِزُّ ، وَرَجُلٌ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مُطَوَّلًا ، وَيَأْتِي فِي بَابِ الْكَبَائِرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین قسم کے لوگوں سے سوال نہیں ہو گا ، ایک وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اُس سے جھگڑا کرتا ہے ، بے شک اس کی چادر کی بڑائی ہے ، اور اس کا تہبند غلبہ ہے ، ایک وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے ، اور اُس کی رحمت سے مایوس ہونے والا شخص “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، وہ روایت کبائر سے متعلق باب میں ، آگے آئے گی ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، وہ روایت کبائر سے متعلق باب میں ، آگے آئے گی ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 361
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ مَرَّ فِي السُّوقِ وَعَلَيْهِ حُزْمَةٌ مِنْ حَطَبٍ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَقَدْ أَغْنَاكَ اللَّهُ عَنْ هَذَا ؟ قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَدْمَغَ الْكِبْرَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ مِنْ كِبْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ بازار سے گزرے ، تو انہوں نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا ہوا تھا ، اُن سے دریافت کیا گیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے نیاز کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تکبر کو کچل دوں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی جتنا تکبر موجود ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 362
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخِذًا بِيَدِ أَبِي مُوسَى فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَأَتَى عَلَى سَائِلَةٍ فِي ظَهْرِ الطَّرِيقِ تَسْفِي الرِّيَاحُ فِي وَجْهِهَا ، فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى : تَنَحِّي عَنْ سَنَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ لَهُ : هَذَا الطَّرِيقُ لَهُ مَعْرَضًا ، فَلْيَأْخُذْ حَيْثُ شَاءَ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي مُوسَى حَتَّى كَبَا لِذَلِكَ ، وَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، اشْتَدَّ عَلَيْكَ مَا قَالَتْ هَذِهِ السَّائِلَةُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ حِينَ اسْتَخَفَّتْ بِمَا قُلْتُ لَهَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : " لَا تُكَلِّمْهَا فَإِنَّهَا جَبَّارَةٌ " ، فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، مَا هَذِهِ فَتَكُونُ جَبَّارَةً ؟ فَقَالَ : " إِنْ لَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي قُدْرَتِهَا فَإِنَّهُ فِي قَلْبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِلَالُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : ” ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی گلی سے گزرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہ اس دوران راستے میں ایک مانگنے والی سامنے آ گئی ، جس کا حال انتہائی برا تھا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے اُس عورت سے کہا: تم اللہ کے رسول کے راستے سے ہٹ جاؤ ! اس عورت نے کہا: یہ راستہ کشادہ ہے ، وہ جس طرف سے چاہیں ( راستہ ) لے سکتے ہیں ، یہ بات سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بہت ناگوار گزری ، قریب تھا کہ وہ اُس عورت کی پٹائی کرتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے چہرے سے ، اُن کی ناگواری کا اندازہ ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! اس مانگنے والی عورت نے جو کہا: ہے ، ( کیا ) وہ تم پر گراں گزرا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ ، آپ پر قربان ہوں ! میں نے اللہ کے رسول کے معاملے کے بارے میں ، اس عورت کو جو کہا: تھا جب اس نے اس بات کی تخفیف کی ، تو یہ بات مجھ پر گراں گزری ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کے ساتھ کام نہ کرو ! کیونکہ یہ تکبر کرنے والی ہے ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ قربان ہوں ، یہ کیسے تکبر کرنے والی ہو سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ چیز اگرچہ اس کی قدرت میں نہیں ہے ، لیکن یہ چیز اس کے دل میں پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بلال بن ابوبردہ ہے ۔
یہ روایت منقول ہے : ” ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی گلی سے گزرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہ اس دوران راستے میں ایک مانگنے والی سامنے آ گئی ، جس کا حال انتہائی برا تھا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے اُس عورت سے کہا: تم اللہ کے رسول کے راستے سے ہٹ جاؤ ! اس عورت نے کہا: یہ راستہ کشادہ ہے ، وہ جس طرف سے چاہیں ( راستہ ) لے سکتے ہیں ، یہ بات سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بہت ناگوار گزری ، قریب تھا کہ وہ اُس عورت کی پٹائی کرتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے چہرے سے ، اُن کی ناگواری کا اندازہ ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! اس مانگنے والی عورت نے جو کہا: ہے ، ( کیا ) وہ تم پر گراں گزرا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ ، آپ پر قربان ہوں ! میں نے اللہ کے رسول کے معاملے کے بارے میں ، اس عورت کو جو کہا: تھا جب اس نے اس بات کی تخفیف کی ، تو یہ بات مجھ پر گراں گزری ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کے ساتھ کام نہ کرو ! کیونکہ یہ تکبر کرنے والی ہے ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ قربان ہوں ، یہ کیسے تکبر کرنے والی ہو سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ چیز اگرچہ اس کی قدرت میں نہیں ہے ، لیکن یہ چیز اس کے دل میں پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بلال بن ابوبردہ ہے ۔
حدیث نمبر: 363
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَرِيقٍ ، وَمَرَّتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَ لَهَا رَجُلٌ : الطَّرِيقَ ، فَقَالَتْ : الطَّرِيقُ ثَمَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا جَبَّارَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَرَمَاهُ بِالْكَذِبِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَضَعَّفَهُ بِرَاوٍ آخَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی راستے سے گزر رہے تھے ، وہاں سے ایک سیاہ فام عورت بھی گزر رہی تھی ، ایک صاحب نے اُس سے کہا: راستہ دے دو ! اُس عورت نے کہا: راستہ موجود تو ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ تکبر کا شکار ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، امام أحمد نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اُس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ، یہی روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اور ایک اور راوی کے حوالے سے ، اُنہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، امام أحمد نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اُس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ، یہی روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اور ایک اور راوی کے حوالے سے ، اُنہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 364
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلٌ يَنْظُرُ هَلْ فِي الطَّرِيقِ شَيْءٌ يَكْرَهُهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُمِيطُهُ ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ عَجُوزٍ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي تَرْجَمَةِ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَالَّذِي قَبْلَهُ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي مُوسَى ، فَلَا أَدْرِي أَحَالَهُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ایک شخص جا رہا تھا ، وہ اس بات کا جائزہ لے رہا تھا ، کہ راستے میں کوئی ایسی چیز نہ ہو ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہو ، اور اگر ہو ، تو وہ اسے ہٹا دے ، اسی دوران ایک بوڑھی عورت سامنے آئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی گئی ہے ، اور اس سے پہلے والی روایت سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی گئی ہے ، مجھے یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ اصل میں کس سے منقول ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی گئی ہے ، اور اس سے پہلے والی روایت سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی گئی ہے ، مجھے یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ اصل میں کس سے منقول ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔