کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ریا کاری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 375
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ " . قَالَ : وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الرِّيَاءُ ، يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِذَا جَزَى النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ : اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا ، هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الرِّيَاءِ فِي الزُّهْدِ وَنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگوں کے بارے میں ، مجھے سب سے زیادہ اندیشہ چھوٹے شرک کا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! چھوٹے شرک سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ریاکاری ، جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ) تو ریاکاری کرنے والوں سے فرمائے گا : ) تم لوگ ان کی طرف چلے جاؤ ! جن کے لیے تم دنیا میں دکھاوا کرتے تھے ، اور تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا تمہیں اُن کے پاس کوئی جزا ملتی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہیں ، ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ریاکاری سے متعلق باقی احادیث ، زہد اور اس کی مانند ( دیگر امور سے متعلق ابواب ) میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 375
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 428/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 150»